فیصل آباد میں صوبائی اسمبلی کے تمام حلقے تبدیل‘ متعدد اپ سیٹ متوقع


فیصل آباد(احمد یٰسین)نئی حلقہ بندیوں کے بعد فیصل آباد ضلع اور شہر میں صوبائی اسمبلی کے تمام حلقے تبدیل ہوگئے ہیں۔ ضلع بھر کے 21صوبائی حلقوں میں سے کوئی ایک بھی حلقہ ایسا نہیں ہے جو 2013کے الیکشن کی حلقہ بندیوں کیساتھ 70فیصد تک بھی مماثلت رکھتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے متعدد اپ سیٹ ہونے اور کئی برج الٹ جانے کی توقع کی جارہی ہے۔نیوزلائن کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے بعد فیصل آباد میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہوگئی ہے۔ حلقوں کے نمبر ہی نہیں ان کے علاقوں میں بھی نمایاں فرق آیا ہے۔اور کوئی ایک بھی حلقہ ایسا نہیں ہے جو گزشتہ الیکشن کی حلقہ بندیوں کیساتھ 70فیصد تک بھی مماثلت رکھتا ہو۔ بڑے پیمانے پر حلقوں میں تبدیلیوں نے سیاسی رہنماؤں کو چکرا دیا ہے۔فیصل آباد کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پہلے پی پی 51سے شروع ہوتے تھے اورفیصل آباد میں آخری حلقہ پی پی 72ہوتا تھا۔ نئی حلقہ بندیوں میں حلقے 22سے کم ہو کر 21کر دئیے گئے ہیں۔اور ان کے نمبر تبدیل کرکے پی پی 97سے پی پی 117تک کردئے گئے ہیں۔ پی پی 97سے متوقع امیدوار آزاد علی تبسم کے علاوہ مسلم لیگ ن کا کوئی موجود رکن اسمبلی اپنے حلقے میں تبدیلی کے بعد مطمئن نہیں ہے اور ہر کسی کو حلقہ میں تبدیلی خدشات کا شکار کئے ہوئے ہے۔ ن لیگ کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد‘ وائس چیئرمین پی ایچ اے حاجی خالد سعید‘رانا شعیب ادریس‘ جعفر علی ہوچہ‘ نعیم اللہ گل‘ راؤ کاشف‘ رائے حیدر‘ عارف گل‘ ظفراقبال ناگرہ‘ فقیر حسین ڈوگر حلقہ بندیوں کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہ لینے پر غور کررہے ہیں۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں ایک طرف تو اپنے صوبائی حلقے میں سے چوہدری شیر علی کے اثرورسوخ والے علاقے سرسید ٹاؤن‘ ناظم آباد‘ خالد آباد‘ مومن آباد‘ غریب آباد کے نکل جانے سے خوش ہیں تو دوسری جانب انہیں میاں طاہر جمیل کے حلقے کے متعدد علاقے اپنے حلقے میں شامل کئے جانے پر پریشانی بھی ہے۔ مئیر فیصل آباد رزاق ملک کے بھائی رکن پنجاب اسمبلی نواز ملک تو اپنے حلقے میں بہت زیادہ تبدیلیوں سے اتنے پریشان ہیں کہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے سے دستبردار ہو رہے ہیں اور ایم این اے کے امیدوار بن کر سامنے آرہے ہیں۔حلقہ بندیوں میں نمایاں اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے کئی اپ سیٹ ہونے کا امکان ہے۔ کئی برج الٹیں گے اور متعدد نئے چہرے انتخابی سیاست میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حلقہ بندیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کو پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ حلقے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کیلئے بھی اتنے موافق نہیں ہیں۔

Related posts