جی سی یونیورسٹی فیصل آباد :’’ڈائنامک لیڈر شپ‘‘ کا انوکھا فراڈ


فیصل آباد(ندیم جاوید)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائنامک لیڈر شپ کا حکومت کیساتھ انوکھا فراڈ سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی کی’’ڈائنامک لیڈر شپ‘‘ نے جامعہ کے ٹوبہ کیمپس کیلئے یکے بعد دیگرے 2پی سی ون تیار کئے اور دونوں منطور بھی کروا لئے۔پہلے کیمپس میں لوٹ مار کے چانس کم تھے تو اسی رقبے پر انہی تعمیرات کا 32کروڑ روپے زائد کا پی سی ون تیار کیا گیا اور اسے منظور کروا لیا۔ ماہرین اسے تعمیرات شروع ہونے سے بھی پہلے کرپشن کی بنیاد رکھنا قرار دے رہے ہیں ۔ یونیورسٹی کے ترجمان اس انوکھے فراڈ پر خاموشی اختیار کئے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی ’’ڈائنامک لیڈر شپ ‘‘کا کہنا ہے کہ ایسا پنجاب حکومت کے چند بڑوں کے حکم پر کیا گیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنا کیمپس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹوبہ کیمپس کی تعمیر کیلئے پی سی ون کی تیاری کی ذمہ داری بھی جی سی یونیورسٹی کی ڈائنامک لیڈر شپ کو ہی سونپ دی گئی۔جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حق نواز انور اور پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجازالحسن سے پی سی ون تیار کروایااور1000.48ملین روپے کے اس منصوبے کو اپنے دستخطوں کیساتھ منظور کر کے وائس چانسلر نے پنجاب حکومت کو بھجوا دیا۔پنجاب حکومت کے ذمہ داران نے بھی اس پی سی ون کی منظوری دیدی اور پی سی ون کو منظور شدہ پراجیکٹس میں شامل کر لیا گیا۔ بعد ازاں اچانک جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائنامک لیڈر شپ کی طرف سے ایک نیا پی سی ون تیار کر کے پنجاب حکومت کو بھجوا دیا گیا۔ دوسرے پی سی ون کو بھی منظور کرکے منظور شدہ منصوبوں کی زینت بنا دیا گیا۔ نئے پی سی ون میں اسی کیمپس میں اتنے ہی رقبے پر اتنی ہی تعمیرات کا تخمینہ 1319.80ملین روپے لگایا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق نئے پی سی ون میں متعدد تعمیرات میں کمی کی گئی ہے مگر اخراجات میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے جو کہ ٹیکنیکل فراڈ کیا گیا ہے۔ نیا پی سی ون بھی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کے حکم پر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حق نواز انور اور پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجازالحسن نے تیار کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اپنے دستخطوں کیساتھ پنجاب حکومت کے ذمہ داران کو بھجوایا۔نئے پی سی ون میں مجموعی لاگت میں 31کروڑ93لاکھ 20ہزار روپے زائد لاگت ظاہر کی گئی ہے ۔ جبکہ متعدد تعمیرات کم کرکے مجموعی طور پر 50کروڑ روپے کے لگ بھگ زائد اخراجات لگائے گئے ہیں۔دونوں پی سی ون میں نمایاں فرق ہونے کی وجہ سے جی سی یونیورسٹی کی ’’ڈائنامک لیڈر شپ‘‘ دونوں پی سی ون کو خفیہ رکھنے کے چکر میں ہے۔ کسی کو اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جا رہی۔اس حوالے سے رابطہ کرنے کے باوجود جی سی یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق نے کوئی جواب دینا گوارانہ کیا۔اس اہم معاملے پر یونیورسٹی کا باضابطہ مؤقف دینے کی تحریری درخواست کے باوجود ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق نے کوئی جواب نہ دیا۔ رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے اہم ذمہ داران کے حکم پر دوسرا پی سی ون انکے احکامات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں اخراجات کا اضافہ پنجاب حکومت کے بعض اعلیٰ حکام کی ہدایات پر کیا گیاہے۔ ہم نے ازخود اس میں اضافہ نہیں کیا۔

Related posts