جی سی یونیورسٹی کی ’’ڈائنامک لیڈر شپ‘‘ کا فراڈ کیساتھ مسلسل جھوٹ


فیصل آباد(ندیم جاوید)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائنامک لیڈر شپ پنجاب حکومت اور عوام کیساتھ کئے گئے انوکھے فراڈ کو چھپانے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولنے ۔ جھوٹ کے سہارا بھی ان کی پردہ پوشی میں ناکام ‘ وائس چانسلر سمیت ہر عہدیدار اپنی نئی کہانی سنانے میں مگن ہے اور سچی بات سے انکاری ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا سب کیمپس بنانے کا منصوبہ بنایا جس کیلئے جی سی یونیورسٹی کی ڈائنامک لیڈر شپ کو پی سی ون تیار کرنے کا کہا گیا۔ ڈائنا مک لیڈر شپ نے ایک پی سی ون تیار کرکے حکومت کو بھجوا دیا جسے منظور کربھی کرلیا گیا۔ مگر پھر اچانک ایک نیا پی سی ون سامنے آگیا دونوں پی سی ون میں 50کروڑ روپے کا فرق تھا۔دوسرے پی سی ون میں پہلے پی سی ون کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے ریوائزڈ پی سی ون کا درجہ دیا گیا بلکہ دوسرے پی سی ون کو ایسے ظاہر کیا گیا جیسے یہ پہلا ہی ہے ۔ پنجاب حکومت کے ذمہ داران نے دوسرا پی سی ون بھی منظور کرلیا۔’’نیوزلائن‘‘ جی سی یونیورسٹی کے اس انوکھے فراڈ کو سامنے لایا تو یونیورسٹی کی ڈائنامک لیڈر شپ نے انوکھے فراڈ کو چھپانے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولنا شروع کردیا۔ دوپی سی ون منظور کروائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تو نیوزلائن نے جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک تحریری درخواست دی اور پی سی ون کی نقول دئیے جانے کی استدعا کی ۔جو جامعہ کے فوکل پرسن آصف لطیف نے وصول کی اوراس کا تحریری جواب دیا کہ تحریری درخواست کو سمجھ نہیں سکے آپ خود آکر اس کی وضاحت کردیں۔ نمائندہ نیوزلائن متعدد مرتبہ آصف لطیف کی خدمت میں حاضر ہوامگر ہر مرتبہ ہی آصف لطیف کے بقول یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حق نواز انور اور پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجازالحسن نے ان کی کال کا جواب نہیں دیا ۔یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق کا اس انوکھے فراڈ کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ معمول کا کام ہے۔ پی سی ون ریوائز ہوتے رہتے ہیں۔ پی سی ون میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ مگر دو دو پی سی ون تیار کرنے کے سوال کا جواب دینے سے انہوں نے احتراز کیا۔اس حوالے سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کامؤقف بالکل ہی الگ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے اہم ذمہ داران کے حکم پر دوسرا پی سی ون انکے احکامات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں اخراجات کا اضافہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام کی ہدایات سے ہی ہوا ہے۔ ہم نے ازخود اس میں اضافہ نہیں کیا۔بعد ازاں یونیورسٹی کے فوکل پرسن آصف لطیف نے نمائندہ نیوزلائن کو ایک لیٹر جاری کیا۔ اس لیٹر میں ان کا کہنا تھا کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ٹوبہ کیمپس کا پی سی ون ابھی منظور ہی نہیں ہوا۔ اپریل 2018میں جاری کئے گئے اس لیٹر میں پی سی ون منظور نہ ہونے کا مؤقف اپناتے ہوئے آصف لطیف یہ بھول گئے کہ پی سی ون 2017میں ہی منظور ہو چکا تھا اور اس کیلئے جون 2017میں منظور کئے گئے بجٹ میں پنجاب حکومت فنڈز بھی مختص کرچکی ہے۔ اس کیساتھ ہی پنجاب حکومت نے سال 2017میں ہی اس منصوبے کو اپنے پنج سالہ منصوبے میں بھی شامل کر لیا تھا۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ٹوبہ کیمپس کے منصوبے کی پنجاب کابینہ بھی منظوری دے چکی ہے اور یہ منصوبہ ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے منظور شدہ منصوبوں میں شامل کرلیا گیا تھا۔جون 2017میں منظور کئے گئے بجٹ میں جی سی یونیورسٹی کے ٹوبہ کیمپس کو سالانہ ترقیاتی منصوبے میں سیریل نمبر1397کے ساتھ شامل کیا گیا اور پنجاب کابینہ نے اس کی باضابطہ منظوری بھی دی ہے۔یونیورسٹی کی ڈائنامک لیڈر شپ اپنے دو پی سی ون تیار کرکے منظور کروانے کے انوکھے فراڈ کو چھپانے کیلئے مسلسل جھوٹ کا سہارا لئے ہوئے ہے اور یہ سامنے آنے پر کہ دوسرا مہنگا پی سی ون پنجاب حکومت کے چند بڑوں کے حکم پر تیار کیا گیا ‘ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔نیوزلائن کے مطابق پہلا پی سی ون 1000ملین کا تھا جبکہ دوسرا پی سی ون اچانک سامنے آیا جو کہ 1300ملین سے زائد کا تھا جبکہ پنجاب حکومت نے کرپشن کا مزید مارجن رکھتے ہوئے پنج سالہ منصوبے میں اسے 1500ملین کا ظاہر کر کے رکھ لیا۔نیوزلائن کے مطابق غیرقانونی طور پر دونوں پی سی ون کی تیاری اور منظور ی میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی‘ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حق نواز انور‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر اعجازالحسن ‘ چیئرمین پنجاب ایچ ای سی ‘سیکرٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا کردار مرکزی رہا اورپی سی ون میں لاگت کے فرق کیساتھ منظور کروانے جیسے معاملات انہوں نے ہی طے کئے۔سیکرٹری فنانس اور وزیر فنانس نے منصوبے کو زائد نرخوں کیساتھ سالانہ ترقیاتی منصوبے اور پنج سالہ منصوبے میں شامل کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Related posts