پولیس وی آئی پیز کیلئے مختص:عوام کیلئے پرائیویٹ گارڈز لازمی قرار


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد پولیس نے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری سے مکمل کنارہ کشی کر لی ہے اور صرف وی وی آئی پیز اور وی آئی پیز کی سکیورٹی کا فریضہ پورا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔فیصل آباد پولیس عوام کی حفاظت میں ناکامی کے بعد عوام کو اپنی حفاظت کیلئے پرائیویٹ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد پولیس نے عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے اپنے فریضے سے مکمل کنارہ کشی کرلی ہے۔ فیصل آباد پولیس اس معاملے میں طویل عرصے سے مسلسل ناکام ہے اور شہر میں کرائم گراف بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس ایک کام انتہائی تندہی سے کر رہی ہے اور وہ وی آئی پیز اور وی وی آئی پیز کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔سیاسی شخصیات اور ’’وڈے افسروں‘‘کے لئے پولیس کی بھاری نفری ہر وقت موجود رہتی ہے مگر عوام کی سکیورٹی کیلئے نفری ملتی اور نہ پولیس ایسا کرنا چاہتی ہے۔پولیس کرائم پر قابو پانے میں اپنی ناکامیوں اور وی آئی پیز کے پیچھے بھاگنے اور انکے ہاتھوں ذلت اٹھانے کا غصہ عام آدمی پر اتارتی ہے ۔ پولیس نے پہلے بنکوں کو اپنی سکیورٹی سے آزاد کیا اور انہیں پرائیویٹ گاڈز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ بنکوں کے بعد ہوٹلوں‘ شادی ہالز اور بازاروں و مارکیٹس کی سکیورٹی سے بھی پولیس نے انکار کردیا اور انہیں بھی پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کے رحم و کرم پر ڈال دیا۔ سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں تک کی سکیورٹی سے پولیس کنارہ کش ہو چکی ہے اور اب پولیس نے چھوٹے دکانداروں‘ کریانہ فروشوں‘ گلی ‘محلوں کی سکیورٹی سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ رہائشی علاقوں کے لوگوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی گارڈز رکھ لیں ۔چھوٹے چھوٹے سکولوں کو بھی حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کیلئے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز رکھیں۔ پولیس حکام واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں اپنی سکیورٹی کیلئے پرائیویٹ گارڈز کی خدمات حاصل کریں پولیس ان کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔اب تو فیصل آباد پولیس نے کریانہ فروشوں‘ گلی محلوں میں بنے چھوٹے چھوٹے سٹورز کیخلاف بھی پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز نہ رکھنے کے مقدمات درج کرنا شروع کردئیے ہیں۔اس صورتحال پر سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے۔سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ عوام کی سکیورٹی کی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتی تو پولیس کا محکمہ ہی ختم کردیا جائے۔ تھانوں کی شاپنگ سنٹرزبنا کر حکومت مال بنائے ۔پولیس اہلکاروں کو وی آئی پیز کی سکیورٹی کی فورس میں ٹرانسفر کردیا جائے۔ عوام کو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کی عادت تو پولیس اور حکمرانوں نے خود ہی ڈال دی ہے تو انہیں صرف پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز تک ہی محدود رہنے دیا جائے۔

Related posts