زرعی یونیورسٹی میں موجودہ و سابق وی سی کیلئے الگ الگ قانون


فیصل آباد(احمدیٰسین)تیرا قانون کوئی اور ہے‘ میرا قانون کوئی اور۔کے مصداق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے رشتہ دار وائس چانسلر اور ان کی جگہ تعینات ہونے والے قائمقام وائس چانسلر کیلئے الگ الگ قانون بنا دیا گیا۔سابق وائس چانسلر رانا اقرار کے سامنے تمام فیکلٹی بچھ بچھ جاتی تھی تو نئے وی سی کو کوئی لفٹ کرانے کو تیار نہیں۔ سابق وائس چانسلر کی سہولت کیلئے قوانین کو موم کی ناک بنا دیا گیا اور ہر قانونی معاملے کو رانا اقرار کی مرضی کے مطابق بدل دیا جاتا تھا مگر نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کیلئے ہر قانون پتھر کی لکیر بن گیا۔ جامعہ زرعیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کے سامنے یونیورسٹی کا رجسٹرار محمد حسین ہی اکڑ گیا۔ رجسٹرار نے و ی سی کے مسلسل احکامات کے باوجود سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا۔ 9ماہ سے سینڈیکیٹ کا ایک بھی اجلاس نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے بہت سے مالی اور انتظامی معاملات رکے ہوئے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق ڈاکٹر ظفر اقبال کے قائمقام وائس چانسلر تعینات ہونے کے بعد سے جامعہ زرعیہ کی سینڈیکیٹ کا ایک بھی اجلاس نہیں ہو سکا۔اور یونیورسٹی کے انتظامی اور خاص طور پر مالیاتی معاملات چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وی سی ڈاکٹر ظفر اقبال متعدد مرتبہ سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کا حکم دے چکے ہی مگر 9ماہ سے جامعہ کا رجسٹرار محمد حسین سینڈیکیٹ اجلاس بلانے کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وی سی کے مسلسل احکامات کے باوجود انہیں ایک ہی بین سنائی جارہی ہے کہ قائمقام وی سی سینڈیکیٹ کا اجلاس نہیں بلا سکتے ۔’’رانا اقرار قائمقام وی سی ہونے کے باوجود اجلاس بلا تے تھے اس وقت یہ پابندی کیوں نہیں تھی‘‘۔ اس سوال کا رجسٹرار سمیت کوئی بھی جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔نیوزلائن کے مطابق سابق وی سی رانا اقرار قائمقام تعیناتی کے دوران بھی سینڈیکیٹ کے اجلاس بھی خود بلاتے تھے اور تمام فیصلے اپنی مرضی کے کرواتے رہے ہیں۔ رانا اقرار فیصل آباد کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی سینڈیکیٹ کے اجلاس بلاتے رہے ہیں اور اس کو چیئر کرتے رہے ہیں۔رانا اقرار کے دور میں سینڈیکیٹ کے اجلاسوں میں سینڈیکیٹ ممبران کے علاوہ غیرمتعلقہ لوگوں کو بھی سینڈیکیٹ اجلاسوں میں بلایا جا تا رہا اور متعدد معاملات میں غیرمتعلقہ لوگوں کی رائے مقدم جانی جاتی تھی۔جس دن اور جس وقت رانا اقرارکو قائمقام وی سی کے عہدے سے ہٹایا گیااس وقت بھی وہ لاہور میں سینڈیکیٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر اس کی قیادت کررہے تھے۔رانا اقرار کو ان کے ہٹائے جانے کا حکم نامہ بھی خصوصی اجلاس میں ہی پہنچایا گیا جس کے بعد ہی وہ وی سی کے اختیارات چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ان کے بعد قانون کی رو سے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کو قائمقام وی سی کا چارج دیدیا گیا۔ڈاکٹر ظفر اقبال کے قائمقام وی سی کا چارج سنبھالنے کے بعد سے رجسٹرار محمد حسین سمیت یونیورسٹی کا و ہ تمام عملہ ڈاکٹر ظفر اقبال سے عدم تعاون کا رویہ اپنائے ہوئے ہے جو رانا اقرار کے چہیتے سمجھے جاتے تھے۔9ماہ سے جامعہ زرعیہ کی سینڈیکیٹ کا اجلاس نہیں بلایا جا سکا جبکہ رپورٹس سے سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر ظفر اقبال اجلاس بلانے کا کئی بار حکم دے چکے ہیں مگر اس میں رجسٹرار محمد حسین سمیت بہت سے لوگ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر جلال عارف کا کہنا تھا کہ بعض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے سینڈیکیٹ کا اجلاس بلانے میں تاخیر ہوئی ہے ۔رانا اقرار کے قائمقام وی سی ہونے کے باوجود سینڈیکیٹ کے اجلاس مسلسل بلائے جاتے رہنے ‘ رانا اقرار اور ڈاکٹر ظفر قبال کیلئے الگ الگ قانون کیوں ہے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو یہ ان کے علم میں نہیں ہے۔

Related posts