سرکاری سرپرستی میں غیرقانونی آتش بازی کا شاندار مظاہرہ



فیصل آباد(ندیم جاوید)پابندی کے باوجود فیصل آباد میں سرکاری سرپرستی میںآتش بازی کا ہوشربا مظاہرہ‘ ڈپٹی کمشنر ‘ اعلیٰ پولیس افسران ‘ اور انتظامیہ کارروائی کرنے کی بجائے خود آتش بازی کے رنگوں سے محظوظ ہوتے رہے۔فیصل آباد پولیس نے بھی اقبال سٹیڈیم میں ہونیوالی آتش بازی کو سرکاری آتش بازی قرار دے کر کسی قسم کی کارروائی سے انکار کردیا۔نیوزلائن کے مطابق اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں پاکستان کرکٹ کپ کی اختتامی تقریب کے دوران آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر آتش بازی کے خوبصورت رنگ بکھیر کر شائقین کو محظوظ کیا گیا ۔ آتش بازی کا یہ مظاہرہ پی سی بی حکام اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران نے خود کیا۔ جبکہ اس کیلئے بہت بڑی تعداد میں آتش بازی غیرقانونی طریقے سے اقبال سٹیڈیم میں جمع کرنے کیلئے بھی سرکاری افسران اور سرکاری گاڑیوں کو استعمال کیا گیا۔ آتش بازی کا شاندار مظاہرہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سلمان غنی اور دیگر اعلیٰ انتظامی و پولیس افسران کی موجودگی میں کیا گیا ۔ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی بڑی تعداد اورتھانہ سول لائن کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری بھی اس موقع پر موجود تھی۔ خود عینی شاہد ہونے کے باوجود تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او نے آتش بازی روکنے کی کوشش کی نہ آتش بازی کرنے والوں کیخلاف کوئی ایکشن لیا۔آتش بازی کا سامان اوپن مارکیٹ میں میسر نہ ہونے کے باعث پی سی بی حکام نے بلیک مارکیٹ سے بھاری مقدار میں غیرقانونی طریقے سے آتش بازی کا سامان حاصل کیا جبکہ آتش بازی کے سامان کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث اس کیلئے سرکاری گاڑیاں استعمال کی گئیں تاکہ پولیس اس کی اقبال سٹیڈیم میں آمد روک نہ سکے۔ اس حوالے سے فیصل آباد کے سی پی او اطہر اسماعیل اور ڈپٹی کمشنر سلمان غنی سے مؤقف کیلئے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کسی قسم کا سرکاری مؤقف دینے کی زحمت نہ کی۔ فیصل آباد پولیس کے ترجمان عامر وحید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا کہ یہ سرکاری آتش بازی تھی۔ پابندی عام آدمی کیلئے ہے۔ سرکاری سرپرستی میں غیرقانونی کام بھی ہورہا ہو تو پولیس اس پر کچھ نہیں کر سکتی۔ سرکاری سرپرستی میں جتنی بھی آتش بازی ہو جائے پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔ عینی شاہد اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود پولیس اقبال سٹیڈیم میں ہونیوالی آتش بازی کیخلاف ایکشن لینے سے معذور ہے۔

Related posts