این اے 106: راناثناء اللہ کو جتوانے میں پی ٹی آئی کا کردار اہم


فیصل آباد (احمد یٰسین)فیصل آباد سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 106انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے ۔ یہاں سے مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ رانا ثناء اللہ کا قومی اسمبلی کا پہلا الیکشن ہو گا ۔ اس سے قبل وہ پی پی 70سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر رہے ہیں مگر قومی اسمبلی کا الیکشن پہلی بار لڑنے جا رہے ہیں۔ اس حلقے میں پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں آئیں گے جبکہ تحریک لبیک کا امیدوار بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے پروپیگنڈے کے برعکس فیصل آباد میں پیپلز پارٹی مضبوط پوزیشن میں نظر آرہی ہے ۔ اور این اے 106کی صورتحال دیکھیں تو پیپلز پارٹی انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری سعید اقبال ہوں گے اور وہ ابھی سے حلقے میں انتہائی سرگرم ہیں۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا ثناء اللہ بھی کسی حد تک کنفرم ہیں۔ پی ٹی آئی کی ٹکٹ فیصلہ کرے گی کہ عمران خان نے اس حلقے میں رانا ثناء اللہ کو جتوانا ہے یا اپنے امیدوار کو پی پی پی کے مقابل کھڑا کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے این اے 106سے دو انتہائی اہم امیدوار میدان میں ہیں۔ سابق صوبائی وزیر رانا آفتاب احمد خاں پی پی پی کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی میں آئے ہیں جبکہ سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار جٹ پی ایم ایل این کو چھوڑ کر کپتان کے ہم رکاب ہوئے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ انہی دونوں میں سے کسی ایک کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملے گا۔ این اے 106میں ٹکٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور دیگر سیاسی قیادت کی معاملہ فہمی اور ترجیحات کو بے نقاب کردے گا۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری سعید اقبال کو نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں ہیں۔ اور یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ اس حلقے میں بہترین امیدوار ہیں اور جس کا مقابلہ ہو گا انہی سے ہو گا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے ٹکٹ کا اعلان ہوتے ہی حلقے میں چوہدری سعید اقبال کے مقابلے کی شخصیت کا فیصلہ ہو جائے گا۔ سیاسی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی طرف سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ کا فیصلہ ثابت کرے گا کہ وہ رانا ثناء اللہ کوقومی اسمبلی کا الیکشن جتوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق اس حلقے میں مسلم لیگ ن چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آنیوالے ڈاکٹر نثار احمد جٹ انتہائی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ چوہدری الیاس جٹ کی وفات کے بعد حلقے میں ان کی وہ پوزیشن نہیں رہی جو پہلے تھی۔ حلقے کے عوام کی طرف سے ان کے پارٹی بدلنے کے فیصلے کو بھی پسند نہیں کیا جا رہا جبکہ پانچ سال حکومتی پارٹی میں ہونے کے باوجود اپوزیشن جیسے ماحول میں رہنے سے ڈاکٹر نثار جٹ کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔عمرا خان کی طرف سے ڈاکٹر نثار جٹ کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دئیے جانے کو سیاسی حلقے رانا ثناء اللہ کو الیکشن میں مضبوط کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر نثار جٹ کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ مل گیا تو مقابلہ چوہدری سعید اقبال اور رانا ثناء اللہ میں ہوگا۔ دوسری طرف رانا آفتاب احمد کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیدیا تو رانا ثناء اللہ الیکشن سے آؤٹ ہوتے نظر آرہے ہیں ایسی صورت میں مقابلہ پیپلز پارٹی کے چوہدری سعید اقبال اور پی ٹی آئی کے رانا آفتاب احمد خاں میں ہوگا۔ ان دونوں کی جیت میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور ارائیں و گجر برادری بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

Related posts