فیصل آباد میں 300پارکنگ سٹینڈ‘ ایک بھی قانونی نہیں


فیصل آباد(ندیم شہزاد )فیصل آباد میں کار و موٹر سائیکل پارکنگ کے تمام پارکنگ پوائنٹس ہی غیرقانونی نکلے۔ سرکاری سرپرستی میں بنائی گئی پرائیویٹ کمپنی ’’فیصل آباد پارکنگ کمپنی‘‘ کے زیرکنٹرول چلنے والے اڑھائی سو سے زائد پارکنگ پوائنٹس بھی غیرقانونی ہیں ۔ غیرقانونی پارکنگ پوائنٹس چلا کر پارکنگ کمپنی اور دیگر ادارے و شخصیات قانون سے کھلم کھلا کھلواڑ کررہے ہیں۔جبکہ یہ تمام غیرقانونی پارکنگ پوائنٹس قانون کی رو سے تجاوزات کی زد میں آتے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں تین سے کے لگ بھگ پارکنگ پوائنٹس ہیں۔ جن میں سے اڑھائی سو کے قریب فیصل آباد پارکنگ کمپنی نامی ایک پرائیویٹ ادارہ چلا رہا ہے۔ان تین سو کے لگ بھگ پارکنگ پوائنٹس میں سے ایک بھی قانونی نہیں ہے ۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کا کوئی ایک بھی پارکنگ سٹینڈ میونسپل قوانین کے مطابق میونسپل کارپوریشن یا ضلع کونسل سے منظور نہیں کروایا گیا۔ میونسپل قوانین کے مطابق منظور نہ ہونے والے پارکنگ سٹینڈز کو قانونی ماہرین غیرقانونی قرار دے رہے ہیں اور ان کو چلانے والوں کیخلاف میونسپل رولز کے تحت مقدمات بھی درج کروائے جا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بلدیاتی اداروں کی بحالی کے بعد ایک پرائیویٹ ادارے ’’فیصل آباد پارکنگ کمپنی ‘‘کا کام کرنا ہی غیر قانونی ہے ۔ پارکنگ کمپنی نے کسی ایک بھی پارکنگ پوائنٹ کا میونسپل کارپوریشن سے ٹھیکہ نہیں لیا۔اور نہ ہی اپنے پرائیویٹ پارکنگ سٹینڈ چلانے کی اجازت لی ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ چلا کر فیصل آباد پارکنگ کمپنی ملکی قوانین ‘ میونسپل قواعد اور کمپنیز ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے ‘ شہر میں غیرقانونی پارکنگ سٹینڈز کیخلاف کارروائی کرنا میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کی ذمہ داری ہے ۔ اورایک پرائیویٹ کمپنی کو بغیر کسی ٹینڈر اور معاہدے کے پارکنگ کا کام کرنے دینے پر اور غیرقانونی پارکنگ سٹینڈز کیخلاف کارروائی نہ کرکے میئر فیصل آباد رزاق ملک‘ چیف آفیسر کارپوریشن زبیر نت‘ چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیر ‘ چیف آفیسر ضلع کونسل نعیم اللہ وڑائچ اور بلدیاتی اداروں کے دیگر افسران مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں جس پر ان کیخلاف انٹی کرپشن قوانین کے تحت کسی بھی وقت محکمہ انٹی کرپشن اور نیب میں کارروائی ہو سکتی ہے۔

Related posts