غلطی ہوگئی:نواب شیر وسیر پیپلز پارٹی میں واپسی کیلئے کوشاں


فیصل آباد(احمد یٰسین )پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے سابق جیالے نواب شیر وسیر نے پی پی پی میں واپسی کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ ملک کے بدلتے ہوئے حالات اور پی ٹی آئی میں امیدواروں کی بھرمار کے باعث نواب شیر وسیر واپسی پر مجبور ہیں جبکہ این اے 102کی متوقع انتخابی صورتحال نے بھی انہیں پی ٹی آئی چھوڑنے پر آمادہ کیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق چند ہفتے قبل پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے سابق ایم این اے نواب شیر وسیر انصافین کے روئیے ‘ ملکی حالات میں آنیوالی بتدریج تبدیلیوں اور مقامی حالات کی وجہ سے پیپلز پارٹی میں واپسی کیلئے کوشاں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق پی پی پی کے ٹکٹ پر 2008کا الیکشن جیتنے والے سابق جیالے نے بھٹو کی پارٹی میں واپسی کیلئے قمر الزماں کائرہ سمیت متعدد اہم رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے اور پارٹی میں واپسی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ابھی تک انہیں پارٹی میں واپسی کیلئے گرین سگنل نہیں مل سکا۔نواب شیر وسیر کے پی ٹی آئی کو چند ہفتوں میں ہی چھوڑجانے کی ایک اہم وجہ این اے 102میں تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدواروں کی بھرمار بھی بتائی جا رہی ہے۔ ق لیگ کے اہم رہنما چوہدری ظہیر الدین بھی اسی حلقے سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کی امید پر کپتان کے ہمراہی بنے ہیں ۔ سابق وفاقی وزیر قانون طویل عرصہ سے پی ٹی آئی میں شامل ہیں اور اسی حلقہ این اے 102سے ٹکٹ کیلئے کوشاں ہیں۔ سابق ایم پی اے میجر عبدالرحمان رانا اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عبدالوحید خاں نیازی بھی اسی حلقے سے الیکشن لڑنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ریجنل ‘ ضلعی اور تحصیل سطح پر گروپ بندی بھی نواب شیر وسیر کیلئے مایوسی کا باعث بنی۔ انہی حالات کے پیش نظر نواب شیر وسیرنے پیپلز پارٹی میں واپسی کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ قمر الزماں کائرہ‘ منظور وٹو‘ چوہدری منظورراجہ پرویز اشرف سمیت متعدد رہنماؤں سے وہ رابطہ کرچکے ہیں اور ان سے پی پی پی میں واپسی کیلئے راستہ ہموار کرنے کی درخواست کرچکے ہیں ۔ مگر ابھی تک پارٹی کی مرکزی قیادت کی طرف سے انہیں گرین سگنل نہیں مل سکا۔

Related posts