پنجاب حکومت عطائیوں کیخلاف کارروائی میں بری طرح ناکام


فیصل آباد (ندیم شہزاد ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے باوجود پنجاب حکومت عطائیوں کیخلاف کارروائیاں کرنے اور عطائیت کے خاتمے میں بری طرح ناکام ہے۔ انتہائی کم تعداد ظاہر کرکے محکمہ صحت نے عطائیوں کی لسٹیں بنائیں اور ان کیخلاف بھی کارروائی میں بری طرح ناکامی ہی حکومت کو ملی۔نیوزلائن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے چند ہفتے قبل پنجاب بھر میں سادہ لوح شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ’’عطائی‘‘ ڈاکٹروں کے کلینکس‘ہسپتال اور لیبارٹریز کو سیل کرکے انکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم پربظاہر عمل کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں مگر پنجاب حکومت کی یہ کوششیں بھاگم بھاگ سے زیادہ کچھ بھی ثابت نہ ہوئیں۔محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبہ بھرکے 35 سو 40 عطائی ڈاکٹروں کی لسٹیں تیار کیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی تیار کردہ لسٹیں عطائیوں کی مجموعی تعداد کا 30فیصد بھی نہیں ہیں۔حکومت اعتراف کیا ہے کہ فیصل آباد میں عطائیوں کے 533کلینکس‘ ہسپتالوں اور لیبارٹریز موجود ہیں ۔لاہورمیں 51‘شیخوپورہ 66‘قصور 51‘ننکانہ صاحب 619‘گوجرانوالہ 89 ‘سیالکوٹ 120‘ گجرات 234‘ نارووال دس‘ منڈی بہاؤالدین بارہ‘ حافظ آباد 16‘راولپنڈی 42‘ جہلم 39‘ اٹک 16‘ چکوال نو ‘ سرگودھا 136‘ خوشاب 46‘ میانوالی 49‘ بھکر گیارہ ‘ جھنگ 70‘ چنیوٹ پندرہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ 52‘ ساہیوال 28‘ اوکاڑہ 17‘ پاکپتن 14‘ ملتان 20‘ خانیوال 319‘ وہاڑی 406‘ لودھراں 57‘ ڈی جی خاں 134‘ مظفر گڑھ 96‘ راجن پور 51‘ لیہ 41‘بہاؤلپور 107اور رحیم یار خاں میں 202عطائی موجود ہیں۔ جبکہ حکومتی لسٹوں کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد میں عطائی صوبہ کے ہر شہر میں موجود ہیں ۔ حکومت نے لسٹ تیار کرکے اور چند ایک کے خلاف کارروائی کرکے لسٹیں سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں مگر عملی طور پر فیصل آباد سمیت صوبہ بھر میں عطائی موجود اور لوگوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔

Related posts