جی سی یونیورسٹی: پانچ ارب کا بجٹ‘ ایک پائی کا سکالر شپ نہیں


فیصل آباد(ندیم شہزاد )جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکا پانچ ارب روپے سے زائد کا بجٹ ہے اور ہوشربا فیس سٹرکچر کی وجہ سے پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جو بغیر کسی حکومتی امداد کے جامعہ کے انتظامی و تعلیمی امور چلانے کے قابل ہوچکی ہے مگر اس کے باجود یونیورسٹی حکام اپنے فنڈز سے اپنے کسی ایک طالب علم کو بھی ایک پائی کا سکالر شپ نہیں دیتی۔ اربوں روپے اللوں تللوں پر اڑا دئیے جاتے ہیں مگر طلبہ کی فلاح و بہبود اور انہیں فیسوں میں رعائت دینے پر یونیورسٹی انتظامیہ تیار نہیں ہے۔ نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جو صرف فیسوں کی مد میں طلبہ سے حاصل کی گئی رقوم کی مدد سے خودانحصاری کیساتھ جامعہ کے انتظامی اور تعلیمی امور چلانے کے قابل ہے۔یونیورسٹی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق جی سی یو ایف اپنے چالیس ہزار سے زائد طلباء و طالبات سے سمسٹر فیسوں کی مد میں سالانہ چار ارب روپے سے زائد فنڈز اکٹھی کرتی ہے۔ جی سی یو ایف کا فیس سٹرکچر پاکستان کی سرکاری جامعات میں سب سے مہنگا ہے ۔ دیگر جامعات کی نسبت بی ایس سے لے کر پی ایچ ڈی تک ہر گریڈ میں جی سی یو ایف کا فیس سٹرکچر 50سے 100فیصد تک زائد ہے۔ مہنگا فیس سٹرکچر ہونے کے باوجود جی سی یو ایف میں چالیس ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ چار ارب روپے سمسٹر فیس‘ اور ایک ارب روپے جرمانوں‘ امتحانی فیسوں‘ الحاق فیسوں‘ اور دیگر یونیورسٹی ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت سے یونیورسٹی کو آتے میں نمک کے مترادف دس سے پندرہ کروڑ روپے کے فنڈز سالانہ ملتے ہیں۔پنجاب حکومت ے کئی گنا زیادہ فنڈز ایچ ای سی فراہم کرتی ہے۔ پانچ ارب روپے ذاتی ذرائع سے اکٹھے کرنے والی یونیورسٹی کو تمام ٹیچنگ فیکلٹی اور نان ٹیچنگ عملے کی تنخواہوں پر اڑھائی ارب روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ایک ارب روپے کے لگ بھگ یونیورسٹی کے انتظامی اخراجات بتائے جاتے ہیں۔ باقی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے فنڈز یونیورسٹی حکام اللوں تللوں اور ’’اعلیٰ‘‘ انتظامی ذمہ داران کی موج مستی پر اڑا دیتی ہے مگر کسی ایک طالب علم کو بھی فیس میں رعائت اور سکالر شپ نہیں دیا جاتا۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا اپنا ریکارڈ گواہ ہے کہ یونیورسٹی نے آج تک کسی ایک طالب علم کو بھی اپنے فنڈز میں سے سکالر شپ نہیں دیا ۔ سکالر شپس کیلئے زکواۃ فنڈز‘ بیت المال کے فنڈز‘ امیر زادوں کی خیرات‘ غیر ملکی امداد سے چلنے والے حکومتی و غیرحکومتی خیراتی پراجیکٹس‘ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ساڑھے تین ارب کے مجموعی تعلیمی و انتظامی اخراجات اور پانچ ارب روپے اپنے ذرائع سے اکٹھے کرنے والی یونیورسٹی کا اپنے فنڈز سے ایک پائی کا سکالر شپ نہ دینا سوالیہ نشان اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر ذمہ داران کی ترجیحات کا ثبوت ہے۔

Related posts