این اے 101:ہر پل بدلتے ملکی حالات پر ہرپارٹی کے امیدوار کی نظر


فیصل آباد(احمد یٰسین)قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 101فیصل آباد ایک ایسا حلقہ ہے جہاں سے کامیابی کیلئے مسلم لیگ ن‘ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے مساوی دعوے سامنے آرہے ہیں جبکہ حالات ایسے ہو رہے ہیں کہ کوئی جماعت یہاں سے قومی اسمبلی کا امیدوار فائنل نہیں کر پارہی۔ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی محمد افضل ساہی کا علاقہ ساہیانوالہ بھی اسی قومی اسمبلی حلقے میں آتا ہے اور یہاں سے 2002اور 2013میں ان کے بھائی کرنل غلام رسول ساہی پہلے ق لیگ اور بعد ازاں ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو چکے ہیں۔ 2008میں جیت پیپلز پارٹی کے طارق مصطفےٰ باجوہ کے حصے میں آئی تھی۔ آمدہ الیکشن میں ساہی برادران میں سے کوئی ایک دوبارہ امیدوار ہو گا مگر ابھی تک وہ خود فائنل نہیں کرسکے کہ کس جماعت کی طرف سے الیکشن لڑنا ہے اور کس بھائی نے لڑنا ہے۔ساہی برادران کے تیسرے بھائی محمد اکرم ساہی بھی اس دفعہ انتخابی دنگل میں اترنا چاہتے ہیں ۔ ان کے میدان میں آنے پر افضل ساہی یا غلام رسول ساہی میں سے کسی ایک کو گھر بیٹھنا پڑے گا۔ ساہی برادران میں ایک لڑائی پارٹی کی بھی ہو رہی ہے۔ ایک بھائی مسلم لیگ ن میں رہنے کا خواہاں تو دوسرا پی ٹی آئی میں جاکر انصافین ہونے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ساہی برادران میں سے ایک پیپلز پارٹی سے بھی رابطے بڑھائے ہوئے ہے۔ ملکی حالات میں آتے پل پل اتار چڑھاؤ پر تینوں بھائی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت وہ مسلم لیگ ن سے جانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ساہی برادران کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ انہیں دو کی بجائے تین ٹکٹ (ایک قومی اور دو صوبائی )مل جائیں مگر پیپلز پارٹی سمیت کوئی بھی جماعت انہیں تین ٹکٹ دینے کو تیار نہیں ہورہی۔ پی ٹی آئی میں فواد چیمہ ‘ اجمل چیمہ ‘ سلیم جہانگیر چٹھہ کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن اجمل چیمہ کے علاوہ کسی کا ٹکٹ بھی کنفرم نہیں ہو رہا۔ اجمل چیمہ صوبائی اسمبلی پی پی 97سے امیدوار ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی ایک طاقتور اور تمام فیصلوں پر اثر انداز ہونیوالی شخصیت کے ساہی برادران کے ساتھ رابطے ہیں اور انہیں کپتان کا ہمراہی ہونے پر این اے 101اور پی پی 98کی ٹکٹ کی یقین دہانی کروائی جارہی ہے۔پیپلز پارٹی میں جانے پر ساہی برادران کو این اے 101اور پی پی 97کی ٹکٹ کی یقین دہانی کروائی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں طارق باجوہ کو پی پی 98میں ساہی برادران کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا پڑے گا۔پی ٹی آئی کا ایک دھڑا ساہی برادران کی پارٹی میں آمد کی مخالفت بھی کررہا ہے۔ مگر فواد چیمہ کو بھی پارٹی میں مضبوط امیدوار نہیں سمجھا جا رہا۔ این اے 101میں ابھی تک تو پیپلز پارٹی کی طرف سے سابق ایم این اے طارق باجوہ کنفرم ہیں مگر بعض طاقتور حلقوں کی مداخلت سے ان کے مخالف ساہی برادران کے پی پی پی میں آنے سے ان کی پوزیشن خراب ہو گی ۔ ایسی صورت میں طارق باجوہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کریں گے اور محدود ہو جائیں گے مگر مقامی سیاست کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ساہی برادران کیخلاف اپنے بھائی واجد مصطفی باجوہ کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتاریں گے۔خود بظاہر لاتعلق رہ کر پارٹی ڈسپلن ن بھائیں گے مگر واجد مصطفی کی شکل میں ساہی برادران کو ٹف ٹائم دیں گے۔ساہی برادران کی طرف سے حالات کی ضروریات کے پیش نظر تینوں پارٹیوں سے رابطے رکھنے کی وجہ سے کوئی بھی جماعت اس حلقے میں امیدوار فائنل نہیں کر رہی اور تیل دیکھو ‘ تیل کی دھار دیکھو جیسی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

Related posts