این اے 110کا انتخابی دنگل جیتنے کیلئے شیر شیر کو کاٹنے لگا


فیصل آباد(ندیم جاوید)فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ 110میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے انتہائی دلچسپ صورتحال ہے۔ باقی جماعتوں کے امیدوار ابھی ٹھنڈے ہیں مگر مسلم لیگ ن کے شیر علی گروپ کے رانا محمد افضل اور رانا ثناء اللہ گروپ کے نواز ملک ایک دوسر ے کو نیچا دکھانے کیلئے باہم دست و گریباں ہیں۔ اس کیلئے وہ ہر حربہ استعمال کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماؤں چوہدری شیر علی اور رانا ثناء اللہ کے گروپوں میں طویل عرصہ سے جاری چپقلش ایک مرتبہ پھر تیز ہوگئی ہے۔ اور دونوں گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس دفعہ میدان جنگ بنا ہے این اے 110کا قومی اسمبلی کا حلقہ‘ جہاں سے دو مرتبہ چوہدری شیر علی گروپ کے رانا محمد افضل ایم این اے بن چکے ہیں اور اس مرتبہ پھر وہ امیدوار بننے کیلئے کوشاں ہیں۔ دوسری جانب بلدیاتی انتخابات میں اپنے بھائی میئر فیصل آباد رزاق ملک کی مخالفت کا بدلہ لینے کیلئے ایم پی اے نواز ملک این اے 110سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی پلاننگ کررہے ہیں انہیں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ دونوں رہنما ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کیساتھ مفاہمت کی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ پہلی جنگ دونوں میں ن لیگ کے ٹکٹ کی شروع ہو چکی ہے۔ ٹکٹ کے حصول کیلئے دونوں بھرپور تیاری اور رابطوں میں ہیں جبکہ ایک دوسرے کیخلاف ہر حربہ بھی استعمال کررہے ہیں۔نواز ملک نے اپنے بھائی میئر فیصل آباد کی وساطت سے یونین کونسلوں کے چیئرمینوں سے ایک پریس کانفرنس کروائی جس میں این اے 110کے 36سے زائد چیئرمین اور وائس چیئرمینوں نے وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل خاں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ پریس کانفرنس میں چیئرمین ، وائس چیئرمین اور کارپوریشن کے ممبران نے رانا افضل خاں کو ٹکٹ نہ دینے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا مسلم لیگ ن نے رانا افضل کو ٹکٹ دیا تو شیر کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور شیر کی مخالفت میں پی پی پی یا پی ٹی آئی کو بھی جتوانا پڑا تو گریز نہیں کریں گے۔ رانا افضل کو ٹکٹ دینے پر وہ سب شیر کو چاروں شانے چت کروا کر ہی دم لیں گے۔ نواز ملک کے حامیوں کی پریس کانفرنس کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اس میں موجود اکثریتی چیئرمین اور وائس چیئرمین مشرف دور میں ق لیگ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے اور ان کا اکٹھ سالہا سال پر محیط ہے۔ بعد ازاں ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے وہ سبھی ن لیگ کو پیارے ہو گئے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے رانا افضل پر مختلف قسم کے الزامات بھی عائد کئے اور نواز ملک کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا۔اس پریس کانفرنس کی گونج ابھی باقی تھی کہ رانا افضل خاں کی حمائت میں بھی یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین میدان میں آگئے۔ اس پریس کانفرنس کو میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر شیراز کاہلوں نے لیڈ کیا۔ اس پریس کانفرنس میں شامل رانا افضل کی حمائت میں رطب اللسان رہے اور ان کے گن گاتے رہے۔ان کے ترقیاتی کاموں اور خوبیوں کو اجاگر کرنے کیلئے زمین آسمان ایک کردیا۔مسلم لیگ ن کے دونوں لیڈر رانا افضل خاں اور نواز ملک خود بھی یہ اعلان کرتے پائے جا رہے ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے وہ مخالف کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے چاہے اس کیلئے کچھ بھی کرنا پڑے۔حالات بتا رہے ہیں کہ شیر علی اور ثناء اللہ گروپ کی یہ مخالفت کم ہونے کی بجائے بڑھے گی۔ اس صورتحال سے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچے یا نہیں مسلم لیگ ن کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور سالہا سال جیتی ہوئی یہ سیٹ مسلم لیگ ن بھاری مارجن سے ہار جائے گی۔

Related posts