ریلوے حکام کی غفلت:تاریخی سٹیم انجن کباڑ بن گیا


فیصل آباد(نیوزلائن)ریلوے حکام کی غفلت سے فیصل آبادکو تحفے میں ملنے والاتاریخی سٹیم انجن چار سال تک کھلے آسمان تلے پڑا رہنے کی وجہ سے کباڑ بن گیا۔ انجن کا رنگ بری طرح خراب ہوچکا۔ سجاوٹ غائب اور باڈی بری طرح متاثر ہوتی رہی۔ کباڑ بنتے تاریخی انجن کو دو حصوں میں الگ الگ ریلوے سٹیشن کے بیرونی احاطہ میں نصب کرنے کیلئے لایا گیا تو اسے مزید نقصان پہنچا۔ نیوزلائن کے مطابق چار سال قبل ریلوے کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل سٹیم انجن کو فیصل آباد کو تحفے میں دیا گیا۔ چار سال قبل انجن فیصل آباد لایا گیا تو انتہائی اہتمام کیا گیا مگر منصوبے کے مطابق اسے ریلوے سٹیشن کے بیرونی احاطے میں نصب نہ کیا جا سکا۔فیصل آباد کے ریلوے حکام کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے سبب لوکوموٹوشیڈکے نواح میں چارسال تک کھلے آسمان تلے موسمی اثرات کاسامنا کرنے کی وجہ سے تاریخی انجن کباڑ کی شکل اختیارکرتا رہاتھا۔ چار سال کے طویل انتظار کے بعد ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے سفیان ڈوگرنے اسے اسٹیشن کے بیرونی چبوترے پر منتقل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ اس موقع پر ریلوے کو ایک اور مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اور انجن کو اٹھا کر بیرونی احاطے میں لانے کیلئے ۔ماہر کرین آپریٹر کی خدمات دستیاب نہ تھیں جس کی وجہ سے 93 ٹن ووزنی ماڈل سٹیم انجن کودوالگ الگ حصوں میں بیرونی احاطے میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران ریلوے اسٹیشن کاپلیٹ فارم نمبرایک بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوااور تاریخی سٹیم انجن کو بھی نقصان پہنچا سال 1904 میں تیارہونے والے برطانوی ساخت کے 180 پی ایس آئی پریشرکے حامل سٹیم انجن کی اونچائی 13.6 فٹ جبکہ لمبائی 53.8 فٹ ہے،انجن میں کوئلے کے علاوہ 8 ٹن فرنس آئل اور3ہزارگیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی ۔اس نوعیت کے دیگر8 ماڈل انجن لاہور ریلوے اسٹیشن،ڈی ایس آفس لاہور ،کوئٹہ ،کراچی ،سکھر،ملتان،راولپنڈی اورپشاورریلوے اسٹیشن کے باہر نصب ہیں۔

Related posts