مشرف کا اقتدار انجوائے کرنیوالوں کا رانا افضل کیخلاف سپانسرڈ محاذ


فیصل آباد(احمد یٰسین) ق لیگ کا پرچم تھام کر جنرل پرویز مشرف کا اقتدار انجوائے کرنیوالے بلدیاتی نمائندوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سبکدوش وزیر مملکت خزانہ رانا افضل کیخلاف این اے 110میں سپانسرڈ محاذ قائم کر لیا ہے۔ن لیگی رہنما کیخلاف سابقہ ق لیگی بلدیاتی نمائندوں کو ن لیگ کی چھتر چھایہ فراہم کرنے والے ن لیگ کے ہی سبکدوش صوبائی وزیر قانون ہیں جبکہ ان کارانا افضل کیخلاف محاذ ن لیگ کے ہی مئیر رزاق ملک اور ان کے بھائی سبکدوش ایم پی اے نواز ملک سپانسر کررہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے حلقہ این اے 110سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی نمائندوں کے ایک گروپ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور اسی حلقے سے سابق ایم این اے رانا محمد افضل کیخلاف محاذ قائم کررکھا ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کا یہ گروپ رانا افضل پر اقرباء پروری اور نوکریاں بیچنے سمیت متعدد الزامات عائد کررہا ہے ۔ یہ گروپ متعدد مرتبہ رانا افضل کیخلاف پریس کانفرنس کر چکا ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کے اس گروپ کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے دور میں ان میں سے اکثریتی بلدیاتی نمائندے ق لیگ کے پرچم تلے جمع تھے۔ رانا افضل کیخلاف محاذ بنانے والے بلدیاتی نمائندوں کے گروپ کی قیادت غلام بھیک اعوان اور شکیل اعوان کررہے ہیں جو مشرف دور میں ق لیگ کے اہم رکن رہے۔ ق لیگی ضلعی ناظم اور سٹی ناظم کے مشیران خاص رہے۔اس گروپ میں شامل یو سی چیئرمین جمیل چیمہ بھی ق لیگ میں شامل تھے۔ گروپ کے اہم رکن چوہدری غفور بھی ق لیگ کا حصہ اور مشرف دور میں نائب ٹاؤن ناظم بھی رہے۔گروپ کے ایک اہم رکن میاں سجاد بھی ق لیگ کے نائب ٹاؤن ناظم رہے۔مولوی شفیق مغل بھی مشرف دور میں ن لیگ سے دور اور ق لیگ کے ہمراہی رہے۔ فرزانہ چوہدری بھی مشرف دور میں مسلم لیگ ق کا اہم حصہ اور خواتین ونگ کی عہدیدار رہیں۔اس محاذ کی اہم رکن سارہ امجد یٰسین خود تو ق لیگ دور میں سرگرم نہیں تھیں کیونکہ اس وقت ان کی سیاست کی عمر ہی نہیں تھی مگر ان کے والد میاں امجد یٰسین ق لیگ دور میں ضلعی نائب ناظم رہے اور ان کی والدہ مسلم لیگ ق کی ایم این اے رہی ہیں۔انوار انصاری بھی ق لیگ کا حصہ رہے جبکہ ان کے بھائی الیاس انصاری مسلم لیگ ق کے نائب تحصیل ناظم رہے۔صدیق بٹ اور میاں طاہر ایوب بھی مسلم لیگ ق کا اہم حصہ گردانے جاتے تھے اور مشرف کیلئے نعرے بلند کرتے رہے۔ میاں طاہر ایوب جماعت اسلامی کے رکن ہونے کے باوجود ق لیگ کیلئے رطب اللسان رہتے اور اب بھی جماعت اسلامی چھوڑے بغیر مسلم لیگ ن کے نعرے لگا رہے ہیں۔رضیہ سلطانہ‘ ریحانہ شاہد ‘ کلثوم اختر‘ اقرار انصاری‘ آصف گل بھی ق لیگ میں رہے۔ طارق کمبوہ ‘ فریاد خٹک‘ شمائلہ چوہدری بھی مشرف کے جلسوں کی رونق بڑھانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے رہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد دیگر بلدیاتی نمائندے بھی ق لیگ دور میں مشرف کا اقتدار انجوائے کرتے رہے اور کچھ عرصہ قبل ہی رانا ثناء اللہ کے توسط سے ن لیگ کا حصہ بنے۔ مشرف دور میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جدوجہد کیخلاف بھی یہ بلدیاتی نمائندے رطب السان رہتے اور مشرف کی تعریفوں کے پل باندھتے پائے جاتے۔ سبکدوش وزیر مملکت برائے خزانہ کیخلاف ان بلدیاتی نمائندوں کے محاذ کے حوالے سے یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ انہیں میئر رزاق ملک اور ان کے بھائی نواز ملک اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ اس محاذ کیلئے فنڈنگ بھی نواز ملک کررہے ہیں۔ق لیگ کا اقتدار انجوائے کرنے والے ان یوسی چیئرمینوں کو مسلم لیگ ن کا اہم حصہ ظاہر کرکے ان کی طرف سے اخبارات میں انتہائی مہنگے اشتہارات جاری کروائے گئے۔ اس کیلئے فنڈنگ بھی نواز ملک نے فراہم کی جبکہ تمام مواد اور تصاویر بھی نواز ملک کے آدمیوں نے فراہم کیں۔ مسلم لیگ ن کے اپنے ہی قائدین کی طرف سے سابقہ ق لیگی بلدیاتی نمائندوں کو مشر ف دور میں جدوجہد کرنیوالے اپنے ہی ساتھی کیخلاف محاذ بنا کر استعمال کرنے سے شہر میں ن لیگ کمزور بھی تو ہو ہی رہی ہے۔ ساتھ میں عوام ن لیگ کی قیادت کے ویژن کے حوالے سے سوچنے پر مجبور ہیں۔

Related posts