ایم پی ایز نے عوامی نمائندگی کے منہ مانگے دام وصول کئے


فیصل آباد (ندیم شہزاد ) فیصل آباد سے منتخب ہونیوالے راکین پنجاب اسمبلی نے عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کیلئے منہ مانگے دام وصول کئے ۔ بے لوث عوامی خدمت کا نعرہ بلند کرنے والوں نے اپنی پانچ سالہ مدت کے دوران تنخواہوں و دیگر مراعات کی مد میں حکومت پنجاب سے 12کروڑ 14لاکھ 92ہزار 59روپے وصول کیے ۔ تنخواہوں اور مراعات کے نام پر لمبی کمائی کرنے والوں کی اکثریت تنخواہ حلال کرنے کیلئے بھی اسمبلی اجلاسوں میں نہ بولی اور خاموش تماشائی بن کر اجلاسوں کی کاروائی دیکھتی رہی۔تنخواہ، متفرق الاؤنس، ٹیلی فون الاؤنس، ہاؤس الاؤنس، آفس اٹینڈنس الاؤنس، یوٹیلٹی الاؤنس، کنوینس الاؤنس، ڈیلی الاؤنس، اکاموڈیشن الاؤنس اور ٹریولنگ الاؤنس کی مد میں مراعات حاصل کرنے والوں میں سے آزاد علی تبسم نے 53 لاکھ 19 ہزار742 روپے ، چوہدری محمد افضل ساہی 60 لاکھ 23 ہزار 900، عفت معراج اعوان، 64 لاکھ 74 ہزار900 ، رانا شعیب ادریس 48 لاکھ 82 ہزار400 ، عثمان خاں کھرل 57 لاکھ 11ہزار458 روپے، جعفر علی ہوچہ 68 لاکھ 16 ہزار750 روپے، احسن ریاض فتیانہ 68 لاکھ 49 ہزار895، عارف محمود گل 89 لاکھ 71 ہزار 630 روپے، راؤ کاشف رحیم 52 لاکھ 31 ہزار350 روپے، اجمل آصف 39 لاکھ 84 ہزار200 روپے، ظفر اقبال ناگرہ 46 لاکھ 55 ہزار150 روپے، خالد سعید 62 لاکھ 85 ہزار600 روپے، فقیر حسین ڈوگر 47 لاکھ 72 ہزار650 روپے، شیخ اعجاز احمد 53 لاکھ 64 ہزار 575 روپے، میاں طاہر جمیل 50 لاکھ 86 ہزار 850 روپے، ملک محمد نواز 50 لاکھ 75 ہزار روپے، شیخ خرم شہزاد 49 لاکھ 74 ہزار 217 روپے، رانا ثناء اللہ خاں 53 لاکھ 20 ہزار 745 روپے، رائے حیدر علی کھرل 68 لاکھ 17ہزار 425 روپے اور حاجی محمد الیاس انصاری 48 لاکھ 26 ہزار 350 روپے حاصل کئے۔پنجا ب اسمبلی کی پانچ سالہ آئینی مدت کے دوران صرف احسن ریاض فتیانہ اور طاہر جمیل نے عوامی مفادات کے حوالے سے سوالات کی بھرمار کی۔ پانچ سالوں میں پنجاب اسمبلی کے کل 36سیشنز میں 352نشستیں ہوئیں۔اس دوران احسن ریاض فتیانہ نے 336 سوالات کئے ‘37 توجہ دلاؤ نوٹس دئیے اور ایک قرارداد پیش کی ۔طاہر جمیل نے 43توجہ دلاؤ نوٹس دئیے اور 219 سوالات کئے۔ راؤ کاشف رحیم نے صرف 6سوال کئے،جعفر علی ہوچہ نے31 سوال‘ عفت معراج نے دو سوال ‘ شیخ خرم شہزادنے دو تحریک استحقاق‘ خلیل طاہر سندھو نے دو قرار دادیں‘ رانا ثناء اللہ نے 34قرار دادیں ‘ آزاد علی تبسم نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس اور 15سوالات کئے‘ مدیحہ رانا نے پانچ سالوں میں صرف دو قرار دادیں پیش کیں‘بلند بانگ دعوے کرنے والے شیخ اعجاز احمد کو بھی 10سوالات ‘ چار توجہ دلاؤ نوٹس اور دو قرار دادوں کے سوا کچھ نہ سوجھا۔

Related posts