ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی تحریک انصاف میں بغاوت پھوٹ پڑی


فیصل آباد(احمد یٰسین)ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی لوٹے امیدواروں کیخلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے بغاوت کردی۔ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن اور پرانے رہنما پیراشوٹ لینڈنگ کے ذریعے پارٹی میں آن وارد ہونے والوں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ متعدد حلقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے جبکہ مزید کئی حلقوں میں بغاوت کے آثار ہیں۔ جھمرہ میں پی ٹی آئی رہنما اور کارکن ق لیگ کے سابق سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی اور ان کی فیملی کو خفیہ ہاتھوں کی مدد سے پیراشوت جمپ کرے براستہ ن لیگ پی ٹی آئی میں آن وارد ہونے کے باوجود قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ عمران خان نے ساہی فیملی کو جھمرہ کے تین حلقوں (ایک قومی اور دو صوبائی حلقوں ) سے ٹکٹ تو جاری کردئیے ہیں لیکن پی ٹی آئی کیلئے اس علاقے میں جدوجہد کرنیوالے اجمل چیمہ‘ فواد چیمہ‘ سلیم جہانگیر چٹھہ اور دیگر رہنما و کارکن ساہی فیملی کو کسی صورت قبول کرنے اور ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔اجمل چیمہ اور دیگر رہنما آزاد الیکشن اور پارٹی بدلنے کے آپشن پر غور کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا جڑانوالہ میں ہے ۔ پیپلزپارٹی سے آنیوالے نواب شیر وسیر کے قومی اور ق لیگ سے آنیوالے چوہدری ظہیرالدین اور علی اختر کے صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کو پی ٹی آئی کارکنوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما میجر عبدالرحمان رانا‘ عمیر وصی ظفر‘ خان بہادر ڈوگر‘ وحید خان نیازی بھی آزاد الیکشن اور پارٹی بدلنے کے دونوں آپشن پر غور کررہے ہیں۔سمندری میں تو پی ٹی آئی کارکنوں نے باقاعدہ بغاوت کردی ہے۔ آزاد گروپ کے نام سے میجر اکرم اور متعدد دیگر رہنما خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں اور سمندری کے ایک قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پینل بنا کر الیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔انہیں عبداللہ غازی اور عارف گل کی حمائت بھی حاصل ہے ۔ جس سے پی ٹی آئی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔شدید قسم کی بغاوت کا سامنا پی ٹی آئی کو این اے 106میں بھی کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر یٰسین اپنے گجر ووٹوں کیساتھ پی ٹی آئی امیدوار کی مخالفت کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ شہباز کسانہ بھی اپنے آپ کو اس طرح نظر انداز کرنے پر پارٹی کیخلاف علم بغاوت بلند کر چکے ہیں۔ جہانزیب امتیاز گل بھی پارٹی سے شدید نالاں ہیں۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی کی پرانی قیادت ڈاکٹر نثار احمد کو کسی صورت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور انہیں مخالفین کے ہاتھوں شکست دلوانے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا ئیں گے۔ این اے 107میں سابق وفاقی وزیرداخلہ اور فیصل آباد کے سینئر ترین سیاستدان میاں زاہد سرفراز سیاست کے ایک نوآموز کھلاڑی شیخ خرم شہزاد کے ہاتھوں پی ٹی آئی ٹکٹ کی جنگ میں شکست کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہو پا رہے۔ اس حلقے سے وہ اپنے بیٹے علی سرفراز کیلئے پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے تھے۔شہر میں پی ٹی آئی کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جانیوالے نجم الحسن طوطا پہلوان ‘ پرانے اور نظریاتی کارکن سلمان عارف بھی اسی کے ذیلی حلقوں میں ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کی بڑی تعداد اس حلقے میں پارٹی امیدواروں کی مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں۔پی پی 111کے امیدوار شکیل شاہد کو بھی کوئی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔این اے 110کا ٹکٹ بھی پی ٹی آئی کیلئے سوہان روح بن رہا ہے۔ راجہ ریاض کے نکل جانے پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جشن منایا تھا تو ان کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے باقاعدہ احتجاج کیا تھا۔ اب بھی پی ٹی آئی کارکن ان کے ٹکٹ کیخلاف اکٹھے ہورہے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد ان کی بھرپور مخالفت کا فیصلہ کرچکی ہے اور کسی صورت ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے۔نظر آرہا ہے کہ الیکٹ ایبلز کی سیاست کرنے کے چکر میں پی ٹی آئی اپنے نظریاتی کارکنوں اور ووٹرز سے انتہائی دور جا چکی ہے۔ عام ووٹرز بھی پی ٹی آئی قیادت کے اس روئیے اور متضاد فیصلوں کی وجہ سے شدید الجھن کا شکار ہے جس سے الیکشن میں پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

Related posts