ڈی پی ایس کوسینکڑوں کنال اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ :اعلیٰ افسران ملوث




فیصل آباد(ندیم جاوید) شہباز شریف حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری کنٹرول میں چلائے جانیوالے پرائیویٹ سکول ’’ڈی پی ایس‘‘ کو غیرقانونی طور پر زمین الاٹ کردی۔ غیرقانونی اراضی الاٹمنٹ کیس میں سابق کمشنر مومن آغا‘ سابق ڈپٹی کمشنر سلمان غنی‘ سابق ڈپٹی کمشنر نورالامین مینگل‘ پرنسپل ڈی پی ایس شاہد محمود‘ ڈائریکٹر ڈی پی ایس محمد اشرف سمیت متعدد اعلیٰ افسر ملوث پائے جارہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق شہباز حکومت سرکاری کنٹرول میں ایک پرائیویٹ سکول چلاتی رہی۔ شہباز شریف کے دس سالہ دور میں اس پرائیویٹ سکول (ڈویژنل پبلک سکول)کو سرکاری زمین غیرقانونی طور پر الاٹ کی جاتی رہی۔ سرکاری زمین کی ایک پرائیویٹ ادارے کو الاٹ کرتے ہوئے قانون اور ضابطوں کا خیال رکھا گیا اور نہ سپریم کورٹ کے احکامات کو خاطر میں لایا گیا۔ نیوزلائن کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ ادارے کو اراضی الاٹمنٹ کیلئے ضروری ہے کہ اس اراضی کی قیمت کا تعین کرکے نیلام عام کروایا جائے۔نیلامی کا عمل اوپن ہو اور اس میں حصہ لینے سے کسی کونہ روکا جائے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی پابندی عائد کررکھی ہے کہ کسی پرائیویٹ ادارے یا شخصیت کو سرکاری اراضی بغیر اوپن نیلامی اور قانونی تقاضے پورے کئے الاٹ نہ کی جائے۔ لیکن ڈی پی ایس کے کیس میں ایسا نہیں کیا گیا۔ایک اعلیٰ افسر نے شہنشاہ کی طرح پنج پلیاں روڈ پرچک نمبر 123ج ب کی حدود میں موجودکروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین بغیر قانونی تقاضے پورے کئے راتوں رات الاٹ کردی ۔ ذرائع کے مطابق ڈی پی ایس پریمئیر کیمپس کیلئے زمین الاٹمنٹ کی تمام کارروائی ایک رات میں مکمل کی گئی جبکہ کاغذوں کا پیٹ بھرنے کیلئے تاریخیں مختلف دنوں کی ڈال کر افسران اپنے حلف اور دیانت و انصاف کے اصولوں سے بھی منحرف ہوئے اور غیرقانونی پرائیویٹ سکول چلانے والوں کو غیرقانونی طور پر سینکڑوں کنال اراضی بخش دی گئی۔نیوزلائن کے مطابق صرف پریمیئر کیمپس ہی نہیں ڈی پی ایس تاندلیانوالہ کیمپس ‘ ڈی پی ایس غلام محمد آباد کیمپس‘ ڈی پی ایس جڑانوالہ کیمپس کی زمین بھی غیرقانونی طریقے سے الاٹ کی گئی ۔ڈی پی ایس کو سرکاری زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں سابق کمشنر مومن آغا‘ سابق ڈپٹی کمشنر سلمان غنی‘ سابق ڈپٹی کمشنر نورالامین مینگل‘ پرنسپل ڈی پی ایس شاہد محمود‘ ڈائریکٹر سکول محمد اشرف‘دو سابق ڈی سی او اورمتعدد دیگر افسران ملوث پائے جارہے ہیں۔ غیرقانونی زمینیں الاٹ کروا کر طلبہ کو قانون کا حترام کرنے کا سبق کیسے اور کس منہ سے پڑھایا جائے گا اس کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے ڈی پی ایس کے انتظامی انچارج اور سابق کمشنر مومن آغا کے دست راست ایڈیشنل کمشنر شفقت اللہ مشتاق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈی پی ایس کے مختلف سیکشنز کو زمین کی الاٹمنٹ کے معاملے بارے معلومات نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں براہ راست پرنسپل ڈی پی ایس شاہد محمود‘ سابق ڈپٹی کمشنرز اور ڈی سی اوز ملوث ہیں۔ الاٹمنٹ کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے گئے یا نہیں‘ اس بارے میں وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اور نہ ہی اس کے ذمہ داروں کا تعین کرسکتے ہیں۔

Related posts