فیصل آباد کی کروڑ پتی فیملی کے اہم چشم و چراغ کنگلے نکلے


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کی سیاست اور ٹرانسپورٹ بزنس پر چھائی ہوئی نذیر فیملی کے اہم چشم و چراغ اور نذیر فیملی کی طرف سے سیاسی میدان میں اتارے گئے نئے امیدوارکی سالانہ آمدن اتنی بھی نہیں نکلی کہ اس پر ٹیکس ہی لگ سکے۔ فیصل آباد کے تین حلقوں سے امیدوار بننے والے نذیر فیملی کا یہ اہم چشم و چراغ الیکشن کیسے لڑے گا اس بارے وہ خود بھی کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق سابق ایم این اے چوہدری نذیر کا نام فیصل آباد کی سیاست اور ٹرانسپورٹ بزنس میں چھایا ہوا ہے۔ چوہدری نذیر کے تین بیٹے شاہد نذیر‘ عاصم نذیر‘ زاہد نذیر رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ چوہدری زاہد نذیر ضلعی ناظم بھی رہے جبکہ دو مرتبہ چیئرمین ضلع کونسل رہ چکے ہیں۔ الیکشن 2018کیلئے نذیر فیملی نے عاصم نذیر کے علاوہ زاہد نذیر کے صاحبزادے مسعود نذیر کی بھی انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق مسعود نذیر ابھی تک ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ٹیکس ماہرین کے مطابق قابل ٹیکس آمدن سے کم آمدن والے افراد کا ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہونا ضروری نہیں ہے۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسعود نذیر نے ایف بی آر میں ابھی تک رجسٹریشن نہیں کروائی تو اس کا قانونی لحاظ سے یہی مطلب ہے کہ ان کی آمدن اتنی کم ہے کہ اس پر ٹیکس عائد ہی نہیں ہوتا۔ انتہائی کم آمدن کے باوجود وہ قومی صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں سے امیدوار کیسے بن گئے‘ ان حلقوں میں پبلسٹی کیلئے ان کے پاس وسائل کہاں سے آرہے ہیں جبکہ الیکشن کے اخراجات وہ کہاں سے ادا کریں گے یہ سوالات ایسے ہیں جو ووٹرز کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ کروڑ پتی امیدواروں کے مقابلے میں انتہائی کم آمدن والے مسعود نذیر کیا کرسکیں گے یہ ان کے حامیوں کو پریشان کئے ہوئے ہے۔

Related posts