ڈویژنل پبلک سکول کو بغیر رجسٹریشن چلائے جانے کا انکشاف




فیصل آباد(ندیم جاوید)شہباز شریف حکومت کا قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا پول کھل گیا۔ مسلم لیگ ن کے اہم رہنما کی آشیر باد سے فیصل آباد میں قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈویژنل پبلک سکول کو بغیر رجسٹریشن چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈی پی ایس کا نام پنجاب حکومت کی سرکاری سکولوں کی لسٹ میں شامل ہے نہ پرائیویٹ سکولوں کی لسٹ میں اس کو رکھا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے ریکارڈ میں ڈی پی ایس کی رجسٹریشن ہی موجود نہیں ۔ نیوزلائن کے مطابق قانون کی رو سے بغیر رجسٹریشن کوئی سکول نہیں چلایا جا سکتا۔اوربغیر رجسٹریشن سکول چلانا کرنا جرم ہے۔بغیر رجسٹریشن سکول چلانے والے کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ فیصل آباد میں سرکاری کنٹرول میں چلائے جانیوالے پرائیویٹ سکول ’’ڈویژنل پبلک سکول‘‘ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کی رجسٹریشن ہی نہیں کروائی گئی۔محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق مشرف دور میں ڈی پی ایس بوائز سکول کمشنر آفس روڈ سول لائن فیصل آباد کی رجسٹریشن کروائی گئی تھی مگر بعد ازاں اس کو رینیو نہ کروایا گیا اورسالانہ فیس ادا نہ کی گئی جس سے محکمہ تعلیم میں اس کی رجسٹریشن کینسل ہو گئی۔ شہباز شریف کے دس سالہ دور میں ڈی پی ایس کو بغیر کسی رجسٹریشن کے چلایا جاتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد ایجوکیشن اتھارٹی کے چیئرمین سابق ڈپٹی کمشنر سلمان غنی کی سربراہی میں محکمہ تعلیم کے افسران کے ایک اجلاس میں ڈی پی ایس کی رجسٹریشن کا معاملہ اٹھایا گیا تھا اس بارے انکوائری بھی شروع کروائی جارہی تھی مگر بعد ازاں مسلم لیگ ن کی ایک اہم شخصیت کی سفارش پر اس معاملے کو ٹھپ کردیا گیا ۔محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق ڈی پی ایس گرلز سکول کمشنر آفس روڈ سول لائن‘ ڈی پی ایس جونیئر سکول سول لائن کی رجسٹریشن کبھی کروائی ہی نہیں گئی۔ ڈی پی ایس جڑانوالہ ‘ ڈی پی ایس غلام محمد آباد‘ ڈی پی ایس پریمئر کیمپس پنج پلیاں روڈ کی رجسٹریشن کروائی ہی نہیں گئی اور انہیں بغیر رجسٹریشن ہی چلایا جا رہا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں اور رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں کا ڈیٹا جاری کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی حکومت کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق پنجاب بھر میں 52ہزار سے زائد سرکاری سکول اور 62ہزار سے زائد رجسٹرڈ پرائیویٹ سکول ہیں۔سکول شماری ڈیٹا میں ڈی پی ایس تاندلیانوالہ شامل ہے مگر ڈی پی ایس گرلز سکول کمشنر آفس روڈ سول لائن‘ ڈی پی ایس جونیئر سکول سول لائن ‘ ڈی پی ایس جڑانوالہ ‘ ڈی پی ایس غلام محمد آباد‘ ڈی پی ایس پریمئر سکول پنج پلیاں روڈ فیصل آباد کی رجسٹریشن کروائی ہی نہیں گئی اور نہ ہی ان کا ڈیٹا سکول شماری میں شامل ہے۔ اس حوالے سے سابق سیکرٹری سکول ایجوکیشن اللہ بخش ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے تمام سرکاری سکولوں اور رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں کا ڈیٹا سکول شماری میں شامل کیا تھا اور اسے پبلک کردیا تھا۔سی ای او فیصل آباد ایجوکیشن اتھارٹی رانا شبیر احمد کا کہنا ہے کہ ڈی پی ایس کا نام سرکاری سکولوں کی لسٹ میں شامل نہیں ہے اس لئے اسے سرکاری سکول نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی رجسٹریشن ضروری ہے۔ پرائیویٹ سکول کے مختلف کیمپس ہوں تو اس کے ہر کیمپس کی الگ سے رجسٹریشن کروانا ضروری ہے۔ جس کیمپس کی بھی رجسٹریشن نہیں ہو گی وہ غیرقانونی تصور ہوگا اور اس کو چلانا جرم ہے۔ غیررجسٹرڈ پرائیویٹ سکول چلانے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

Related posts