باپ کی وحشت کا شکار بیٹی حاملہ:پنچائت کی’’مٹی پاؤ‘‘ پالیسی


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد کے نواحی علاقے چک جھمرہ میں سگے باپ کی جنسی وحشت کا شکار نوعمر بیٹی حاملہ ہوگئی۔ ظلم کا نشانہ بننے والی 14سالہ لڑکی کی والدہ کی دہائی پر معاملہ گاؤں کے ’’بڑوں‘‘ کے علم میں آیا تو وحشی باپ کے ظلم کا معاملہ دبانے پر زور دیا اور گاؤں بدر کرنے کی سزا دے ڈالی۔ مظلوم لڑکی کی والدہ کی شکائت پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور ظالم باپ کیساتھ مٹی پاؤ پالیسی اپنانے والی پنچائت کیخلاف بھی مقدمہ درج کرلیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق تھانہ چک جھمرہ کے علاقے چک نمبر 189رب کی رہائشی طاہرہ بی بی نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی غیرموجودگی میں اس کے خاوند اسلم نے اپنی حقیقی 14سالہ بیٹی رمشاء کو اپنی جنسی وحشت کا نشانہ بنا ڈالا۔ باپ کی جنسی وحشت کا شکار بیٹی حاملہ ہوگئی تو ماں کو معاملے کا علم ہوا۔ خاتون نے اس بارے شور مچایا تو گاؤں کا نمبردار طیب ‘ رسول انور‘ عدیل وغیرہ پنچائتی بن کر آبیٹھے اور باز پرس کے بعد سنگین معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے لگے۔ پنچائت نے ملزم کو گاؤں بدری کی سزا سنائی اور ظلم کی داستان پولیس تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ خاتون نے تھانے میں درخواست دیدی تو پولیس نے بیٹی پر جنسی وحشت دکھانے والے اسلم کیخلاف تو مقدمہ درج کیا ہی ساتھ میں معاملے پر مٹی پاؤ پالیسی اپنانے والے نمبردار طیب اور اس کی حواری پنچوں کیخلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا ہے ۔

Related posts