پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں نے مزدوروں کو نظرانداز کیا


فیصل آباد (احمد یٰسین ) پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات کیلئے امیدواران کی نامزدگی میں ملک کے بڑے صنعتی شہر کے مزدور طبقہ کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا پی پی پی نے بھی صرف ایک صوبائی حلقے سے ٹکٹ دے کر مزدور طبقے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ تمام صورتحال میں افسوسناک امر یہ ہے کہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے حکومت میں آنے کی صورت میں لیبرپالیسی تک کا اعلان تک نہیں کیاگیا۔ تحریک انصاف نے لیبر قومی موومنٹ اور مزدور رہنماؤں کو ٹکٹوں کی یقین دہانیوں کے باوجود ٹرخا دیا۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کا شمار ملک کے بڑے صنعتی مراکز میں اور یہاں کی بہت بڑی اکثریت مزدور طبقے پر مشتمل ہے۔فیصل آباد کی 80لاکھ آبادی میں سے 18لاکھ سے زائد مختلف صنعتی اداروں میں مزدوری کرتی ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ تمام بڑی جماعتوں نے اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مزدور طبقے کو الیکشن ٹکٹوں کے حوالے سے مکمل نظر انداز کیا۔ اپنے تائیں سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدار تحریک انصاف نے تمام ٹکٹ سرمایہ داروں کو دئیے۔ وعدوں کو نعروں کے باجود مزدور رہنماؤں کو مکمل نظر انداز کیا ۔پی ٹی آئی ویسٹ ریجن لیبرونگ کے صدر اور کریسنٹ ملز لیبر یونین کے روح رواں امداد اعوان نے حلقہ پی پی 117سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کیلئے پارٹی فیس 50ہزار روپے بھی جمع کروائی تاہم انہیں ٹکٹ نہ دیاگیا ۔پارٹی کے لیبرونگ کے ریجنل جنرل سیکرٹری زاہد دبیرملہی کی طرف سے مزدوروں کا گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ پی پی 111سے الیکشن لڑنے کیلئے درخواست جمع کروائی گئی تاہم انہیں بھی نظرانداز کیاگیا۔شہر میں مزدوروں کے نمائندہ پلیٹ فارم‘لیبرقومی موومنٹ کے رہنماؤں بشمول اسلم معراج‘ میاں عبدالقیوم ودیگر کی کچھ عرصہ سے پی ٹی آئی کے ساتھ قربت سامنے آرہی تھی اور پارٹی قیادت کی طرف سے انہیں الیکشن لڑانے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی تاہم اب ان میں سے کسی بھی رہنما کو ایڈجسٹ نہیں کیاگیا۔مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی فیصل آباد کے قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ جاری کرتے وقت تمام سرمایہ کاروں اور مراعات یافتہ طبقہ کو ہی نواز دیاگیا ۔اگرچہ پارٹی کی طرف سے پی پی 97چک جھمرہ سے آزاد علی تبسم اور پی پی 112سے میاں طاہر جمیل کو ان کے کباڑ کے کاروبار کی وجہ سے ٹکٹ دیکر مزدوروں کو نمائندگی دیئے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تاہم مذکورہ بالا دونوں رہنماؤں کا شمار اب ارب پتی افراد میں ہوتا ہے اور اسکی تصدیق ان کے جمع کرائے گئے انتخابی گوشواروں سے بھی کی جا سکتی ہے۔بائیں بازو کی سیاست پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے مزدور طبقہ کے قریب سمجھی جانیوالی پاکستان پیپلزپارٹی نے فیصل آباد سے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے مزدور کو ٹکٹ دیا گیا۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 110سے پیپلز پارٹی نے اپنے دیرینہ کارکن ہوزری ورکر ندیم غفاری کو میئر فیصل آباد کے بھائی نواز ملک کے مقابلے میں ٹکٹ دیا ہے۔

Related posts