حافظ آباد:پی ٹی آئی کیلئے تحریک لبیک بڑا خطرہ بن گئی


فیصل آباد(احمدیٰسین)فیصل آباد کے نواحی ضلع حافظ آباد میں تحریک لبیک تینوں بڑی جماعتوں کیلئے خطرے کا نشان بنی ہوئی ہے مگر سب سے بڑا خطرہ تحریک انصاف کیلئے ثابت ہورہی ہے۔ تحریک انصاف کا پرچم تھام کر میدان میں اترنے والی حافظ آباد کی بھٹی فیملی دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ ایک پی ٹی آئی جبکہ دوسرا تحریک لبیک کے ٹکٹ پر ایکشن میں کود چکا ہے۔نیوزلائن کے مطابق ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت تحریک لبیک پاکستان حافظ آباد میں انتہائی مضبوط پوزیشن میں سمجھی جارہی ہے۔ ملک بھر میں عام تاثر ہے تحریک لبیک پاکستان اور تحریک اللہ اکبر ‘ مسلم لیگ ن کیلئے خطرہ ثابت ہوں گی مگر اس عام تاثر کے برعکس حافظ آباد میں تحریک لبیک کے امیدوار مسلم لیگ ن کو فائدہ جبکہ تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔حافظ آباد کی مقامی سیاست میں افضل تارڑ گروپ اور مہدی بھٹی گروپ اہم کردار ادا کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل سمجھے جاتے ہیں۔الیکشن کے اعلان سے قبل سمجھا یہی جا رہا تھا کہ ان دونوں گروپوں کے درمیان مقابلہ ہوگا اور خوب رن جمے گا۔ نئی حلقہ بندیوں کا وقت آیا تو حافظ آباد کی سیاست میں نیا انقلاب آگیا۔ حافظ آباد میں قومی اسمبلی کی دو کی بجائے ایک نشست کردی گئی جو مقامی سیاست کیلئے بھونچال ثابت ہوئی۔ مہدی بھٹی گروپ پنڈی بھٹیاں کی سیٹ محفوظ سمجھتا تھا اور حافظ آباد میں افضل تارڑ گروپ کیساتھ مقابلہ کرتا تھا مگر قومی اسمبلی کا ایک حلقہ بننے سے بھٹی فیملی میں اندرون خانہ اختلافات پیدا ہوگئے۔ تحریک انصاف نے مہدی بھٹی کے بیٹے شوکت بھٹی کو ٹکٹ دیا تو مہدی بھٹی کے بھائی لیاقت عباس بھٹی نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور تحریک لبیک کی ٹکٹوں پر حافظ آباد کی قومی اسمبلی کی سیٹ کیساتھ صوبائی اسمبلی کی تینوں سیٹوں پر اپنا پینل کھڑا کردیا۔مہدی بھٹی گروپ نے چاروں حلقوں میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اپنا پینل دیا ہے جبکہ افضل تارڑ گروپ نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر اپنا پینل کھڑا کیا ہے۔ چاروں حلقوں میں پیپلزپارٹی کے امیدوار بھی موجود ہیں مگرسیاسی حلقوں کے مطابق وہ کسی کیلئے خطرہ بنتے نظر نہیں آتے۔

Related posts