فیصل آباد میں عمران خان کا ’’سونامی‘‘ بری طرح فلاپ


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد میں عمران خان کا پاور شو بری طرح فلاپ ہو گیا۔ 31امیدوار مل کر 3100بندے اکٹھے کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ کپتان کی پرانے پاکستان کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرکے نئے پاکستان کیلئے نئے کھلاڑی چننے کی پالیسی نے خود ان کیلئے شرمندگی کا سامان کردیا۔ پرانے کھلاڑی خاموش رہے جبکہ نئے کھلاڑی کاہل بنے رہے اور کپتان کا سونامی صرف اڑھائی ہزار کی بھیڑ تک محدود رہا۔اپنے تائیں فیصل آباد کے ’’وڈے لیڈر‘‘ پانچ پانچ ‘ چھے چھے کی ٹولیوں میں آتے اور سٹیج پر رش بناتے رہے۔ گراؤنڈ میں رکھی پانچ ہزار کرسی بھرنے کیلئے کسی نے کچھ کیا اور نہ عوام نے ’’لفٹ‘‘ کروائی۔عمران خان خالی کرسیوں سے خطاب اور اپنے لیڈروں کو کوسنے دیتے ہوئے واپس سدھار گئے۔ نیوزلائن کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے فیصل آباد میں ایک بڑے ’’سونامی‘‘ کا اعلان کر رکھا تھا۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور چوہدری سرور کئی روز سے جلسہ عام کیلئے انتظامات کررہے تھے۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت دعویٰ کررہی تھی کہ یہ فیصل آباد کا تاریخی جلسہ ہو گا۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ جلسے میں پچاس ہزار سے زائد افراد اکٹھے کئے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کے ’’لیڈر‘‘ چوہدری سرور نے فیصل آباد سے ایم این اے کے ہر امیدوار کو دوہزار جبکہ ایم پی اے کے ہر امیدوار کو ایک ہزار بندے لے کر جلسہ گاہ آنے کا حکم دیا تھا ۔ اپنے تائیں بڑے لیڈر بنا جانے والے ہر امیدوار نے اس معاملے کو دوسروں پر چھوڑ دیا اور پنڈال میں خالی کرسیاں بھائیں بھائیں کرتے پنڈال کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فیصل آباد شہر سے عوام نے عمران خان کو کوئی لفٹ نہیں کروائی ۔ صرف ساہی برادران اور نواب شیر وسیر چند سو افراد کے قافلے اپنے ساتھ لائے جو پی ٹی آئی کی صورتحال دیکھتے ہوئے بہت بڑی حاضری بن گئے۔ ندیم آفتاب سندھو کا قافلہ بھی قابل ذکر حاضری بنانے کی بڑی وجہ بن گیا۔اور پی ٹی آئی کا سونامی سینکڑوں کے اجتماع سے نکل کر ہزاروں کا مجمع بن گیا۔ وگرنہ وہ کرلے گا سوچتے سوچتے پی ٹی آئی کے ’’لیڈرز‘‘ نے لٹیا ہی ڈبو ڈالی تھی۔ راجہ ریاض پانچ افراد کے جلو میں ایک گاڑی کا قافلہ لے کرتشریف لائے اور اپنے تمام بندوں کو سٹیج پر جگہ دینے میں مصروف ہوگئے۔ چوہدری ظہیر بھی ایک گاڑی کے قافلے میں آئے۔ فرخ حبیب کی گاڑیاں تو دو تھیں مگر بندے اس کے ساتھ بھی پانچ ہی تھے۔ شیخ خرم شہزاد جن کے حلقے میں جلسہ تھا وہ بھی دوسروں کی راہ ہی تکتے رہے۔ خود بندے اکٹھے کرنے اور عوام کو موبلائز کرنے کی ضرورت انہوں نے بھی محسوس نہ کی۔ فیض اللہ کموکا پارٹی کے اندر مخالفت کی وجہ سے دوسرو ں کے آسرے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ سردار دلدار احمد چیمہ اپنی پجارو کے علاوہ کچھ بھی نہ لا سکے۔ سٹیج پر ان کی حاضری کے علاوہ پنڈال میں ان کا کچھ بھی نہ تھا۔ رضا نصراللہ گھمن بھی سرمایہ فراہم کرنے کے سوا جلسے کیلئے کچھ نہ کرسکے۔شکیل شاہد اپنے حلقے میں ہونے والے جلسے کا بھرم قائم رکھنے کیلئے کچھ کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ غلام حیدر باری ‘ علی اختر‘ خالد رفیع چیمہ بھی صرف حاضری لگوانے کیلئے آئے اور سٹیج پر حاضری لگوانے تک ہی محدود رہے۔ خیال کاسترو بھی خیالوں میں ہی جلسہ بھرتے رہے۔ عدنان انور رحمانی اپنے پلازے اور بزنس فرم کے ملازمین کو ہی لے آتے توسات آٹھ گاڑیاں بھر لاتے مگر ان سے یہ بھی نہ ہوسکا اور اپنی پجارو میں تین افراد کے ہمراہ حاضری لگوانے پہنچ گئے۔میاں وارث اور محبوب عالم سندھو بھی قابل ذکر افراد اکٹھے نہ لاسکے۔ ڈاکٹر نثار احمد جٹ‘ رانا آفتاب احمد خاں‘ ڈاکٹر اسد معظم ‘ سعد اللہ بلوچ‘ شاہد خلیل نور‘ حافظ ممتاز احمد‘ دلنواز چیمہ‘ شمشیر حیدر وٹو‘ عادل پرویز مقامی قیادت کیساتھ اختلافات اور چوہدری سرور کی ’’اوور‘‘ انٹری سے ناراض ہونے کی وجہ سے جلسہ سے غیرحاضر رہے۔پرانے پاکستان کے کھلاڑیوں نے الیکشن میں نظرانداز کرنے کا بدلہ جلسے سے غیر حاضر ہوکر لیا اور نئے پاکستان کے کھاڑیوں کو کچھ کردکھانے کی کھلی چھٹی دئیے رکھی مگر نئے پاکستان کے کپتان کے نئے کھلاڑی پہلے ہی امتحان میں بری طرح فیل ہوگئے اور کپتان کو بھی فیصل آباد کی عوام کے سامنے شرمندہ کردیا۔

Related posts