این اے 103:پی پی پی کے شہادت بلوچ کو شکست دینا انتہائی مشکل


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 103میں انتہائی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ ن ‘ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں میں’’کلوزفائیٹ‘‘دیکھنے میں آسکتی ہے۔تاہم پی پی پی کے شہادت علی خاں بوچ کو شکست دینا مخالفین کیلئے انتہائی مشکل ہوگا۔ پنجاب کے دوسرے متعدد حلقوں کی نسبت اس حلقے میں پیپلزپارٹی کا امیدوار مضبوط پوزیشن میں ہے۔ این اے 103فیصل آباد iiiتاندلیانوالہ‘ ستیانہ‘ پنڈی شیخ موسیٰ‘ روڈالہ‘ گڑھ فتح شاہ‘ کیلیانوالہ‘ رحمے شاہ‘ کنجوانی اور تاریخی علاقہ سابقہ ریاست جھامرہ کے علاقے شامل ہیں۔اس حلقے کے اکثریتی علاقے خاندانی دشمنیوں‘ مویشی چوری‘ رسہ گیری اور تھانہ کچہری کی سیاست اور برادری ازم کے نام پر ووٹنگ کے حوالے سے مشہور ہیں۔ بلوچ یہاں کی سب سے بڑی برادری ہے ۔ وٹو ‘ کھرل‘ فتیانے‘ سید‘ راجپوت‘ آرائیں اور گجر بھی بالترتیب یہاں کی بڑی برادریاں ہیں۔ اس حلقے میں مذہبی بنیادوں پر ووٹ انتہائی کم ہے۔ کسی بھی الیکشن میں یہاں سے مذہبی جماعتوں کا امیدوار خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔این اے 103جن علاقوں پر مشتمل ہے وہاں الیکشن 1977میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر خان شہادت علی خان بلوچ کامیاب ہوئے تھے۔ 1985کے الیکشن میں آزاد امیدوار ناصر بلوچ کامیاب ہوئے۔ الیکشن 88میں دوبارہ شہادت بلوچ جبکہ الیکشن 90میں ناصر بلوچ کو کامیابی ملی۔ 1993میں دوبارہ شہادت بلوچ نے اپنی سیٹ چھین لی مگر 1997میں ناصر بلوچ دوبارہ کامیاب رہے۔ مشرف دور میں ہونیوالے الیکشن 2002میں بی اے کی شرط کے باعث شہادت بلوچ اور ناصر بلوچ دونوں ہی انتخابی عمل سے باہر ہوگئے ۔ پیپلز پارٹی نے شہادت بلوچ کے مخالف اسحاق شفقت بلوچ کو میدان میں اتارا جبکہ مسلم لیگ ق نے ناصر بلوچ کی مرضی سے ان کے بھتیجے رجب علی خان بلوچ کو ٹکٹ دیا۔ اس الیکشن میں رجب بلوچ جیت گئے۔مگر الیکشن جیتتے ہی رجب بلوچ کے اپنے چچا ناصر علی خان بلوچ سے اختلافات ہوگئے۔ الیکشن 2008میں رجب بلوچ دوبارہ ق لیگ کے ٹکٹ پر میدان میں اترے مگرپیپلز پارٹی کی امیدوار شہادت بلوچ کی صاحبزادی راحیلہ شہادت بلوچ سے ہار گئے۔ الیکشن 2013دوبارہ رجب بلوچ نے کامیابی حاصل کی ۔ مگر اسی دوران وہ کینسر کی بیماری کا شکار ہوگئے اور ن لیگ حکومت کے آخری دنوں میں وفات پاگئے۔ پیپلزپارٹی نے اس مرتبہ پھر خان شہادت علی خان بلوچ کو میدان میں اتارا ہے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار سابق ایم این اے ناصر علی خان بلوچ کے صاحبزادے سعد اللہ بلوچ ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے رجب بلوچ کے بھائی علی گوہر بلوچ کو ٹکٹ دیا ہے۔تینوں امیدوار مضبوط گردانے جارہے ہیں تاہم اس حلقے کی اکثریتی بلوچ برادری دو دھڑوں شہادت بلوچ اور ناصر بلوچ کے دھڑوں میں تقسیم تھی مگر اب ناصر بلوچ کا دھڑا مزید دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اس حلقے میں پارٹی ووٹ انتہائی کم ہے اور دھڑے بندی کی سیاست انتہائی مضبوط ہے۔ 25جولائی 2018کو ہونیوالے الیکشن میں تینوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان انتہائی دلچسپ اور’’ کلوز فائیٹ‘‘ ہوگی۔ فیصل آباد کے اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کو کمزور قرار نہیں دیا جاسکتا۔ علی گوہر اور سعد بلوچ کی نسبت وہ متحرک بھی کافی ہیں اور انکا انتخابی میدان میں تجربہ بھی دونوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ماضی میں شہادت بلوچ کو مامونکانجن کے علاقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا مگر ماموکانجن کو اس حلقے سے نکال کر سمندری میں شامل کردیا گیا ہے ۔ اس سے بھی شہادت بلوچ کو فائدہ ہوگا۔دریائے راوی کی بیلٹ میں شہادت بلوچ اور ناصر بلوچ ایک جیسا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ کنجوانی کی طرف علی گوہر مضبوط پوزیشن میں ہے۔ رحمے شاہ میں پی پی پی کا خاصا ووٹ بنک ہے۔ جھامرہ کھرل برادری کا خاص علاقہ اور جنگ آزادی کے ہیرو احمد خان کھرل کی ریاست کا صدر مقام رہا ہے۔ستیانہ اور جھامرہ کے علاقوں کے ووٹرز کا رجحان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

Related posts