سیاستدانوں نے تجوریاں بھرلیں:بنکوں پر عدم اعتماد


فیصل آباد(احمد یٰسین)ملک و ملت کا درد رکھنے کے دعویدار اور ملکی نظام کیلئے عوام کو قربانیاں دینے کا درس دینے والے سیاستدان خود سسٹم پر عدم اعتماد کررہے ہیں۔پاکستانی بنکوں پر کھلا عدم اعتمادکرتے ہوئے سیاسی شخصیات تجوریاں اور صندوق بھر کر دولت چھپانے میں مصروف ہیں۔ فیصل آباد کے سیاستدانوں کی بڑی تعداد نظام سے خوفزدہ اور خفیہ تجوریوں اور صندوقوں میں نقد رقوم محفوظ کرنے میں جتی ہوئی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی سیاسی شخصیات کی اپنی دولت بنکوں میں غیرمحفوظ سمجھتے ہیں اورخفیہ مقامات پر خفیہ تجوریوں چھپا کر رکھنے کو ترجیح دی رہی ہے۔ نیوزلائن کے حاصل دستاویزات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما مہر عبدالرؤف رشید ہر وقت10سے 12کروڑ روپے نقد اپنے پاس رکھتے ہیں جبکہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں سات ‘آٹھ کروڑ سے زائد رقم نہیں ہوتے جبکہ کروڑوں روپے اس کے علاوہ انہوں نے اپنی خفیہ تجوریوں میں چھپا رکھے ہیں۔ ان کا کاروباری سرمایہ اور جائیدادیں اس کے علاوہ ہیں۔ مسلم لیگ نے کے ٹکٹ ہولڈر پی پی 117کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق ان کے پاس دو کروڑ 39ہزار 454روپے نقد موجود ہیں ۔تبدیلی کا نعرہ بلند کرنیوالی تحریک انصاف کے اہم رہنما اور سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم فیصل آباد رانا زاہد توصیف تو بنکنگ سسٹم سے اتنے نالاں ہیں کہ انکے بنک اکاؤنٹ میں صرف 41ہزار تین روپے موجود ہیں جبکہ ان کی تجوریوں میں نقد رقم کی صورت میں ایک کروڑ 30لاکھ 28ہزار 291روپے موجود ہیںیہ رقم بھی وہ ظاہر کر رہے ہیں جبکہ تجوریوں میں خفیہ طور پر اسکے علاوہ بھی رقوم ہوں تو اس کے بارے میں وہ خاموش ہیں۔ تحریک انصاف کے پی پی 115سے امیدوار ڈاکٹر اسد معظم بھی بنکنگ سسٹم پر عدم اعتماد کا کھلا اظہار کررہے ہیں۔ان کے بنک اکاؤنٹ میں صرف تین ہزار 761روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں ظاہر کردہ رقم 81لاکھ 59ہزار 925روپے ہے۔ تبدیلی کی دعویدار پی ٹی آئی کے ہی ایک رہنما امیدوار پی پی 112عدنان انور رحمانی کا معاملہ بھی مختلف نہیں ہے۔ عدنان انور رحمانی کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق ان کی تجوری میں دو کروڑ21لاکھ 88ہزار 977روپے موجود ہیں جبکہ ان کے تین بنکوں کے تین اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 26لاکھ 86ہزار 366روپے موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے شہباز بابر اپنے بنک اکاؤنٹ میں تو صرف 26لاکھ روپے رکھتے ہیں جبکہ ایک کروڑ 50لاکھ 54ہزار 246روپے انہوں نے اپنی خفیہ تجوری میں رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے این اے 107سے امیدوار ملک سردار محمد کے بنک اکاؤنٹ میں 12لاکھ 39ہزار 149روپے ہیں تو خفیہ تجوری میں نقد پانچ کروڑ 29لاکھ 52ہزار 167روپے رکھے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما خرم شہزاد امپورٹ ایکسپورٹ کے بزنس سے وابستہ ہونے کے باوجود بنک اکاؤنٹ نہیں رکھتے یا بنک اکاؤنٹ وہ اپنے اثاثوں میں ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتے تاہم ان کی تجوری میں بھی نقد پونے تین کروڑ روپے موجود ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما کاشف نواز رندھاوا کا بنک پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ان کے دو بنک اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 9098روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں 81لاکھ 95ہزار 115روپے رکھتے ہیں۔ ن لیگ کے سابق ایم پی اے نواز ملک کو دو بنک اکاؤنٹس میں صرف دو لاکھ 66ہزار411روپے موجود ہیں جبکہ کاروباری سرمایہ کے علاوہ ان کی اپنی تجوری میں 25لاکھ 37ہزار 454روپے موجود ہیں۔ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کے داماد این اے 106میں رانا ثناء اللہ کے کورنگ امیدوار رانا احمد شہریار کے بنک اکاؤنٹ میں 41ہزار 149روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں نقد 61لاکھ 20ہزار 933روپے رکھتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ایم پی اے فقیر حسین ڈوگرکے اپنے ظاہرکردہ اثاثوں کے مطابق ان کے بنک اکاؤنٹ میں صرف چار لاکھ 92ہزار 949روپے ہیں جبکہ تجوری میں 20لاکھ 19ہزار 917روپے رکھے ہیں۔ سابق ایم پی اے میاں طاہر جمیل کی صورتحال بھی مختلف نہیں ان کی تجوری میں ظاہر کردہ رقم نو لاکھ 98ہزار 406روپے ہے تو بنک میں صرف ایک لاکھ 56ہزار 852روپے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار زکریا سید کے اپنے ظاہر کردہ اثاثون کے مطابق ان کے بنک اکاؤنٹ میں صرف 23ہزار461روپے ہیں جبکہ تجوری میں نقد رقم 30لاکھ 19ہزار 432روپے ہے۔ مسلم لیگ ن کے پی پی 116سے ٹکٹ کے خواہاں رہنما میاں ضیاء الرحمان کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق ان کااپنا بنک اکاؤنٹ سرے سے ہے ہی نہیں ۔ جبکہ تجوری میں 10لاکھ 29ہزار روپے چھپا رکے ہیں۔44لاکھ 93ہزار 321روپے کے بنک کے قرضے تلے دبے ہوئے سابق وزیر مملکت داخلہ طلال بدر چوہدری اپنے ظاہر کردہ اثاثوں میں اپنا بنک اکاؤنٹ عوام کے سامنے لانے سے ہی گریزاں ہیں جبکہ تجوری میں ان کے پاس بھی 33لاکھ 66ہزار 950روپے موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اجمل چیمہ کے اکاؤنٹ میں تو چار لاکھ 93ہزار 883روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں نقد اس سے کئی گنا زائد موجود ہیں۔ کوہستان لاجسٹک کے اہم شیئر ہولڈر اور سابق ایم این اے عاصم نذیر کے 6بنک اکاؤنٹ ہیں اور میں مجموعی طور 6لاکھ روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں انہوں نے 57لاکھ 76ہزار 754روپے چھپا رکھے ہیں۔ تحریک انصاف کی ٹکٹ کے خواہاں رہنما محمد ظاہراولکھ کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق ان کی تجوری میں 10کروڑ روپے سے زائد رقم موجود ہے جبکہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں صرف4ہزار 330روپے موجود ہیں۔ این اے 103سے مسلم لیگ ن کے امیدوار علی گوہر بلوچ 79لاکھ روپے نقد اپنی تجوری میں رکھتے ہیں جبکہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں 31لاکھ 32ہزار 988روپے ہیں۔ سابق ایم این اے رجب علی بلوچ کی بیوہ اور این اے 103سے امیدوار بننے کی خواہاں عائشہ رجب بلوچ کے پاس تجوری میں نقد تو 45لاکھ روپے ہیں جبکہ بنک اکاؤنٹ میں صرف تین لاکھ 98ہزار روپے رکھتی ہیں۔ رجب بلوچ کے صاحبزادے محمد علی بلوچ کی تجوری میں نقد ایک کروڑ 27لاکھ 43ہزار روپے موجود ہیں جبکہ بنک اکاؤنٹ میں 24لاکھ روپے رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے جعفر علی ہوچہ بنک میں تو صرف 2لاکھ 32ہزار 137روپے رکھتے ہیں جبکہ تجوری میں 29لاکھ روپے تو اثاثوں میں ظاہر کررہے ہیں۔ سابق ایم پی اے احسن ریاض فتیانہ کے بنک اکاؤنٹ میں 6لاکھ 32ہزار 646روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں 30لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں احن ریاض فتیانہ کے حوالے سے اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کا کوئی کاروبار نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ کروڑوں روپے لگا کر الیکشن بھی لڑتے ہیں اور تجوری میں لاکھوں روپے بھی رکھے ہوئے ہیں۔ پی پی پی کے این اے 104سے امیدوار سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان نے اپنے اثاثوں میں ظاہر کیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں آٹھ لاکھ 48ہزار 674روپے موجود ہیں جبکہ ان کی تجوری میں نقد ایک کروڑ 84لاکھ 16ہزار 894روپے موجود ہیں۔ این اے 104سے آزاد امیدوار خالد محمود گل نقد تو 14لاکھ 25ہزار رکھتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں دس گنا کم صرف 14ہزار825روپے موجود ہیں۔ خود کو بے روزگار ظاہر کرکے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار این اے 108فرخ حبیب کے بنک اکاؤنٹ میں تو 74ہزار 702روپے موجود ہیں جبکہ نقد انہوں نے بھی اپنی تجوری میں لاکھوں روپے رکھے ہوئے ہیں۔ سابق مئیر چوہدری عامر شیر علی کے دو بنک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ 25ہزار 247روپے رکھے ہیں جبکہ خفیہ تجوری میں انہوں نے ایک کروڑ پانچ لاکھ 15ہزار 844روپے رکھے ہوئے ہیں۔ سابق ایم این اے اعجاز ورک تجوری میں نقد ایک کروڑ 37لاکھ 45ہزار 252روپے رکھتے ہیں جبکہ بنک اکاؤنٹ میں انہوں نے بھی صرف دولاکھ 24ہزار 842روپے رکھے ہوئے ہیں۔ سابق ٹاؤن ناظم سجاد حیدر چیمہ کے بنک اکاؤنٹ میں تو صرف ایک ہزار426روپے موجود ہیں جبکہ تجوری میں نقد 29لاکھ 48ہزار964روپے رکھے ہوئے ہیں۔ سابق ایم این اے اور این اے 106سے پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر نثار احمد کے بنک اکاؤنٹ میں صرف چار لاکھ 17ہزار 750روپے ہیں جبکہ خفیہ تجوری میں 48لاکھ 39ہزار555روپے رکھے ہوئے ہیں۔ ختم نبوت کے معاملے کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ن چھوڑنے اور پی ٹی آئی میں شامل ہونیوالے این اے 105سے امیدوار رضا نصراللہ گھمن بھی بنک کی نسبت اپنی تجوری میں سرمائے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ رضا نصراللہ گھمن کے بنک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 25لاکھ 52ہزار 979روپے ہیں تو ان کی تجوری میں ظاہر کردہ تین کروڑ 71لاکھ 98ہزار روپے موجود ہیں۔ پانچ کمپنیوں میں حصے دار ہونے کے باوجود سابق ایم این ایز میں سب سے غریب مگرپی ٹی آئی رہنما رانا آصف توصیف کے بنک اکاؤنٹ میں صرف 18ہزار 827روپے اور ان کے پاس نقد ایک لاکھ 18ہزار14روپے ہیں۔ رائے احسن رضا کی تجوری میں نقد پانچ کروڑ 15لاکھ روپے موجود ہیں جبکہ ان کے پانچ بنک اکاؤنٹس میں مجموعی طور 20لاکھ 49لاکھ 820روپے ہیں۔ رائے ندیم حیات کی تجوری میں پچاس لاکھ روپے جبکہ بنک اکاؤنٹ میں سات لاکھ 93ہزار 437روپے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے میاں محمد فاروق دو کروڑ 58لاکھ 58ہزار 617روپے اپنی خفیہ تجوری میں رکھے ہوئے ہیں جبکہ دو بنک اکاؤنٹس میں ان کے مجموعی طور پر 6لاکھ 50ہزار 388روپے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر قاسم فاروق کے بنک اکاؤنٹ میں صرف 14ہزار 494روپے ہیں جبکہ تجوری میں 10لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور این اے 105سے سابق ٹکٹ ہولڈر میاں نعیم ای مارٹ والے کے بنک اکاؤنٹ میں صرف چار ہزار 596روپے ہیں جبکہ خفیہ تجوری میں دو کروڑ 61لاکھ 59ہزار 105روپے موجود ہیں۔ عوام کو ملک و قوم کی بہتری اور سسٹم پر اعتماد کا ’’بھاشن ‘‘دینے والے سیاستدانوں کی تجوریوں میں موجود رقوم ان کی اپنی ہی اثاثوں میں ظاہر کردہ ہیں ان رقوم کے علاوہ انہوں نے خفیہ طور پر تجوریوں میں کیا چھپا رکھا ہے وہ بنک میں موجود رقوم اور تجوری میں ظاہر کردہ رقوم کے فرق سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Related posts