این اے 102: طلال کا مستقبل سوالیہ نشان‘ پی پی پی بھی گیم میں موجود


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 102میں دلچسپ مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔ اس حلقے سے الیکشن 2013میں کامیاب ہونیوالے سابق وزیر مملکت اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرطلال بدر چوہدری کا مستقبل توہین عدالت کیس کی وجہ سے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ حلقے میں طلال کے مخدوش مستبقل کی دور دور تک گونج ہے۔توہین عدالت کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ محفوظ کرچکی ہے اور قانونی ماہرین امکان ظاہر کررہے ہیں کہ اس میں کم سے کم سزا بھی طلال چوہدری کو نااہل کر دیگی۔ نااہلی کا خدشہ ہی طلال چوہدری کیلئے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال کا شکار اس حلقے کے ووٹر ہیں ۔ ووٹرزکی اکثریت اپنے نمائندے کو نااہل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی اور اس کا حل وہ طلال چوہدری کو ووٹ کاسٹ نہ کرکے نکال رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی سے سابق ایم این اے نواب شیر وسیر کو درآمد کرکے اس حلقے سے ٹکٹ دیا ہے حالانکہ اس حلقے میں چوہدری وصی ظفر اور عبدالوحید نیازی کی شکل میں پی ٹی آئی کے پاس مضبوط امیدوار پہلے ہی تھے۔ مگر پی ٹی آئی قیادت نے پی پی پی سے نواب شیر وسیر اور مسلم لیگ ق سے چوہدری ظہیر الدین کو درآمد کر لیا۔ نواب شیر اور چوہدری ظہیر میں این اے 102کی ٹکٹ کیلئے بھرپور جنگ ہوئی جس میں پارٹی کی سطح پر الزام تراشی کے علاوہ میڈیا کا بھی استعمال کیا گیا۔ چوہدری ظہیر کو اسی حلقے کے ذیلی حلقے پی پی 100کی ٹکٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا مگر اس سے پی پی 100میں مضبوط گردانے جانیوالے سردار بہادر ڈوگر ناراض ہوگئے اور آزادحیثیت الیکشن میں کود کر قومی اور صوبائی اسمبلی کے اپنی پارٹی کے امیدواروں کیلئے ہی چلنج بن گئے۔سابق وزیر قانون چوہدری وصی ظفر کو عمران خان اور پی ٹی آئی کی دیگر قیادت کے ناروا روئیے سے پارٹی چھوڑتے ہی بنی اور وہ بلامشروط واپس اپنی پرانی پارٹی پی پی پی میں چلے گئے اور پی پی پی کے امیدواروں کی کھلے عام حمائت کا اعلان کردیا۔پی ٹی آئی کی ٹکٹ کے مضبوط امیدوار عبدالوحید خان نیازی بظاہر تو خاموش ہو کر بیٹھ گئے ہیں مگر پارٹی فیصلے کو انہوں نے بھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور الیکشن میں نواب شیر وسیر کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی میں رہتے ہوئے الیکشن 2018میں اس حلقے سے نواب شیر وسیر کی جیت یقینی گردانی جا رہی تھی مگر اب پی پی پی کا ووٹر ان سے شدیدناراض ہے جبکہ پی ٹی آئی کا کارکن انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔پیپلزپارٹی نے وقت اور حالات کے پیش نظر بہترین فیصلہ کیا اور اس حلقے سے دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہونے والے رائے محمد اسلم کھرل کے داماد رائے شاہجہاں کھرل ٹکٹ دیدیا۔ رائے شاہ جہاں خود بھی 2008میں اسی علاقے سے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔سابق وزیر قانون چوہدری وصی ظفر بھی رائے شاہجہاں کی کھل کر حمائت اور نواب شیر وسیر کی مخالفت کررہے ہیں۔جس سے انتخابی ماحول خوب گرمایا گیا ہے۔سردار بہادر ڈوگر خود تو آزاد امیدوار ہیں ہی مگر اندرون خانہ پی پی پی کے رائے شاہ جہاں کی حمائت بھی کررہے ہیں۔ اس صورتحال میں دیکھا جائے تو نواب شیر وسیر کے جانے سے پیپلزپارٹی کو جتنا نقصان ہوا تھا ‘پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی تقسیم سے اٹھنے والے طوفان نے اتنا ہی فائدہ اس حلقے میں پی پی پی کو پہنچا دیا ہے ۔ طلال چوہدری کی متوقع نااہلی کے خدشات کا بھی براہ راست فائدہ پی پی پی کے امیدوار کو پہنچ رہا ہے اور نواب شیر وسیر کے مخالفین رائے شاہ جہاں کیساتھ اکٹھے ہو رہے ہیں۔

Related posts