کپتان مطمئن مگرپی ٹی آئی رہنما ؤں کے الیکشن نتائج پرتحفظات


فیصل آباد(نیوزلائن)عمران خان اپنی کامیابی پر مطمئن اور مسرور ہیں مگر دوسری جانب مسلم لیگ ن ‘ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے اور الیکشن 2018کے نتائج پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018کے نتائج درست طور پر مرتب نہیں کئے گئے۔ پولنگ عملے نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور بعض مقامات پر پولنگ عملے نے ملی بھگت کی۔ نیوزلائن کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان الیکشن نتائج پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں اور نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں مگر اس کے برعکس پی ٹی آئی کے درجنوں رہنما الیکشن نتائج کو مسترد کررہے ہیں اور اس کیخلاف الیکشن کمیشن کو اعتراضات جمع کروا رہے ہیں۔ فیصل آباد ریجن میں متعدد حلقوں کے نتائج پر تحریک انصاف تحریری شکایات جمع کروا رہی ہے۔رانا ثناء اللہ کے ہاتھوں شکست کھانے والے ڈاکٹر نثار احمدالیکشن عملے کیخلاف شکائت کرچکے ہیں اور دوبارہ گنتی کے خواہاں ہیں۔ چنیوٹ سے تحریک انصاف کے امیدوار ذوالفقار شاہ بھی پولنگ عملے کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پیر محل سے پی ٹی آئی کی امیدوار سونیا کو بھی ناکامی کے بعد خیال آیا کہ پولنگ عملے نے درست کام نہیں کیا تو انہوں نے بھی شکایات کے انبار لگا دئیے۔ پی پی 116سے پی ٹی آئی کے امیدوار محبوب عالم سندھو بھی الیکشن عملے کی غیرجانبداری کیخلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔ پی پی 106سے پی ٹی آئی کے امیدوار دلنواز چیمہ بھی الیکشن نتائج منظور ہونے بارے تحریری درخواست الیکشن کمیشن کو دے چکے ہیں۔ پی پی 112سے پی ٹی آئی کے امیدوار عدنان انور رحمانی بھی کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن عملے نے درست کام نہیں کیا اور غیرجانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا اور دھاندلی ہوئی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری اشفاق بھی دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔

Related posts