ٹوبہ کا انتخابی معرکہ :چوہدری اشفاق ناکام‘ ریاض فتیانہ فتحیاب


فیصل آباد(طاہر رشید)ٹوبہ ٹیک سنگھ کے الیکشن 2018کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ جوڑ توڑ میں ماہر ہونے کے باوجود انتخابی سیاست میں پی ٹی آئی کے چوہدری اشفاق بری طرح ناکام رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ہی امیدوار ریاض فتیانہ نے چوہدری اشفاق کی مخالفت کے باوجود اپنے حلقوں میں بھاری اکثریت سے کامیابی سمیٹ کربرتری ثابت کردی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی ویسٹ پنجاب کے سابق صدر چوہدری اشفاق دعویدار تھے کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تمام نشستوں پر وہ کامیابی حاصل کریں گے مگر وہ اپنی بھی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے۔ چوہدری اشفاق نے این اے 111 اور این اے 112 میں اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دلوائے ۔چوہدری اشفاق نے اپنے ساتھ صوبائی حلقوں میں بھی اپنی پسند کے امیدوار میدان میں اتارے۔پی پی 118میں اسد زمان ‘ پی پی 119میں خالد بشیراور پی پی 120میں محمد رمضان کو ٹکٹ دلوایا۔پی ٹی آئی ویسٹ پنجاب کے سابق صدر چوہدری اشفاق نے این اے 113ٹوبہ میں ریاض فتیانہ کی بھرپور مخالفت کی۔ انہیں پارٹی میں قبول کرنے سے انکار کیا۔ مگر کپتان نے چوہدری اشفاق کی مخالفت کے باوجود این اے 113میں ریاض فتیانہ اور پی پی 122میں آشفہ ریاض فتیانہ کو ٹکٹ دیدیا۔ ریاض فتیانہ نے اپنے ساتھ پی پی 123میں سونیا شاہ کا بھی ٹکٹ کنفر م کروایا ۔پی پی 121میں پی ٹی آئی کے امیدوارسعید احمدتھے ۔ الیکشن کے دوران بھی چوہدری اشفاق نے ریاض فتیانہ کیساتھ اپنی مخالفت خوب نبھائی اور پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر این اے 113میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اسدالرحمان کی حمائت کرتے رہے۔25جولائی کو ہونیوالے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو چوہدری اشفاق کے گروپ کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خود چوہدری اشفاق مسلم لیگ نے کے جنیدانوار چوہدری سے شکست کھاگئی۔ این اے 111میں چوہدری اشفاق کے چہیتے امیدوار اسامہ حمزہ کو بھی خالد جاوید وڑائچ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ پی ٹی آئی کے پی پی 118میں امیدوار اسد زمان ‘ پی پی 119میں امیدوار خالد بشیر‘ پی پی 120میں محمد رمضان کو بری طرح ن لیگ کا ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جبکہ دوسری جانب این اے 113میں چوہدری اشفاق کی شدید مخالفت اور ن لیگ کیساتھ اتحاد بنانے کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدوارریاض فتیانہ واضح برتری سے کامیاب ہوگئے۔ ان کے ساتھ پی پی 121میں سعید احمد ‘ پی پی 122میں آشفہ ریاض فتیانہ اور پی پی 123میں سونیا بھی کامیاب ہوگئیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق چوہدری اشفاق نے مسلم لیگ ن کے امیدوار اسدالرحمان کیساتھ خفیہ سیاسی اتحاد بنا کر اپنی سیاست کو خطرے میں ڈال لیا تھا جبکہ ماضی میں بھی ان کی اسی غلط پالیسی کی وجہ سے انہیں شکستوں سے دوچار ہونا پڑا۔ چوہدری اشفاق کی الیکشن 2008اور الیکشن 2013میں چوہدری اشفاق کی شکست بھی ان کی ایسی ہی غلط حکمت عملی کا نتیجہ بتایا جاتاہے۔مسلسل تین انتخابات میں شکست کے باوجود چوہدری اشفاق اپنی غلطی اور عوامی حمائت نہ ہونے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور پیسے کے بل بوتے پر سیاست چمکانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

Related posts