شہباز شریف نے فیصل آباد میں چوہدری شیرعلی کی سیاست ختم کردی


فیصل آباد کی سیاست کے دوبڑے نام لینا ہوں تومیاں زاہد سرفراز اور چوہدری شیر علی کا نام بغیر کسی مبالغہ کے لیا جا سکتا ہے۔شہر کی بلدیاتی سیاست میں انتہائی سرگرم ہونے کی وجہ سے چوہدری شیرعلی نے مقامی طور پر بہت نام کمایا اس کے ساتھ ہی انہوں نے میاں نواز شریف کیساتھ وفاداری کا دامن بھی کبھی نہیں چھوڑا شائد ان کی یہی وفاداری ان کا جرم بن گئی۔پہلے ذکرکریں میاں زاہد سرفراز کا۔میاں زاہد سرفراز نے میاں نواز شریف کو 1992میں سابق صدر غلام اسحاق کیساتھ نیا پیمان ہونے پر داغ مفارقت دیدیا تھا اور اس کے بعد وہ دوبارہ نوازشریف کے ہم رکاب ہونے کے کبھی تمنائی بھی نہیں رہے۔ پہلے جونیجو لیگ میں گئے اور سیاسی اننگز کھیلنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ پھر مشرف کی بنائی ق لیگ میں چوہدری برادران کے ہم رکاب ہو کر سیاسی اٹھان کی کوشش کی مگر اس میں بھی کامیابی ان سے دور رہی۔ تازہ سیاسی اننگز کپتان کے ہم رکاب ہو کر اپنے بیٹے کو ایم این اے کا امیدوار بناکر کھیلنے کی کوشش کی مگر اسے خود کپتان نے کامیاب نہ ہونے دیا۔بلاشبہ چوہدری شیر علی فیصل آباد کی سیاست کا بہت بڑا نام ہے۔ فیصل آباد کی سیاست کا جب بھی جہاں کہیں بھی ذکر ہوگا اس میں چوہدری شیر علی کا نام لئے بغیر لائلپور دھرتی کی سیاست کا ذکر ادھورا رہے گا۔ خود مئیر فیصل آباد رہے۔اپنے بیٹے عامر شیرعلی کو میئر فیصل آباد بنوایا‘ میاں شہباز شریف رکاوٹ نہ بنتے تو دوسری مرتبہ بھی عامر کو میئر بنوالیتے اور اس وقت عامر ہی شہر کا میئر ہوتا۔ تین مرتبہ خود ایم این اے بنے۔ رانا ثناء اللہ ان کی ہی چھوڑی ہوئی صوبائی نشست پر ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوکر سیاسی میدان میں کودے تھے۔مشرف نے میاں نواز شریف کو اقتدار سے فارغ کرکے ایوان اقتدار پر قبضہ کیا تو نواز شریف کے ساتھ چوہدری شیرعلی بھی جیل گئے۔ میاں نواز شریف تو ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے مگر چوہدری شیرعلی کو جیل میں رہنا پڑا اور نیب بھگتنی پڑی۔ 2002کے الیکشن میں چوہدری شیرعلی نے خود میدان میں اترنے کی بجائے اپنے بیٹے عابد شیرعلی کو انتخابی میدان میں اتارا۔ عابد شیرعلی کی2002سے 2013تک لگاتار تین مرتبہ کامیابی میں بہت بڑا کردار چوہدری شیرعلی کا ہی تھا۔الیکشن 2002 چوہدری شیرعلی خود تو میدان میں نہیں تھے مگر الیکشن میں مسلم لیگ ن کی شہر بھر میں کامیابی چوہدری شیرعلی کی مرہون منت تھی۔ چوہدری شیرعلی نئے نئے نیب کے چنگل سے رہا ہو کر آئے تھے کہ الیکشن کا بگل بج گیا۔ پوری انتخابی مہم کی نگرانی چوہدری شیرعلی خود کررہے تھے۔ پولنگ سے پہلے انتخابی مہم کے خاتمے کے آخری روز مسلم لیگ ن نے فیصل آباد کے تاریخی دھوبی گھاٹ گرآنڈ میں جلسہ عام کا علان کردیا۔ میاں نوازشریف کی غیرموجودگی میں ایسے وقت میں کہ ہر سیاسی رہنما اپنے الیکشن کی فکر میں تھا اور مسلم لیگ ن کے بہت سے لوگ ق لیگ میں جاکر عافیت کی بین بجا رہے تھے۔ ن لیگ کا دھوبی گھاٹ گرآنڈ میں جلسہ عام ایک جوئے سے کم نہیں تھا۔ جلسے کے انتظامات خود چوہدری شیرعلی دیکھ رہے تھے۔ خواجہ محمد اسلام، نواز ملک ، راجہ نادر پرویز، رانا افضل، بھی فرنٹ پر تھے۔ رانا ثناء اللہ پچھلی صفوں پر کھیلنے کی کوشش کررہے تھے۔ میاں عبدالمنان نے تو عافیت اسی میں سمجھی کہ اپنے بیٹے کو الیکشن لڑا دیں اور خود سیاسی خاموشی اختیار کریں۔ اور پھر دھوبی گھاٹ گرائونڈ میں وہ تاریخی جلسہ ہوا جس نے 2002 کے الیکشن میں فیصل آباد کو مسلم لیگ ن کا قلعہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اتنی خلقت تھی اس جلسے میں کہ تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ سیاسی مبصرین ہی نہیں مشرف سرکار بھی حیران رہ گئی۔ اور الیکشن میں ن لیگ نے شہر کی چار میں سے تین نشتیں بھاری مارجن سے جیت لیں۔

بلدیاتی سیاست میں چوہدری شیرعلی کا کردار مسلم رہا ہے ۔ 2005کے بلدیاتی انتخابات مشرف کی چھتر چھایہ تلے ہورہے تھے ۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے متفقہ امیدوار لانے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ مسلم لیگ ق کی طرف سے چوہدری زاہد نذیر‘چوہدری عاصم نذیر‘ افضل ساہی اور غلام رسول ساہی کے ناموں پر مخمصہ تھا اور بار بار ناموں میں تبدیلی ہورہی تھی ۔ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے پی پی پی کے راجہ ریاض اور مسلم لیگ ن کے رانا زاہد توصیف الیکشن لڑنا چاہتے تھے ۔مگر دونوں ہی میدان میں اترتے اور بھاگ جاتے تھے۔ مقامی انڈر سٹینڈنگ کی وجہ سے راجہ ریاض کی ساہی فیملی کیساتھ ڈیل ہوچکی تھی اورساہی فیملی کا امیدوار سامنے آنے پر وہ بھاگ جاتے ۔ نذیر فیملی کی طرف سے امیدوار آتا تو زاہد توصیف اسے گھر کا امیدوار قرار دے کر بھاگ جاتے۔ ایسے میں چوہدری شیرعلی خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے اور ڈسٹرکٹ ناظم کے امیدوار بن گئے۔ بعد ازاں زاہد توصیف نے میاں نواز شریف کیساتھ مسجد نبوی میں ڈیل اور عہدوپیمان باندھ کر اے آر ڈی کا ٹکٹ کنفرم کروایا اور ق لیگ کے امیدوار کرنل ر غلام رسول ساہی کے خلاف میدان میں اتر آئے ۔ چوہدری شیرعلی نے میاں نواز شریف کے کہنے پر کاغذات تو واپس لے لئے مگر انہیں اس پر بھی تحفظات تھے اور وہ کھلے عام کہتے تھے کہ زاہد توصیف جیتتے ہی ن لیگ چھوڑ دیگا۔ اور ہوا بھی ایسا ہی ۔

سال 2016میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کروائے تو چوہدری شیرعلی اپنے بیٹے عامر شیرعلی کو میئرفیصل آباد بنانے کی پلاننگ کرنے لگے مگر ان کی پلاننگ میاں شہباز شریف نے ناکام بنادی۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری شیرعلی کی انتہائی قریبی قرابت داری ہونے کے باوجود ان میں ایک ان دیکھی دیوار ہمیشہ سے رہی ہے۔ دونوں کی طرف سے ایک ہی پارٹی میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی مخالفت سامنے آتی رہی ہے جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف کا جھکاؤ ہمیشہ چوہدری شیرعلی کی طرف رہا ہے ۔ چوہدری شیرعلی کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کیلئے میاں شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کو لانچ کیا اور دس سال تک فیصل آباد میں ہر کام چوہدری شیرعلی کو نظر انداز کرکے اور رانا ثناء اللہ کی پسند سے کیا۔ سال 2016کے بلدیاتی انتخابات میں عامر شیرعلی کو یونین کونسل کا الیکشن ایک متنازعہ انتخابی عمل میں ہروایا گیا۔ عامر شیرعلی کامیاب ہوچکے تھے کہ سابق ڈی سی او نور الامین مینگل نے مداخلت کرکے انہیں ہروایا اور عابد شیرعلی کو پنجاب کے اہل اقتدار کا پیغام بھی پہنچایا کہ ان کے ہارنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے ‘ آپ الیکشن اور گنتی کی ضد نہ کریں۔

عام انتخابات 2018میں عابد شیرعلی کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار فرخ حبیب تھے ۔ اور سیاسی حلقے فیصل آباد میں سب سے کمزور امیدوار فرخ حبیب کو قرار دے رہے تھے ۔مسلم لیگ ن خلائی مخلوق کا تو صرف نعرہ ہی لگاتی ہے ۔ اس کے امیدواروں کے ہارنے میں مسلم لیگ ن کے اپنے ہی پس پشت کارفرما ہیں۔ انتخابی عمل شروع ہوا تو رفتہ رفتہ سامنے آنے لگا کہ عابد شیرعلی کا مقابلہ صرف فرخ حبیب سے نہیں ہے بلکہ میاں شہباز شریف اور ان کے چہیتے رانا ثناء اللہ بھی فرخ حبیب کیساتھ کھڑے ہیں۔ چند ہی دنوں میں میئرفیصل آباد بھی خم ٹھونک کر عابد شیرعلی کے مقابلے میں اتر آئے۔ پی ٹی آئی کے ووٹ تو فرخ حبیب کو ملنے ہی تھے۔ مگر میاں شہباز شریف کے چہیتے رانا ثناء اللہ اور میئر فیصل آباد کے اتحاد نے بھی عابد شیرعلی کوہروانے میں اہم کردار کیا۔ اور فیصل آباد کی سیاست پر 35سال سے چھائے ہوئے چوہدری شیرعلی کی فیملی پہلی بار اسمبلی سے آؤٹ ہوگئی۔ سال 1983میں پہلی بار چوہدری شیرعلی میئر فیصل آباد بنے تھے۔ 1990سے 1999تک وہ خود اور 2002سے 2103تک ان کے صاحبزادے عابد شیرعلی قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ 2018کی اسمبلی میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں مگر اس میں بھی مخالف جماعتوں سے بھی زیادہ ان کے اپنی جماعت کے صدر میاں شہباز شریف اور ان کے چہیتے وزیر راناثناء اللہ کا کردار زیادہ ہے۔

فیصل آباد سے حامد یٰسین کا تیر قلم

Related posts