فیصل آباد میں ن لیگ کو خلائی مخلوق نہیں‘ شہباز شریف نے ہروایا


مسلم لیگ ن کی طرف سے مسلسل شور مچایا جا رہا ہے کہ اس کامینڈیٹ خلائی مخلوق یا بقول نوازشریف کے متوالوں کے ’’محکمہ زراعت ‘‘ والوں نے چھین لیا ہے۔ سکتا ہے ن لیگ کے لگائے گئے الزامات میں کسی حد تک سچائی بھی ہو مگر ن لیگی امیدواروں کیساتھ جو کچھ ہوا اس کے بڑی حد تک ذمہ دار میاں شہباز شریف بھی ہیں۔ طویل عرصے سے ایک بات سامنے آرہی تھی کہ مسلم لیگ ن میں میاں نوازشریف کے مقابل میاں شہباز شریف نے نیچے سے اوپر تک اپنا گروپ تیار کررکھا تھا۔ فیصل آباد میں یہ تقسیم کچھ زیادہ ہی گہری ہوگئی تھی۔ دونوں دھڑے بالکل واضح طور پر الگ الگ راستوں کے راہی ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن 2018میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کو فیصل آباد میں برداشت کرنا پڑا ہے۔
میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اختلافات اور اپنی ہی پارٹی میں دھڑے بندی کرنے کی بات کرنے سے ابھی پاکستانی میڈیا احتراز کرتا اور ان اختلافات کی رپورٹنگ کرنے سے گریزاں رہتا تھا ۔ ایسے ہی وقت میں ایک سینئر جرنلسٹ نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اختلافات اور اس کا پس منظر اور وجوہات بتائیں۔الیکشن 2008کیلئے رپورٹس تیار کرتے ہوئے ان سے بات کی تو انہوں نے فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے دو دھڑوں کو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اختلافات کا پرتو قرار دیا مگر کوئی ان کی اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھا۔الیکشن 2013کے دوران سیفما کیلئے الیکشن رپورٹنگ کررہا تھا۔ این اے 84میں عابد شیرعلی اور پی پی 70میں رانا ثناء اللہ ایک ہی علاقے سے ایک ہی جماعت کے امیدوار تھے مگر ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت بھی کررہے تھے۔ایک سینئر جرنلسٹ سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے آن ائیر کہا تھا کہ یہ اختلافات میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اختلافات کی وجہ سے ہے۔ دونوں الگ الگ دھڑا بنانے کے چکر میں اپنی ہی جماعت کو تباہ کررہے ہیں۔ رپورٹس ایک بڑے چینل پر چلیں مگر شریف فیملی کے اختلافات کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا ۔ اس پر سیفما کی میٹنگ میں بھی بڑی لے دے ہوئی ۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ ایسا ہی تھا۔ الیکشن کے دو سال بعد قومی میڈیا نے اندر کی باتیں باہر لانے کا دعویٰ کیا اور شہباز ‘ نواز اختلافات اور پالیسی میں فرق کی خبریں دینا شروع کردیں۔ مگر اس وقت تک یہ خبر سے زیادہ کسی اور کا ایجنڈا بن چکا تھا۔
وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی مگر فیصل آباد میں ن لیگ کا ہی ایک دھڑا اقتدار کے مزے لے رہا تھا جبکہ دوسرا اپوزیشن جیسے حالات سے دوچار تھا۔ میاں نواز شریف چاہتے ہوئے بھی اپنے ساتھیوں کو اپوزیشن جیسے حالات سے دوچار ہونے سے بچا نہیں پارہے تھے۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے شہبازشریف کے دھڑے کو راناثناء اللہ خاں لیڈ کررہے تھے جبکہ شہباز شریف کے مخالف دھڑے کی چوہدری شیرعلی قیادت کرتے رہے۔ چوہدری شیرعلی کھلے عام شہبازشریف الزامات لگاتے رہے۔ بہت سے معاملات خراب کرنے اور پارٹی کو نقصان پہنچانے کے الزامات شیرعلی نے پریس کانفرنس میں لگائے۔ چوہدری شیرعلی کی جانب سے رانا ثناء اللہ خاں پر ٹارگٹ کلنگ کروانے کے الزامات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ چوہدری شیرعلی ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کرتے رہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں ن لیگی کارکنوں کو نظرانداز کرکے ق لیگ کے لوگوں کو نوازنے کے الزامات بھی چوہدری شیرعلی لگاتے رہے اور اس سب کا ذمہ دار میاں شہباز شریف کو قرار دیتے تھے۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کا ہونے کے باوجود چوہدری شیرعلی‘ عابد شیرعلی‘ رانا افضل‘ میاں عبدالمنان کو بیوروکریسی بھی نظر انداز کرتی رہی ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا افضل کیخلاف سابق ڈی سی اونورالامین مینگل نے طویل عرصے تک محاذآرائی کی کیفیت بنائے رکھی۔ ان کے کاروباری معاملات کی جانچ پڑتال ڈی سی او کرتا رہا۔ چوہدری شیرعلی کے بیٹے کو بلدیاتی الیکشن میں پلاننگ کرکے نام نہاد انتخاب میں ہروایا گیا۔میاں شہباز شریف براہ راست ان معاملات میں ملوث رہے۔ رانا ثناء اللہ کو مسلم لیگ ن کا کرتا دھرتا بنا کر پیش کیا گیا۔ چوہدری شیرعلی اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سیاست میں موجود رہے۔ رانا افضل نے قومی اسمبلی میں میاں شہباز شریف کے نامزد بیوروکریٹس کیخلاف آواز بلند کی۔ چوہدری شیرعلی میڈیا میں میاں شہباز شریف کیخلاف آواز بلند کرتے رہے۔ رانا ثناء اللہ پر الزامات عائد کئے جاتے رہے کہ وہ ن لیگی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں
الیکشن 2018کے دوران رانا ثناء اللہ کے دھڑے کے بلدیاتی نمائندوں نے کھلے عام مسلم لیگ ن کے امیدواروں عابد شیر علی‘ رانا افضل خاں ‘ میاں عبدالمنان اور اکرم انصاری کی مخالفت کی۔ میئر فیصل آباد اور ان کے بھائی سابق ایم پی اے کھلے عام رانا افضل کو شکست سے دوچار کرنے کے دعوے کرتے رہے۔ میاں شہباز شریف کے لگائے گئے سابق چیئرمین ایف ڈی اے نے ایم پی اے کا امیدوار ہونے کے باوجود کھل کر میاں عبدالمنان اور عابد شیرعلی کیخلاف مہم چلائی۔ رانا ثناء اللہ کے اپنے صوبائی حلقے میں ان کے گروپ کے ن لیگی یوسی چیئرمینوں اور کونسلرز نے عابد شیر علی کیخلاف پی ٹی آئی امیدوار کا ساتھ دیا۔ رانا افضل کے حلقے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ رانا ثناء اللہ گروپ کے بلدیاتی نمائندوں نے ن لیگی ہونے کے باوجود پی ٹی آئی امیدوار راجہ ریاض کا ساتھ دیا ۔
سیاسی حلقے اس سب کو مقامی جھگڑا قرار دینے کو تیار نہیں اور اس سب کے پیچھے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی مخاصمت قرار دیتے ہیں۔ حالات سے یہ منظرنامہ سامنے آتا ہے کہ میاں شہباز شریف اور ان کے دھڑے نے فیصل آباد میں تمام ایسے امیدواروں کو ہروانے کی کوشش کی جو میاں نواز شریف کے دھڑے کے تھے۔ تمام لابنگ میں رانا ثناء اللہ سامنے آتے رہے۔اس تمام صورتحال سے شریف فیملی میں اختلافات کھل کرسامنے آتے ہیں اور یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف تمام ن لیگی رہنماؤں کو ساتھ لے کرچلنا نہیں چاہتے ۔ اورپارٹی کے اندر بھی وہ ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔اس سب کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے کہ فیصل آباد میں مسلم لیگ کو ایسی عبرتناک شکست تو الیکشن 2002میں بھی نہیں ہوئی تھی جبکہ جنرل پرویز مشرف کا طوطی بولتا تھا ۔ اس وقت بھی مسلم لیگ ن فیصل آباد کے چار میں سے تین حلقوں میں کامیاب رہی تھی۔ مگر اب تو تمام چار نشستیں ہی ہار گئی اور بدقسمتی سے یہ تمام پارٹی کی دھڑے بندی میں میاں نواز شریف کے دھڑے کے تھے اور میاں شہباز شریف کے دھڑے کے رہنما کھلے عام ان کیخلاف انتخابی مہم چلاتے رہے۔
فیصل آباد سے حامد یٰسین کا تیر قلم

Related posts