فیصل آباد کے ریٹرننگ افسران نے مثالی خدمات سرانجام دیں



فیصل آباد(احمدیٰسین)فیصل آباد کے ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرنے الیکشن 2018کے دوران مثالی خدمات سرانجام دیں۔ یہ پہلا الیکشن ہو گا کہ جب فیصل آباد میں ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی ورکنگ اور غیرجانبداری کے حوالے سے کوئی شکائت سامنے نہیں آئی ۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں عام انتخابات 2018کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 31ریٹرننگ آفیسر مقرر کئے تھے۔ این اے 103اور پی پی 103میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن نہ سکا اور یہاں کے ریٹرننگ افسران کا کام درمیان میں ہی رہ گئے تاہم ان کیخلاف بھی کسی پارٹی یا آزاد امیداروں کی طرف سے کوئی شکائت سامنے نہیں آئی۔ دیگر 29ریٹرننگ آفیسرز کی کارکردگی کو الیکشن کمیشن حکام مثالی قرار دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق فیصل آباد کے کسی ایک بھی ریٹرننگ آفیسر کے خلاف کوئی شکائت سامنے نہیں آئی۔ فیصل آباد میں پورے انتخابی عمل کے دوران ریٹرننگ آفیسرز کی غیرجانبداری اور قواعد کے مطابق ورکنگ کے حوالے سے کوئی ایک بھی شکائت سامنے نہیں آئی۔سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ ‘سابق وزیر مملکت بجلی عابد شیر علی‘سابق سپیکر پنجاب اسمبلی محمد افضل ساہی‘ افضل ساہی کا بیٹا علی ساہی‘ افضل ساہی کا بھتیجاظفر ذوالقرنین ساہی‘ چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیر کے بھائی عاصم نذیر‘زاہد نذیر کا صاحبزادہ طلال چوہدری‘ میئر فیصل آباد رزاق ملک کا بھائی نواز ملک ‘سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار احمد جٹ‘ سابق ضلعی ناظم زاہد توصیف کا بھائی آصف توصیف‘ سابق وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری‘ سابق ایم این اے دلدار احمد چیمہ‘ سابق وزیر مملکت اکرم انصاری‘ سابق ایم این اے میاں عبدالمنان‘ سابق وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل‘ سابق چیئرمین ایف ڈی اے شیخ اعجازجیسی طاقتور شخصیات فیصل آباد سے امیدوار تھیں مگر اس سب کے باوجود فیصل آباد کے کسی ایک بھی حلقے میں ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے کسی کو بے جا رعائت دینے یا کسی کیساتھ جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی شکائت سامنے نہیں آئی۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق ملک بھر میں فیصل آباد کے ریٹرننگ آفیسرز کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ۔ الیکشن 2013میں ریٹرننگ افسران کیخلاف شکایات کے انبار لگ گئے تھے جبکہ اس کے برعکس الیکشن 2018میں دیگر پولنگ عملے کیخلاف تو شکایات سامنے آئی ہیں مگر ریٹرننگ افسران کے بارے میں کوئی شکائت سامنے نہیں آئی۔ آر ٹی ایس اور پی آر ایم ایس سسٹم کی خرابی اور مینوئیل نتائج کی تیاری کے حوالے سے پولنگ اور پریزائیڈنگ افسران بارے شکایات سامنے آئی ہیں جبکہ ریٹرننگ افسران کے حوالے سے شکایات نہیں ہیں۔

Related posts