صحافت ہے کہاں:سچ کا پرچار کرنے والے جھوٹ کے علمبردار


صرف فیصل آباد ہی کیا پاکستان بھر میں ٹی وی چینلوں پر اور اخبارات میں سچ سچ سچ کی گردان مل رہی ہے۔ میڈیا احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے لگا لگا کر سیاسی جماعتوں ‘ حکومتوں اور عوام کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی کرپشن کے خلاف اور احتساب کے حق میں سب سے زیادہ نعرہ زن ہے مگر سچ ہے کہ کہیں نظر نہیں آرہا۔ پی ٹی آئی کے سچ کے نعرے بھی صرف زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ پاکستان کے تمام میڈیا مالکنا جھوٹ کے سب سے بڑے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ سچ کے نعرے لگانے والے خود سچ سے انتہائی دور نظر آتے ہیں۔ کوئی اخبار اور ٹی وی چینل مالک اپنے میڈیا آؤٹ لیٹ کے بارے میں پورا سچ نہیں بولتا۔پاکستان کا کوئی اخبار اپنے کارکنوں کو لیبر قوانین کے مطابق ان کا حق نہیں دیتا۔ کسی اخبار نے اپنے ورکرز کی سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نہیں کروائی ۔پاکستان کے کسی اخبار کی لیبر انسپکشن کبھی نہیں ہوئی ۔ ضیاء الحق یا بھٹو کے دور میں یا اس سے پہلے کبھی ہوئی ہو تو کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ہمارے شعوری دور میں تو ایس اکچھ نظر نہیں آیا جبکہ قانون کی رو سے لیبر انسپکشن ہو سکتی ہے اور جتنی شکایات اخبارات کے دفاتر میں مزدور دشمنی اور ورکر کشی کی ہیں شائد ہی پاکستان بھر میں کسی دوسری انڈسٹری میں اتنی شکایات ہوں۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے پسا ہوا مزدور اخبارات کا ورکر ہے۔
پاکستان بھر میں اخبارات جھوٹ کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ دوسروں کے سچ کی تلاش میں سرگرداں پاکستان کا کوئی ایک بھی اخبار ایسا نہیں جواپنے بارے میں سچ لکھ رہا ہو۔ جو اپنا سچ بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہا اس کے بارے میں یہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں سچ چھاپنے اور بولنے میں جھوٹ کا سہارا نہیں لے گا۔پاکستان کے تمام اخبارات اپنے ڈیکلریشن کے وقت سے ہی جھوٹ کا آغاز کر دیتے ہیں۔ ڈیکلریشن کیساتھ ایڈیٹر کانام دینا ضروری ہے اور ایڈیٹر بدلتے ہی اس بارے متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اخبارات پابند ہیں کہ اپنی سرکولیشن اور تعداد اشاعت سے پی آئی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کا آگاہ رکھیں مگر یہاں سچ کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے تمام اخبار (کسی ایک کو بھی اس میں استثنیٰ نہیں ہے) کھلے بندوں جھوٹ بولتے ہیں۔ اخبارات کی تعداد اشاعت سے پانچ چھے گنا اور بعض کیسز میں تو دس‘ بارہ گنا اور کئی ایک تو ایسے جھوٹے بھی ہیں کہ بیس پچیس گنا زائد اشاعت بتا کر اپنی سرکولیشن رجسٹرڈ کرواتے ہیں۔ پی آئی ڈی کی اے بی سی اور اخبارات کی اصلی سرکولیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
عمران خان بلاامتیاز احتساب کے نعرے لگاتے اور سچ کی گردان کرتے نہیں تھکتے مگر سچ ان سے بھی بولا جا رہا ہے نہ کھنگالا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کیخلاف کسی کی فراہم کی گئی معلومات کے بل بوتے پر بولنابہت آسان ہے مگرپورا سچ سامنے لانا اور سچ کیلئے ڈٹ جانا ایک دوسرا عمل ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت پی ٹی آئی کو مل گئی تھی۔ دیگر معاملات کا زیادہ ادراک نہیں رکھتا اس لئے اس پر کچھ بولنا بہتر نہیں ہے مگر اخبارات کے حوالے سے یہ مکمل سچ ہے کہ کرپشن خیبر پختونخواہ کے اخبارات میں بھی اتنی ہی جتنی باقی پاکستان میں ہے۔ پشاور اور خیبر پختونخواہ کے دیگر تمام اخبارات کی سرکولیشن میں اتنے ہی گھپلے اور جھوٹ ہیں جتنے پاکستان کے باقی تمام شہروں اور صوبوں میں ہیں۔عمران خان یا ان کا کوئی ساتھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اخبارات کی سرکولیشن کی رجسٹریشن وفاقی حکومت کا کام ہے ایسے میں صوبائی حکومت کیا کرسکتی ہے مگر یہ بات انہیں یاد رکھنی چاہئے کہ سرکولیشن کی رجسٹریشن وفاق کا کام ہے۔ مگر اشاعت اور پرنٹنگ کے معاملات دیکھنا تو صوبائی حکومت بلکہ ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔آپ پرنٹنگ اور پرنٹنگ پریسوں کی کرپشن پکڑ کر بے نقاب کر دیں سرکولیشن کی رجسٹریشن خود بے نقاب ہو جائے گی۔ ڈیکلریشن ہولڈرز سے ان کے سٹاف کی تعداد ان کی تنخواہ اور دیگر معلومات ڈیکلریشن کی فائل میں لگوا دیں کسی کیلئے بھاگنے کا راستہ ہی نہیں رہے گا۔اخبارات کو پابند کریں کہ اپنے سٹاف میں ردوبدل لیبر قوانین کے تحت کریں۔ اخبارات کی لیبر انسپکشن کریں۔ اخبارات کو پابند کریں کہ اپنے سٹاف میں ہونیوالے ہر ردوبدل بارے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے آفس کو آگاہ کرے اور تمام معلومات اس اخبار کی فائل میں لگائیں ۔ کرپشن کا راستہ خود بخود بند ہو جائے گا اور ورکر کو اس کے حقوق بھی ملنے لگیں گے۔اخبارات کی پرنٹنگ کرنے والوں کو پابند کریں کہ روزانہ چھپنے والے اخبارات کی تعداد اشاعت بارے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں اس بارے میں تعینات کلرک کو فراہم کریں اخبارات کیلئے سرکولیشن کا جھوٹ بولنا ہی ممکن نہیں رہے گا۔
ٹرانسپرنسی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی اخبارات کے معاملات میں شفافیت لانے کیلئے کچھ نہیں کر سکے۔اخبارات کی پرنٹنگ خیبر کی طرح پنجاب حکومت کا بھی فریضہ ہے۔ مگر اس میں پنجاب حکومت بھی مکمل ناکام ہے۔پنجاب کے تمام اخبارات بھی سرکاری اشتہارات میں ڈکیتی کرنے میں برابر کی شریک ہیں۔شفافیت نام کی کوئی چیز شہباز شریف کے دس برس کے اقتدار میں بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔ پرنٹنگ پریس قانون کے تابع ہیں اور نہ لیبر قوانین پر کہیں عمل ہو رہا ہے۔ معاملات بہتر بنانے کیلئے ان سے بھی کچھ نہیں ہو سکا۔صرف لاہور میں اخبارات کے معاملات انتہائی دگرگوں ہیں۔ کوئی اخبارقوانین پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آئے روز اخباری کارکن اپنے ساتھیوں کو غیرقانونی فارغ کئے جانے کیخلاف سڑکوں پر ہوتے ہیں۔لیبر قوانین اخباری دفاتر سے دور دور سے گزر جاتے ہیں۔ کنٹریکٹ سسٹم کی بیماری تو تھی ہی مگر پنجاب کے اخبارات میں ٹھیکیداری نظام کی بیماری نے بھی انتہائی سرعت کیساتھ جڑ پکڑی ہے ۔ قوانین ان دونوں چیزوں کی اجازت نہیں دیتے مگر یہ ہو رہا ہے‘ کھلے عام ہو رہا ہے اور حکومتی ادارے یہ سب جانتے ہوئے بھی اس غیرقانونی کام کیخلاف کچھ نہیں کر پا رہے۔
فیصل آباد لوکل اخبارات کا حب ہے ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ لوکل اخبارات فیصل آباد میں چھپتے ہیں۔ دو سے زائد روزناموں کیساتھ ٹیکسٹائل سٹی کہلانے والے اس شہر سے پانچ سو سے زائد جرائد چھپتے ہیں۔فیصل آباد میں کمرشل کام کرنے والے بڑے سائزکے چار ہی پرنٹنگ پریس ہیں اور مقامی روزنامے ‘ ویکلی‘ ماہنامے اخبارانہی سے چھپتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اے بی سی میں رجسٹریشن اتنی ہے کہ یہ تمام پرنٹنگ مشینیں چوبیس گھنٹے بھی چلتی رہیں تو جتنی تعداد رجسٹرڈ ہو چکی ہے اس کا 20فیصد بھی نہیں چھاپ سکتیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے سامنے اخبارات اور پرنٹنگ پریس مالکان کی تمام سچائیاں دم توڑ دیتی ہیں۔فیصل آباد کے اخبارات میں ورکرز ظاہر کرنے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ڈیکلریشن کیساتھ ظاہر کئے گئے ایڈیٹر کا بھی اس اخبار سے دور دور تک کاتعلق نہیں ہوتا۔ کئی اخبارات کے ڈیکلریشن میں ظاہر کئے گئے ایڈیٹر دنیا فانی سے مدت ہوئی کوچ کر چکے مگر ریکارڈ میں وہ اب بھی کام کرتے پائے جاتے ہیں۔سرکاری ملازمین اخبارات کا مالک ہیں اور سرکاری ملازمین ایڈیٹر بھی ۔ ایسے میں شفافیت نام کی کوئی چیز کہاں پائی جا سکتی ہے۔
سرکولیشن کیلئے ہر قسم کاجھوٹ بولنا اخبارات کی سب سے بڑی مجبوری اس لئے بن چکی ہے کہ سرکولیشن کے ذریعے ہی اس کو سرکاری اشتہارات کا ریٹ ملے گا اور اس کے بل بوتے پر ہی تو ان کا کاروبار ہے۔ سرکاری اخبارات کے اشتہارات کیلئے اخبارات کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں‘پی آئی ڈی‘ پی آئی او‘ اے پی این ایس اور سی پی این ای کا ا س تمام کاروبار میں کیا کیا کردار ہے‘ اے بی سی کی انسپکشن میں کیسے ’’سب اچھا ہے ‘‘ کی رپورٹ بن جاتی ہے اور صحافتی و اخباری کارکنوں کی تنظیمیں اس تمام سلسلے میں کیوں مجبور ہوگئی ہیں۔ یہ سب بہت لمبا موضوع ہے اس پر بعد میں کسی وقت روشنی ڈالوں گا۔

فیصل آباد سے احمد یٰسین کی صحافتی سچائیاں

Related posts

Leave a Comment