تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سوالیہ نشان‘ ہمہ وقت سانحہ کا خدشہ


فیصل آباد(نیوزلائن)پولیس ‘ ضلعی انتظامیہ ‘ محکمہ تعلیم اور ٹیکنیکل اداروں کی انتظامیہ کی عدم توجہ اور مجرمانہ غفلت کے باعث فیصل آباد کے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ شدید دھند کے دوران سکولوں اور کالجوں کے گیٹ ہر وقت کھلے اور طلبہ و آؤٹ سائیڈرزکے اندر باہر آنے جانے پر کوئی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔فیصل آباد کے حساس ترین قرار دی گئی جی سی یونیورسٹی میں سکیورٹی برائے اور طلباء و طالبات کے تحفظ کیلئے کوئی اقدا م نہیں اٹھایا جا رہا جبکہ سکیورٹی کے نام پر گارڈزکو غنڈہ گردی کا لائسنس ضرور دیا گیا ہے۔ڈی پی ایس میں گاڑیوں کے آنے پر کوئی پابندی نہیں۔صبح کے وقت طلبہ کیساتھ کوئی رکشہ ٹیکسی اور غیر متعلقہ گاڑی بلاروک ٹوک آ جا سکتی ہے۔ڈی پی ایس کے اندر تک ریڑھی چھابڑی والے رسائی رکھتے ہیں۔ ڈی پی ایس کے اندر گرلز سکول کے سامنے مستقل ریڑھیاں لگتی ہیں۔ پرنسپل تمام صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود سکیورٹی کو درپیش خطرات کو خاطرمیں نہیں لا رہے۔سمن آبادمیں کالج روڈ پر سکیورٹی کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ اس روڈ پرواقع چار تعلیمی اداروں میں روزانہ 20ہزار ظلبہ آتے ہیں اور ان کی سکیورٹی کیلئے کوئی انتظام نہیں۔ طلبہ تعلیمیاوقات میں کالجز کے اندر اور باہر آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ‘گورنمنٹ سائنس کالج‘ پوسٹ گریجویٹ کالج‘ اور کمپری ہینسو سکول کے طلبہ کی کالج کے اند ر اورباہر آنے جانے کا سلسلہ سارا دن بند نہیں ہوتا۔ ان کے گیٹ ہمہ وقت کھلے اور سکیورٹی نام کی کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی۔ جی سی ویمن یونیورسٹی مدینہ ٹاؤن‘ گرلز کالج کارخانہ بازار‘ گرلز اسلامیہ کالج عید گاہ روڈ‘ اسلامیہ کالج سرگودھا روڈ سمیت کسی سرکاری کالج کی سکیورٹی تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔کینال روڈ پر واقع پرائیویٹ سکولز‘ جڑانوالہ روڈ کے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کیلئے بھی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جا رہے۔ضلعی انتظامیہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔فیصل آباد پولیس سکیورٹی کے زبانی دعووں کے سوا عملی طور پر کچھ کرنے سے گریزاں ہے۔ تعلیمی اداروں کی باؤنڈری وال اونچی کرنے اور تاریں لگانے پر حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کردئیے مگرناقص حکمت عملی اوربد انتظامی کی وجہ سے سکیورٹی کی صورتحال ہنوز سوالیہ نشان ہے اور کسی بھی وقت کوئی سانحہ ہونے کا ہمہ وقت خدشہ رہتا ہے۔

Related posts

Leave a Comment