فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی خوفناک سازش بے نقاب


فیصل آباد(نیوزلائن) فیصل آباد میں شیعہ سنی فسادات کروانے کی خوفناک سازش پکڑی گئی ۔پولیس اور انتظامیہ نے موثر پلاننگ اور فوری فیصلے سے سازش ناکام بنا ڈالی۔چہلم کے راستوں پر احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں تصادم اور فسادات کو ہوا دینے کی سازش کرنے والوں کو حکام نے فوری کارروائی اور احتجاج منتشر کرکے ناکام بنایا۔سازش کا حصہ بننے والوں کو پابند سلاسل کردیا گیا۔نیوزلائن کے مطابق چہلم امام حسین ؑ کے موقع پربعض سازشی عناصر کی طرف سے چہلم کے جلوسوں ‘ مجالس کو نشانہ بنانے کی سازش کی اطلاعات سامنے آرہی تھیں۔ مخصوص ایجنڈا رکھنے والی ایک مذہبی تنظیم کی طرف سے اس موقع پر احتجاجی مظاہرے کر کے فسادات کا موقع دینے کی بھی اطلاعات تھیں۔ فیصل آباد میں مختلف مقامات پر اس تنظیم کی طرف عین چہلم کے دنوں میں احتجاج شروع کیا گیا رپورٹس تھیں کہ ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ لے کر بعض شرپسند عناصر چہلم کے جلوسوں کیساتھ تصادم کرسکتے ہیں جبکہ تصادم کی آڑ میں فسادات کو ہوا دینے کی سازش بھی تھی۔فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی اس خوفناک سازش میں مذہبی جنونیوں کے علاوہ بعض میڈیا کے حلقوں کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ اس پر فوری ایکشن لیا اور مخصوص ایجنڈے کے تحت ضلع کونسل چوک میں اور شہر کے دیگر حصوں میں چہلم کے راستوں میں کشیدگی اور تصادم کا انتظام کرنے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف ایکشن کیا۔احتجاج کرنے والوں کو پولیس کے ذریعے ہنگامی کارروائی کرکے منتشر کیا گیا۔ سازش کابالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ بننے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔اکثریت کو کچھ دیر حراست میں رکھنے اور تحقیقات کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ متعدد افراد کو نظر بند کرکے جیل بھجوا دیا گیا۔خوفناک سازش کے مرکزی کرداروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلع کونسل میں مذہبی تنظیم کیخلاف کارروائی کے دوران کارروائی کے بارے میں روائتی میڈیا کے چند عناصر کچھ زیادہ ہی متجسس ہوئے مذہبی عناصر کی حمائت میں سرگرم ہوگئے تو ایس ایس پی آپریشن رانا معصوم نے کارروائی کو درست قرار دیا اور ڈھکے چھپے الفاظ میں تمام معاملے کے پیچھے چھپی ہوئی سازش کا اشارہ بھی دیا۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ امن ومان کا مسئلہ پیدا ہو رہا تھا۔ چہلم امام حسین کا موقع تھا ایسے میں پابندی کے باوجود مذہبی تنظیم احتجاج کرنے‘ روڈ بلاک کرنے اور نقص امن کا باعث بننے سے باز نہیں آرہی تھی تو کارروائی کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

Related posts

Leave a Comment