فیصل آبادپولیس کے 90فیصد مخبرخودمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد پولیس کے 90فیصد مخبر جرائم پیشہ افراد ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں کا مرکزی کردار ہوتے ہیں۔فیصل آباد پولیس کی کوئی کارروائی مخبر کی اطلاع کے بغیر نہیں ہوتی اور مخبری کرنے والے اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرنے کیلئے پولیس کو استعمال کرتے ہیں۔ کروڑوں روپے کے فنڈز اور سہولیات میسر ہونے کے باوجود پولیس جدید طریقہ تفتیش کی بجائے مخبر کی اطلاع پر ہی کارروائیاں کرنے تک محدود ہے۔نیوزلائن کے مطابق مخبر اور مخبری فیصل آباد پولیس کا لازم جزو اور کامیابی کی بنیاد بن چکے ہیں۔پولیس کی تمام تر کارروائیاں مخبروں کی اطلاع کے گرد گھومتی ہیں۔ منشیات فروشوں‘ جسم فروشوں‘ اشتہاریوں‘ ڈاکوؤں راہزنوں چوروں کے خلاف پولیس کی تمام تر کارروائیاں مخبروں کی اطلاع تک ہی محدود ہیں۔پولیس کی اپنی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ فیصل آباد پولیس کے 90فیصد مخبر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اور اپنے دشمنوں کے خلاف پولیس کو اطلاعات دے کر ان کا ختامہ کرواتے ہیں۔یہ مخبر اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔اور پولیس سے زیادہ سرگرم ہو کر اپنے مخالفین سے انتقا م لینے میں مگن ہوتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض تھانیداروں اور ایس ایچ اوز نے مخبری کے نام پر تھانے میں مسلسل آنے والے جرائم پیشہ عناصر کو اپنا کارخاص مقرر کر رکھا ہوتا ہے اور تھانیدار وں کے نام پر نذرانے بھی وصول کرتے ہیں۔ ایس ایچ او کے کارخاص کی پاور تھانے میں موجود تمام افسران و اہلکاروں زیادہ ہوتی ہے اور ایس ایچ اوز کے تما م احکامات کے پس منظر میں کارخاص کی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔کار خاص اور مخبر پر پابندی ہونے کے باوجود پولیس کی کارروائیوں کا مرکز و محور مخبر اور کارخاص ہے۔اور پولیس ان ڈائریکٹ طور پر مجرموں کی باہمی لڑائیوں میں استعمال ہوتی رہتی ہے۔

Related posts

Leave a Comment