فری ٹریڈ معاہدہ کا دوسرا مرحلہ: پاکستان اور چین رواں ماہ دستخط کرینگے

فیصل آباد (نیوز لائن) وزیر اعظم عمران خان پاکستان اور چین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے پر دستخط کرنے کیلئے اپریل کے آخری ہفتہ میں چین جار ہے ہیں۔ یہ بات چین کے سفیر یائو چنگ نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں مقامی تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری میاں فرخ حبیب کے علاوہ چینی قونصل جنرل لونگ جنگ پن ، اتاشی چن یانگ پھی اور لیو چان بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت باہمی تعاون کا دائرہ کار زراعت، افرادی قوت ، غربت کے خاتمے ، صحت اور تعلیم کے شعبوں تک بڑھایا جائے گا اور اس سلسلہ میں صنعتی اور زرعی تعاون کے فریم ورک کی تیاری کے علاوہ سماجی سیکٹر میں باہمی تعاون کے طریقہ کار پر بھی بات چیت جاری ہے۔ مسٹر یائو چنگ نے بتایا کہ اس معاہدہ کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کیلئے پاکستانی برآمدات کو زیر وریٹ پر 95فیصد چینی مارکیٹوں تک رسائی دی جائے گی جبکہ پاکستان چین کو صرف 68فیصد رسائی دے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے نومبر کے گزشتہ دورہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ چین پاکستان سے درآمدات کا حجم بڑھانے کیلئے چاول، چینی اور یارن درآمد کرے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ دورہ کے سلسلہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان 28اپریل کو چین میںبی ٹو بی فورم کا اہتمام کر رہی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے حوالے سے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان کے پاس گندم بھی فاضل مقدار میں موجود ہے۔ لیکن اس کی چینی مارکیٹ میں کھپت بہت کم ہے۔ چاول کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان سے 3لاکھ ٹن چاول خریدے گا اور اس سلسلہ میں ابتدائی بات چیت بھی جاری ہے۔ صنعتی تعاون کے حوالے سے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے پیداواری شعبے کی استعداد کار بڑھائی جائے گی اور اس سلسلہ میں چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات اور ترغیبات دی جا رہی ہیں ۔ تاہم اس حوالے سے چینی کمپنیوں نے ٹیکسیشن پالیسی اور سہولتوں کے حوالے سے بعض خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کیلئے آسیان (ایسوسی ایشن آف سائوتھ ایسٹ ایشن نیشنز )ملکوں جیسی چینی سرمایہ کاری اور مراعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی روایات میں مماثلت کے علاوہ وہاں چینیوں کی ایک بڑی تعداد مستقل طور پر آباد ہے جس کی وجہ سے چینی سرمایہ کاروں کا اُن کی طرف جھکائو فطری امر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقائی تجارتی بلاک میں دس ملک شامل ہیں جبکہ چین نے سارک ملکوں کے درمیان علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے بھی ہر ممکن کوشش کی مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ تاہم وہ علاقائی ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھانے کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔ مصنوعی ریشے کی پیداوار کے بارے میں چینی سفیر نے بتایا کہ وہ پاکستان میں چینی تعاون سے مشترکہ منصوبہ لگانے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ مگر اس سلسلہ میں کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔ ویزے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ ویزوں کے اجراء کا کام” جیری” کو سونپ رہے ہیں ۔ اس کے دفاتر کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں ہیں جبکہ وہ اُن سے فیصل آباد میں بھی برانچ کھولنے کی سفارش کریں گے۔ انہوں نے پنجاب کو پاکستان کی معیشت کا گروتھ انجن قرار دیا اور کہا کہ جب یہ صوبہ ترقی کرتا ہے تو پورے پاکستان میں ترقی کی لہر آتی ہے۔

Related posts