سیلز ٹیکس ریفنڈکے ”تیزرفتار“ سسٹم کی کاہلی ایکسپورٹرز کیلئے درد سر

فیصل آباد (نیوز لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ایکسپورٹرز کے لئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے کلیمز کی ادائیگی کی خاطر بنائے گئے فلی آٹو میٹڈ سیلز ٹیکس ای ریفنڈفاسٹرسسٹم کی سست کارکردگی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کیلئے درد سر بن گیا۔ مذکورہ سسٹم فاسٹر کی بجائے سلوور کہلایا جانے لگا کیونکہ ایف بی آر ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ز کو تیز رفتار ریفنڈز کی ادائیگی کے دعوے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ چودھری سلامت علی سنٹرل چیئرمین، میاں نعیم احمد چیئرمین نارتھ زون، اسلم احمد کارسازچیئرمین ساتھ زون پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن اور محمد جاوید بلوانی چیئرمین،پاکستان اپیرل فارم نے کہا کی ماضی میں پانچ زیرو ریٹڈ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے سابقہ حکومتوں نے سیلز ٹیکس صفر رکھا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاز کر دیا اور ایکسپورٹرز کو یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی اور سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم اور ایف بی آر کے نئے فاسٹر سسٹم کے تحت ایکسپورٹرز کو ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز داخل کرنے کے 72گھنٹوں میں ادائیگیا ں کردی جائیں گی مگر کئی سو گھنٹے گزر جانے کے باوجود ایکسپورٹرز کو ادائیگیاں نہیں کی گئی اور حکومتی وعدے اور دعوے بے معنی اور زبانی جمع خرچ دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے منظور شدہ ریفنڈ پے منٹ آرڈرز کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی ادائیگیوں میں تاخیر کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو جواب ملا کہ جب تک فیڈرل بورڈ آف ریوینیو تحریری طور پر منظوری نہ دے ایکسپورٹر زکو ان کے ریفنڈ کلیمز کریڈٹ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز حیران ہے کہ ایک طرف حکومت ایکسپورٹرز کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کی تیز رفتار ادائیگی کیلئے فاسٹر سسٹم متعارف کرانے کی بات کررہی ہے اور دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایکسپورٹرز کی منظور شدہ ریفنڈپے منٹ آرڈرز کے تحت ادائیگیوں کے احکامات نہیں دے رہی؟ سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بر وقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث وہ مالی دبا اور مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں اور میٹیرئل کی خریداری میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اگر اسی طرح سیلز ٹیکس ریفنڈ حکومت کے پاس پھنس گئے تو پروڈکشن شدید متاثر ہوگی اور ایکسپورٹ آرڈرز کینسل جبکہ صنعتیں بند ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ علاوہ ازیں ایس آر او2019/(I)747مرخہ 9جولائی 2019کے تحت ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹس اور ایس ایم ایز انٹرپرائزز رولز 2008میں ترامیم کی گئیں ہیں جس کے رول 10سب رول 1کی شق بی اور سی کو حزف کر دیا گیا ہے جس سے آئندہ ایکسپورٹرز لوکل ان پٹ گڈز زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس انوائس پر حاصل نہیں کر سکیں گے جو کہ ترامیم سے قبل ایکسپورٹرز کو مل رہی تھی۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ ایکسپورٹرز کو سیلز ٹیکس ریفنڈز میں ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں اگر ایف بی آر نے نئے فاسٹر سسٹم کے تحت فوری ادائیگیاں یقینی نہ بنائیں تو ریفنڈ ز میں تاخیر کی وجہ سے میٹرئل نہ خرید پائیں گے جس سے پروڈکشن متاثر ہوگی اور لا محالہ ایک اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں 15فیصد ایکسپورٹ میں کمی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے اور ایف بی آر نئے خودکار فلی آٹومیٹڈسیلز ٹیکس ای ریفنڈ (فاسٹر) سسٹم کے تحت سیلز ٹیکس کلیمز جمع کروانے کے 72گھنٹوں میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈ ز کے کلیمز کی فوری ادائیگیاں یقینی بنائی جائے بصورت دیگر ماضی کا زیرہ ریٹڈ سیلز ٹیکس نو پیمنٹ نو ریفنڈ کا نظام بحال کرے۔

Related posts