فیصل آباد کے تاجروں کا حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مایوسی کا اظہار

فیصل آباد (نیوز لائن) فیصل آباد کی تاجر تنظیموں نے حکومت کی طرف سے شناختی کارڈ کی شرط کو تین ماہ کیلئے موخر کرنے سمیت دیگر نکات کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی طرف سے تاجروں کو وقت گذاری کیلئے ایک لولی پاپ دیا گیا ہے جس سے تاجروں کو کوئی ریلیف تو نہیں مل سکتا بلکہ آنے والے دنوں میں مسائل مزید بڑھیں گے صدر سپریم انجمن تاجران حاجی اسلم بھلی نے کہا کہ 31جنوری تک ٹرانزیکشن پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا کہا گیا ہے مگر 31کے بعد تاجروں کیخلاف شناختی کارڈ سمیت دیگر تمام ٹیکسز لاگو کرکے ان کے کاروبار تباہ کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ پر تاجروں کیلئے کوئی خوشخبری نہیں ہے بلکہ چند دنوں کا ایک ایسا ریلیف ہے جس میں ریلیف کم اور جھانسہ زیادہ نظر آرہا ہے اور یہ لوگ خود ہی معیشت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں حکومت کیساتھ 11نکات کے معاہدہ میں صرف دو نکات ایسے ہیں جو قابل عمل ہوسکتے ہیں باقی کوئی شق تاجروں کیلئے قابل عمل نہیں اس لیے یہ معاہدہ مکمل طور پر مایوس کن ہے سپریم انجمن تاجران‘انجمن تاجران سٹی اور سٹی کلاتھ بورڈ کی کال پر گذشتہ روز فیصل آباد میں جزوی ہڑتال رہی تاجر تنظیموں کی طرف سے دو روزہ ہڑتال کے پہلے دن شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں اور دیگر مراکز بند رہے مگر دوسرے روز شہر کے مین بازاروں‘کچہری بازار‘جھنگ بازار‘بھوآنہ بازار‘چنیوٹ بازار اور امین پور بازار میں بیشتر دکانیں کھلی رہیں جبکہ دوسرے روز بھی شہر کی بڑی کپڑا مارکیٹیں مکی کلاتھ مارکیٹ‘گوردوارہ گلیاں‘جامع کلاتھ مارکیٹ‘گول کپڑا والا‘گول کریانہ‘گول صابن والا‘کارخانہ بازار‘سوتر منڈی سمیت دیگر ہول سیل مارکیٹیں بند رہیں گذشتہ روز ہڑتال کی کال پر دوپہر دو بجے کے بعد ستیانہ روڈ‘سرکلر روڈ‘ڈگلس پورہ روڈ‘کوتوالی روڈ اور ریلوے روڈ پر دکانیں کھلنا شروع ہوگئی تھیں جبکہ اس دوران حکومت کی طرف سے شناختی کارڈ کی شرط ختم کئے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد بھی کئی تاجر رہنماؤں نے مارکیٹوں کے صدور وسیکرٹریز کو دکانیں کھولنے کی ہدایات جاری کردی تھیں جس کے بعد شام گئے تک بیشتر شہر کی مارکیٹیں مکمل طور پر کھل گئیں تھیں مگر سوتر منڈی سمیت بعض ہول سیل مارکیٹیں رات دیر تک بند رہیں۔

Related posts