ٹیکس چوری اب ممکن نہیں’ بزنس کمیونٹی تعاون کرے: چیئرمین ایف بی آر

فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر اور انڈسٹریل مرکز ہے’ یہاں کی بزنس کمیونٹی سے اپیل ہو گی کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔بزنس کمیونٹی کو ہراساں کرنے کی بجائے احساس ذمہ داری پیدا کرکے ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔لین دین کے تمام معاملات پر ایف بی آر نظر رکھے ہوئے ہے۔بے نامی اکاؤنٹس اور مشکوک ٹرانزیکشن کے معاملے پر کسی کے ساتھ رعائت نہیں ہو گی۔ بوگس کمپنیوں کے نام پربزنس کرنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔ٹیکس دینے والوں کوفرینڈلی ماحول دیں گے تاہم مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد ‘ کمپنیوں’ اداروں کیخلاف سخت ایکشن ہو گا۔سمگلنگ کے سامان کی خریدوفروخت روکنے کیلئے کسٹم کے عملے کو متحرک کررہے ہیں۔مشکوک سرگرمیوں میں ملوث صنعتکاروں و تاجروں کیخلاف ایکشن روکنے کیلئے کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔
ملکی معیشت اور ایف بی آر کے کردار کے تناظر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین محمد جہانزیب خان کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو ٭ احمد ایچ یٰسین۔ ندیم جاوید
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی ملک میں ٹیکس اصلاحات لانے کا اعلان کیا تھا ۔ صرف پالیسی ہی نہیں عملی شکل میں بھی اصلاحاتی پیکج پر کام کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سینئر بیوروکریٹ جہانزیب خان کو فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے معاملات درست کرنے کا ٹاسک دے کر چیئرمین ایف بی آر تعینات کیا ۔ ان کے آنے کے بعد سے ایف بی آر میں بتدریج مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اب تک انہوں نے اصلاحات کے حوالے سے کیا کیا اور ایف بی آر میں بہتری کے مشن میں کس قدر کامیابی حاصل کر پائے ہیں اس بارے میں انکے دورہ فیصل آباد کے موقع پر خصوصی گفتگو ہوئی جو نذر قارئین ہے۔
بوگس کمپنیوں اور مشکوک بنک اکاؤنٹس کے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بوگس کمپنیوں کے ساتھ کام کرکے ایف بی آر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ بوگس کمپنیوں کے معاملے پر ہمارے تمام آر ٹی اور ‘ ایل ٹی یو تیزی سے کام کررہے ہیں۔ بہت سے کیسز پکڑے گئے ہیں ۔ ان پر مزید کام کیا جارہا ہے۔ جو بھی غلط دھندے میں ملوث پایا گیا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ایسے معاملاے میں ملوث افراد کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوئے انہیں کوئی رعائت نہیں ملے گی۔ بوگس کمپنیوں کا ایسا ہی ایک کیس شہیر ٹیکسٹائل کے نام سے فیصل آباد میں پکڑا گیا ہے۔ اس کیس پر ہر پہلو سے کام کیا جارہا ہے۔ ہم نے مکمل انکوائری کرکے اس کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ تمام ملوث کمپنیوں کی تفصیلات ہمارے پاس ہیں۔ اس میں شہیر ٹیکسٹائل کے ساتھ بوگس کام کرنے والے اور بوگس ٹرانزیکشن کرنے والے تمام افراد ‘ کمپنیوں اور اداروں کے نام اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔ صرف بوگس خریدوفروخت ہی نہیں اس معاملے میں بوگس بنک اکاؤنٹس اور مشکوک ٹرانزیکشنز بھی سامنے آئی ہیں۔ تمام ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ ہے۔ جو بھی ملوث ہے است حساب دینا پڑا گا۔ سب کیخلاف ایف آئی درج کرلی گئی ہے۔ مزید بھی جو ملوث پایا گیا اس کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد ‘ کمپنیوں اور اداروں کیخلاف سخت ایکشن ہو گا تاہم ٹیکس دینے والوں کو مکمل فرینڈلی ماحول دیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی زور زبردستی ہوگی اور نہ ہیں انہیں کسی بھی طرح سے ہراساں کیا جائے گا۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے قابل ٹیکس آمدن رکھنے والوں کو نوٹس دئیے گئے ہیں۔ تاجروں کو ایسے کسی بھی نوٹس پر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایف بی آر میں آئیں ۔ اپنے معاملات کو فئیر ڈیل کے ساتھ نمٹائیں۔ ایف بی آر کا عملہ انہیں بالکل ہراساں یا تنگ نہیں کرے گا۔ ہمارا مقصد ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ہے۔ لوگ ازخود ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں تو ہم انہیں کسی بھی معاملے میں پریشانی نہیں آنے دیں گے۔
بے نامی اکاؤنٹس ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے کاروبار کام کرنے والے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کررہے ہیں۔ ان کی سختی کے ساتھ روک تھام پر توجہ دے رہے ہیں۔ تمام ایسے افراد جن کے اکاؤنٹس سے بڑے پیمانے پر ٹرانزیکشن ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں۔ ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ان معاملات میں کسی کے ساتھ رعائت نہیں ہوگی۔ جو بھی مقررہ ھد سے زیادہ پیسہ اپنے اکاؤنٹ میں رکھتا ہے یا ان کا لین دین کرتا ہو گا اسے حساب دینا ہوگا۔ دوسروں کیلئے اپنے اکاؤنٹس پیش کرنے والوں کو بھی قانون کے شکنجے میں آنا ہوگا۔جس کا اکاؤنٹ ہو گا اسے بھی حساب دینا ہو گا جبکہ جو اکاؤنٹ استعمال کرکے چھپنے کی کوشش کرے گا اس سے بھی حساب لیا جائے گا۔ اکاؤنٹس میں ارب پتی جبکہ عملی طور پر غریب’ اکاؤنٹس میں پائی نہیں جبکہ عملی طور پر کروڑوں کا کاروبار اور شاہانہ لائف سٹائل جیسے سلسلے اب نہیں چلیں گے۔ جو جیسا ہے اسے ویسا ہی نظر آنا ہوگا اور اتنا ہی ٹیکس دینا پڑے گا۔

پانامہ سکینڈل پاکستان کے معاشی معاملات کے حوالے سے بھی الارمنگ تھا۔ اس سکینڈل میں سامنے آنے والے تمام افراد کو نوٹس دئیے جا چکے ہیں۔ ان سے اب تک سات بلین کی وصولیاں کی جاچکی ہیں ۔ مزید بھی کام ہورہا ہے۔ جن جن کو نوٹس دیا گیا ہے ان سے مزید انکوائریاں کی جارہی ہیں۔ مستقبل میں مزید بہت کچھ ان سے وصول ہوگا اور ایسے جتنے بھی معاملات ہوئے ان کا مکمل احتساب ہو گا۔ معاشی معالات کے ساتھ منسلک تمام اداروں کو انٹر کنکٹ کررہے ہیں تاکہ روابط اور معلومات کے تبادلے سے صورتحال کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جا سکے۔
تجارت کے نام پر دہشت گردوں کے فنڈنگ کے معاملے پر بھی اب سختی کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی سطح پر مشکوک یا بوگس ٹرانزکیشن سامنے آنے فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔مشکوک اور بوگس ٹرانزیکشن کے حوالے سے بنکوں اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی مسلسل کیا جارہا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو بھی ایسے معاملات سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ ملک معیشت ایسے کسی بھی معاملے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کی مشکوک سرگرمیاں اور غیرقانونی تجارت ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہے اور اب بھی ایسی ہی صورتحال سامنے آرہی ہے۔ یہ صورتحال ملک کیلئے نقصان دہ اور معیشت کیلئے زہر قاتل ہے۔ اربوں روپے کی ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ ہو کر غائب ہو جائے تو سمجھ سے بالاتر ہے۔ ٹیکسٹائل فیکٹریوں کی خام مال کی خریداری ‘ مینوفیکچرنگ اور فروخت میں فرق سامنے آیا تو ایسا کرنے والے کو اب کوئی معافی نہیں ملے گی۔ ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو فیئر ڈیل کرنا ہو گی۔ معاملات مشکوک ہوئے تو قانون کو متحرک ہونا پڑے گا۔ اس حوالے سے ہم کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ ماضی میں جو ہوتا رہا اب نہیں ہوگا۔ سب کو اپنے معاملات بہتر بنانا ہوں گے۔ تاجروں اور صنعتکاروں کی تنظیموں کو بھی اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کے تحفظ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ ایسی صورتحال میں تو چیمبر آف کامرس ‘ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن’ اپٹما’ اپٹپما اور دیگر تنظیموں کو رضاکارانہ طور پر ایف بی آر کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرکے ملکی معیشت مضبوط بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ مشکوک معاملات میں ملوث افراد’ فیکٹریوں’کمپنیوں یا اداروں کو بچانے کیلئے کسی فرد یا تنظیم نے بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی تو ہم اس کا بھی احتساب کریں گے۔
اوور انوائسنگ کرکے زائد ریفنڈ لینے یا انڈر انوائسنگ کرکے ملک کو نقصان پہنچانے والے ایکسپورٹرز کے ساتھ بھی سخت ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ ایسے تمام کیسز کھول دئیے گئے ہیں۔ اوور انوائسنگ کرکے زائد ریفنڈ وصول کرنے والوں کو نوٹس جاری کئے جارہے ہیں اور ان سے قومی خزانے کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔ نوٹس کے جواب میں ازخود ادائیگی نہ کرنے والوں کیخلاف قانون متحرک کریں گے۔ انڈر انوائسنگ کرکے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف بھی قانونی کارروائی کا لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔ بغیر آڈٹ کئے ریفنڈ ادائیگیاں کرنے والے ایف بی آر کے افسران اور ذمہ داران کو بھی جواب دہ بنایا جائے گا۔ ماضی میں جس نے بھی ایسا کیا ہے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ہم ٹیکس اصلاحات کے مکمل پیکج پر کام کررہے ہیں۔صرف پالیسی سازی اور قانون سازی ہی نہیں بلکہ ٹیکس پراسیس کو بھی بہتر بنارہے ہیں۔ متعدد قوانین میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ٹیکس پالیسی تیار کی جارہی ہے۔ ایف بی آر اور ٹیکس دینے والوں کے ساتھ فرینڈلی ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بزنس کمیونٹی کو ہراساں کرنے کی بجائے ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرکے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے اور ٹیکس چوری روکنے پر کام کررہے ہیں۔
ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ گنے چنے افراد سے ٹیکس لے کر معاملات درست نہیں کئے جاسکتے۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ بنیادی مقصد ہے۔ اکانومی کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ہم زور زبردستی کی بجائے فرنڈلی ماحول پیدا کرکے خود احتسابی اور ازخود ٹیکس دینے کی روائت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیکس لینے والے اداروں اور بزنس کمیونٹی میں دوستانہ ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ ٹیکس سسٹم کو آٹو پر لے کر جارہے ہیں۔تمام معاملات گھر بیٹھے آن لائن ڈیل کئے جاسکیں گے۔ لوگوں کو کم سے کم ایف بی آر آنا پڑے گا تاکہ ان کے وقت کا ضیاع نہ ہو۔

زمین جائیداد کی خریداری و کرایہ داری’ گاڑیوں کی خرید و فروخت’ ملکی و غیرملکی سفر’ حج و عمرہ کی ادائیگی’ سکول ‘ کالج ‘یونیورسٹیوں کے داخلے و فیس ادائیگی’ بجلی ‘گیس ‘ فون کے بل ‘ بنک اکاؤنٹس اور دیگر ہر طرح کے لین دین کے حسابات کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایسے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ہر طرح سے آڈٹ کررہے ہیں جن کی آمدن قابل ٹیکس آمدن سے زیادہ ہے۔
سمگلنگ ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کسٹم کا عملہ بھی سرگرم ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ سمگلنگ کا مال ہماری سرحدوں کے اندر نہ آسکے تاہم اس کے باوجود خفیہ راستوں سے آنے والے مال کو شہروں میں نقل و حمل سے چیک کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی مال مارکیٹوں میں پہنچ رہا ہے تو اس کو مارکیٹوں میں پکڑا جا رہا ہے۔ سمگلنگ کا مال کہیں سے بھی پکڑا گیا تو مال پکڑنے کے ساتھ خریدوفروخت میں ملوث افراد کے ساتھ بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر کی معلومات بزنس کمیونٹی کو دینے اور بزنس کمیونٹی کے ایجنٹ بن کر ایف بی آر آفسز میں کام کرنے والے افسران و عملے کے ساتھ سخت ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ تمام ایف بی آردفاتر کے افسران و عملے کو وارننگ ہے کہ ایسے کسی بھی معاملے سے دور رہیں۔ ماضی میں جو ہوتا رہا ہے اس کو ترک کردیں۔ نئی شروعات کریں۔ احساس ذمہ داری کریں۔ ملک کا سوچیں ۔ اس ملک کی بہتری کیلئے کام کریں۔
فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور بڑا تجارتی و صنعتی مرکز ہے۔ میری فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی سے اپیل ہو گی کہ وہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ اپنے ٹیکس کے معاملات کو بہتر بنائے۔ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔ غیرقانونی سرگرمیوں سے بچیں۔ ایف بی آر کا عملہ ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ کسی سے کوئی بھی رشوت مانگے یا قانون سے ہٹ کر تنگ کرے تو وہ اسلام آباد میں ان کے ساتھ رابطہ کرسکتا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو مکمل سہولت دیں گے۔ بزنس کمیونٹی ہمارے ساتھ تعاون کرے اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے بھرپور احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

فیصل آباد کے سرمایہ دار بھی پی ٹی آئی کے احتساب پروگرام سے خوفزدہ

میاں منشاء کا نشاط چونیاں گروپ ٹیکس فراڈ میں ملوث نکلا

Related posts