ہم جیسے لوگوں کی پہچان مجمع بازی ہے : تحریر’ مائرہ علی

تحریر: مائرہ علی

شہر کی مرکزی شاہراہ پر ایکسیڈنٹ ہوتا ہے. آن کی آن میں پاس سے گزرنے والے لوگوں کا جمِ غفیر حادثے کی جگہ کو گھیر لیتا ہے. درمیان میں ایک شخص خون میں لت پت پڑا آخری سانسیں لے رہا ہے. لوگ دائرہ بنائے ایک دوسرے کی گردنوں سے بلند ہو ہو کر یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں. کچھ لوگ موبائل کیمروں سے ویڈیوز بنانے میں مصروف ہیں. تقریباً پندرہ منٹ تک زخمی شخص یونہی سڑک پر پڑا رہتا ہے مگر لوگوں میں سے کوئی آگے بڑھ کر اسے پانی پلانا تو دور ہاتھ تک لگانے کو تیار نہیں.. پھر ریسکیو کی گاڑی آتی ہے تو وہ اسے اٹھا کر لے جاتی ہے. اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرکے لوگ اپنی انسانیت دوستی کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں اور بھرپور دکھ کا اظہار کیا جاتا ہے. ایک سے بڑھ کر ایک سماجی کارکن ٹریفک پولیس اور ریسکیو کی نااہلی پر سراپا احتجاج نظر آتا ہے… حادثے کے وقت موقع پرموجود خاموش تماشائی بھی اس تنقید اور احتجاج میں بھرپور حصہ ڈالتے ہیں اور اپنے آپ کو سوشل ورکر کہلاتے ہیں. یہ ہے اس تماشا پسند قوم کی اخلاقی اقدار کی موجودہ صورتحال…
ہم تماشا پرستی اور بے حسی کی تمام حدود پار کرچکے ہیں. اپنے روزمرہ معاملات میں بے حد مصروف ہونے کا ڈھونگ رچانے والی قوم کو جہاں جس موڑ پر کوئی دلچسپ عمل ہوتا دکھائی دیتا ہے, یہ تماشا دیکھنے کےلیے لمحوں میں مجتمع ہوجاتے ہیں. یہاں کسی سائنسی کانفرنس یا علمی مباحثے سے زیادہ لوگ مداری کے تماشے پر جمع ہوتے ہیں. اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس قوم کا محبوب مشغلہ تماشا دیکھنا ہے. چاہے وہ تماشا سیاست کے میدان میں ہو یا دنیا کے کسی بھی میدان میں. صورتحال اس نہج پہ پہنچ چکی ہے کہ قدرتی آفات اور بڑے بڑے حادثات پر عینی شاہدین ویڈیو بنانے میں تو پہل کرتے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر مدد کو بالکل بھی تیار نہیں ہوتا.. فیس بکی دانشوروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے.. ایک سے بڑھ کر ایک سوشل ایکٹیوسٹ سامنے آرہا ہے مگر افسوس ہے کہ بہتر سالہ تاریخ میں ہم ایک ہی ایدھی پیدا کرسکے ہیں. یہ تماشائی روش ہماری زندگی کے تمام پہلوﺅں کو گھیرے ہوئے ہے اور کسی بُری عادت یا نفسیاتی بیماری کی طرح ہمیں لاحق ہو چکی ہے۔ ا کثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں ہمارا غریب جاننے والا غربت کی وجہ سے بیٹی کی شادی نہیں کر پا رہا۔ فلاں عزیز کا بیٹا بیروزگار ہے، فلاں شخص کسی موذی مرض میں مبتلا ہے اور فلاں آدمی مالی پریشانی کا شکار ہے۔ ہم یہ باتیں بہت غور سے سنتے ہیں، ان پر افسوس کرنے کے بعد اپنے معمولات میں پھر سے مصروف ہو جاتے ہیں۔ گویا یہ تمام مسائل ہمارے لئے ایک تماشے سے زیادہ نہیں تھے۔ عجیب تماشا پرستی دن بدن معاشرے میں پنپ رہی ہے اور اگر یہی عالم رہا تو یہ قوم بہت جلد اخلاقی پستی کی تمام حدیں عبور کردے گی.

ہم ایسے لوگوں کی پہچان مجمع بازی ہے
ہم ایسے لوگوں کا نام و نسب تماشا ہے

کہنے تو ہم ایک اسلامی معاشرہ ہیں اور ہمارے منبروں پر علماء خوب رونق لگائے رکھتے ہیں مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اسلام ہماری زندگیوں سے نکل چکا ہے. ہم برائے نام اسلامی تعلیمات کا پرچار تو کرتے ہیں مگر ہمارے رویے ان سے قطعاً عاری ہیں. ہم ایک ایسی قوم ہیں جو صرف خاموش تماشائی بن کے نظارہ کرتے ہیں۔ہم سب صرف دوکانوں ،حجروں اور گلیوں میں بیٹھ کر بحث کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تدابیر کرسکتے ہیں.. حالانکہ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے

دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو (آل عمران 110)

مگر افسوس کہ وہ بہترین گروہ اب ایک تماشا پرست ہجوم بن چکا ہے. پوری امتِ مسلمہ میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ سن کر روح کانپ جاتی ہے مگر ہم مسلمان محض تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں اور ہمارے حکمران اپنی سیاست چمکانے میں.. مشال خان کے قتل سے لے کر ننھی زینب کے واقعے تک ایسے کتنے ہی دلخراش واقعات ہیں جو اب ہمارے ذہنوں سے محو ہو چکے ہیں اور ہماری بےحسی کی بدترین مثال ہیں. دن دیہاڑے چوکوں میں بےگناہوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے مگر ہماری غیرت کا یہ عالم ہے کہ محض سوشل میڈیا پر دو چار ہمدردانہ جملے لکھ کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہوگیا.. یہ صورتحال ایک بھیانک طوفان کا پیش خیمہ ہے جس کے بعد صحیح غلط کی تمیز جاتی رہے گی اور انسانیت دم توڑ جائے گی.. انسان پھر سے جنگل کے قانون کی طرف جا رہا ہے جو معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی موت کا اعلان ہے… خدارا اس کےلیے اقدامات اٹھائیں وگرنہ

ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

Related posts