تعلیمی مرغی خانے: کرونا اور آن لائن ایجوکیشن – تحریر وسعت اللہ خان

کیا اساتذہ تھے! تنخواہ قلیل ہے کہ کثیر، سہولتیں میسر ہیں کہ نہیں، عہدے میں ترقی ہوگی یا نہیں، یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی ان باتوں پر غور کرنے کی فرصت ہی کہاں تھی ایسے اساتذہ کے پاس۔

انہیں تو بس یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ نالائق شاگرد کچھ پڑھ لکھ لیں، تھوڑی بہت تمیز تہذیب سیکھ لیں، اچھائی برائی کا بنیادی فرق جان لیں، پچھلوں کے مقابلے میں قدرے بہتر شہری بن جائیں، لغویات میں نہ پڑیں اور آج کا کام کل پر مت چھوڑیں۔

بدلے میں ان اساتذہ کو سوائے عزت و احترام اور اس خوشی کے کیا ملتا تھا کہ وہ اپنے سینکڑوں شاگردوں میں سے دو چار کے بارے میں سینہ پھلا کے کہہ سکیں کہ یہ جو آج ڈی سی بنا پھرتا ہے، فلاں جو فضائیہ میں ونگ کمانڈر ہے اور وہ جو ایم این اے ہے، یہ سب میرے شاگرد ہیں۔

اور پھر شاگرد بھی کیسے شاگرد تھے۔ ڈی سی صاحب ہوں کہ ونگ کمانڈر کہ ایم این اے، استاد کو سامنے سے آتا دیکھ کر گاڑی سے اُتر جاتے، جلتی سگریٹ مُٹھی میں بند کر لیتے۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملتے، سر جھکائے کھڑے رہتے اور پھر بہت اٹک اٹک کے پوچھتے ‘سر ہمارے لائق کوئی خدمت، کام، حکم، کوئی مشورہ، نصیحت۔۔۔’ استاد کے منہ سے سوائے اس کے کچھ نہ نکلتا کہ بس بیٹا یونہی پھلو پھُولو اور انسانوں کے کام آؤ۔

پچھلے دور کے اساتذہ کا مقصد طلبا کو صرف اچھی تعلیم دینا ہوتا تھا۔

اور پھر جب تک استاد کی سائیکل نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی ڈی سی صاحب یا ونگ کمانڈر صاحب یا ایم این اے صاحب اپنی جگہ سے احتراماً ہلتے بھی نہ تھے۔یہی تو وہ ٹیچر تھے جن کے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ دے کر کہا جاتا ‘استاد جی آج سے یہ تمہارے حوالے ، گوشت تمہارا ہڈیاں ہماری ‘۔۔۔۔۔

اور پھر سب بدل گیا۔ تعلیم کے خیمے میں پیسے، لالچ، رشوت، سفارش کا اونٹ گھس گیا اور اب تو پورا خیمہ ہی اس اونٹ کے کوہان پر ہے۔

جس کو کہیں نوکری نہیں ملتی وہ پرچی اور پیسے کے زور پر کسی سرکاری سکول میں ٹیچر بھرتی ہو جاتا ہے۔ تنخواہ کو وظیفہِ آسمانی سمجھتا ہے اور مہینے کی پہلی تاریخوں میں سکول کا چکر لگانے کا بھی تکلف کر لیتا ہے۔ نہ وہ اپنے شاگردوں کی صورت اور نام سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور نہ ہی شاگردوں کو اس کی شکل ٹھیک سے یاد رہتی ہے۔ دن میں اس کا زیادہ دھیان پڑھانے سے زیادہ اس میں اٹکا رہتا ہے کہ کب کسی من پسند جگہ پر تبادلہ ہو، کب نیا انکریمنٹ لگے اور کب وہ پانچ برس میں ملنے والی ترقی صرف ڈیڑھ برس میں پا لے۔ شام کو یہی ٹیچر ٹیوشن سینٹر میں اپنے ہی سکولی شاگردوں کو فی مضمون علیحدہ علیحدہ پیسے لے کر پڑھاتا ہے اور وہی کچھ پڑھاتا ہے جو اُصولاً اسے دن میں سکول میں فرض کے طور پر پڑھانا چاہیے ۔

جہاں تک پرائیویٹ سیکٹر کا معاملہ ہے تو اوپر کے مہنگے مہنگے سکولوں کو چھوڑ کے باقی سب سکول بس ایک چھوٹے سے گھر پر بڑا سا بورڈ لگا کے انگلش میڈیم ہو جاتے ہیں۔ استاد بھرتی پہلے ہوتا ہے اور انگریزی پڑھانے کا طریقہ بعد میں سیکھتا ہے۔

انگلش میڈیم کے نام پر گھروں میں سکول کھول رکھے ہیں۔

ان سکولوں کے اکثر مالکان کا تعلیم کے فروغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ریسٹورنٹ نہ کھولا، ورکشاپ نہ بنائی، سکول کھول لیا۔ محض اس لیے کہ آج کل تعلیمی بزنس میں ریسٹورنٹ یا ورکشاپ سے زیادہ کمائی ہے۔ کل اگر منافع میں خسارہ شروع ہوگا اور کچرہ فروخت کرنے میں زیادہ منافع نظر آئے گا تو یہی عمارت جس پر آج سکول کا بورڈ لگا ہے کچرا کُنڈی میں بدل جائے گی اور پرسوں یہاں زیور بنانے کا کارخانہ کھل جائے گا اور ترسوں۔۔۔۔۔۔

استاد اور شاگرد کا رشتہ جانے آج بھی زندگی بھر کا رشتہ ہے کہ نہیں پرانے دور کے سرکاری و مشنری سکولوں میں جو لوگ پڑھ چکے ہیں، انہیں آج پچاس ساٹھ برس بعد بھی اپنے ایک ایک استاد کا نام خوبیوں اور خامیوں اور لطائف سمیت یاد ہے کیونکہ انہوں نے ان اساتذہ کے ساتھ دس دس سال ایک ہی عمارت میں گزارے۔

آج میرا بیٹا بظاہر ایک اچھے ولایتی انداز کے سکول میں پڑھ رہا ہے مگر جب بھی وہ اگلے گریڈ میں جاتا ہے اس کے سکول کی عمارت بدل جاتی ہے۔ کے جی میں کوئی اور بلڈنگ تھی، نرسری میں کوئی اور، پرائمری میں کہیں اور، سیکنڈری میں بہت ہی دور کہیں۔ اور ہر سال نئے اساتذہ کے چہرے اور اگلے برس پھر نئے چہرے۔ میرا بیٹا پڑھ تو جائے گا مگر کس ٹیچر کو کب تک یاد رکھ پائے گا؟

کے جی کلاس کے بعد سے ہر سال بلڈنگ اور اساتذہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

مجھے تو آج کے یہ ماڈرن سکول درس گاہیں کم اور پولٹری فارم زیادہ لگتے ہیں۔ چوزے ایک سائیڈ پر، یہی چوزے ذرا بڑے ہوئے تو ایک اور شیڈ میں ایک اور کیئر ٹیکر کے ساتھ اور پھر مرغی کے سائز کے ہوئے تو کسی اور رکھوالے کے حوالے اور بالآخر زندگی کی قربان گاہ کے حوالے۔

ان تعلیمی مرغی خانوں سے جو پیداوار نکلتی ہے، دیکھنے میں تو وہ موٹے تازے خُوبرو چکن ہی ہوتے ہیں مگر ان کا گوشت دیسی مرغوں کے برعکس دو آنچ میں ہی گل جاتا ہے۔ خواہش کرنے یا خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں مگر کوئی حال اپنا بھی تو ہو۔

جڑ کمزور ہو تو درخت بھی ٹنڈ منڈ ہوتا ہے۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو پھر اصل کام یہ ہے کہ ان امیدواروں پر رونے پیٹنے کے بجائے اس تعلیمی مشین کو پرزہ پرزہ کر کے دوبارہ جوڑیں جس نے تعلیم کو صنعتِ مرغ بانی میں بدل دیا ہے۔

کیا کورونا وائرس تعلیم گاہوں کو آن لائن ڈیجیٹل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جوہر میں بھی کارآمد بنا پائے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو میں کورونا کی نظر اُتاروں گا۔

Related posts