ڈی جی انٹی کرپشن کروڑوں کی لوٹ مارکرنیوالوں کا محافظ بن گیا


فیصل آباد (نیوزلائن) محکمہ انہار میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنیوالوں کا خود ڈی جی انٹی کرپشن محافظ بن گیا۔ محکمہ انہار کے کرپٹ مافیا کیخلاف تحقیقات کرنیوالے انٹی کرپشن آفیسر کو اپنے آفس میں بلا کر ملزمان کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنایا اور انکوائری سے الگ کرکے بطور سزا فیصل آباد سے ڈی جی خان بھجوا دیا۔ نیوزلائن کے مطابق ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب مظہر نیاز رانا کرپٹ مافیا کا تحفظ کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں۔ ڈی جی انٹی کرپشن نے اپنے ایک عزیز کی کرپشن بچانے کیلئے اپنے محکمے کے آفیسر کو عتاب کا نشانہ بنا ڈالا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ انہار فیصل آباد میں تعینات رہنے والے ایکسیئن عہدہ کے پانچ افسران رانا افضل، امتیاز بھٹی، عابد رشید، راشد عزیز اور ظفر بودلہ کے خلاف نہروں اور سیم نالوں کی صفائی کیلئے رکھی گئی رقم میں سے بوگس بلوں کے ذریعے چھ کروڑ روپے خورد برد کرنے کی انکوائری نمبر 208/17انٹی کرپشن فیصل آباد میں جاری تھی کہ انکوائری کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف اللہ گل ریٹائر ہوگئے ۔اس کے بعد یہ انکوائری اسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹی کرپشن انوارالحسن شیرازی کو سونپی گئی جنہوں نے تمام افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کیا۔انکوائری میں شامل ایک افسر رانا افضل ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب مظہر نیازرانا کا تعلق دار تھا۔ رانا افضل نے ڈی جی کو شکایت کی جنہوں نے 28اگست کو انکوائری آفیسر کو لاہور فائل سمیت طلب کر کے ان کی سرزنش کی اور بعد میں ان کا تبادلہ ڈی جی خاں کرتے ہوئے کیس کی فائل اپنے پاس رکھوا لی تاکہ انکوائری آفیسر انوارالحسن شیرازی رانا افضل کے متعلق کچھ لکھ نہ دیں۔ اس سلسلہ میں انٹی کرپشن فیصل آباد میں تعینات ایک آفیسر کا کہنا تھا کہ انوارالحسن شیرازی کو تعیناتی کا عرصہ زیادہ ہونے پر تبدیل کیا گیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انوارالحسن کی تعیناتی بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیڑھ سال ہے ان کے علاوہ صوبہ بھر میں بہت سے افسران ایسے ہیں جن کی ساری نوکری ہی اپنے اضلا ع میں ہے۔

Related posts