سال2017: انٹی کرپشن ’’ تحفظ کرپٹ مافیا‘‘مشن پر گامزن رہا


فیصل آباد(احمد یٰسین)سال رواں کے دوران محکمہ انٹی کرپشن فیصل آباد کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ سرکاری افسران کا محاسبہ کرنے کی بجائے کرپٹ مافیاز کو تحفظ دینے کیلئے سرگرم رہا ۔ ایک سال میں انٹی کرپشن فیصل آباد نے کرپشن میں ملوث عناصر کیخلاف آنیوالی درخواستوں میں سے صرف چار فیصد کارروائی کی باقی درخواستوں پر کارروائی کی بجائے انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔نیوزلائن کے مطابق انٹی کرپشن فیصل آباد نے سال 2017کے دوران کرپٹ سرکاری ملازمین کیخلاف آنیوالی ساڑھے تین ہزار سے زائد درخواستوں کو ڈائریکٹ ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا۔ کرپشن کیخلاف آواز اٹھانے والوں کی ان درخواستوں کو انکوائری نمبر بھی نہ لگا اور بغیر انکوائری لگے ہی ان کو فارغ کر دیا گیا۔جن درخواستوں کو انکوائری مرحلے تک رسائی کا موقع ملا ان میں سے بھی 2358درخواستوں پر انکوائریاں مخصوص مفادات کے تحت کرپٹ سرکاری ملازمین کے حق میں کر دی گئیں۔سال کے 360دنوں کے دوران انٹی کرپشن فیصل آباد کے ایک سو افسران اور ملازمین مشترکہ کوششوں سے صرف دو سو سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کر سکے۔کرپشن کی چھے ہزارکے لگ بھگ درخواستوں میں کرپٹ مافیاز کیخلاف کوئی ایکشن نہ لیا جا سکا۔ ڈائریکٹر انٹی کرپشن فیصل آباد ڈاکٹر ارشاد نے سرکاری ملازمین کیخلاف کرپشن کی شکائت کرنے کی بری طرح حوصلہ افزائی کی۔ کرپٹ سرکاری ملازمین کیخلاف انٹی کرپشن سے رجوع کرنے والوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتا رہا۔کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کو انٹی کرپشن کی چھتری تے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا جبکہ شکائت کرنے والے شہریوں کو خود انٹی کرپشن حکام ڈراتے دھمکاتے رہے۔سرکاری افسران کیخلاف شکایات کی بری طرح حوصلہ شکنی کی گئی جبکہ کرپٹ سرکاری افسران کیساتھ ملی بھگت کرکے عوام کے اربوں روپے لوٹنے والوں کیخلاف درخواستوں کو فائلوں کے انبار میں غائب کردیا گیا۔ ڈی جی ایف ڈی اے‘ سابق ڈی سی او‘ سابق اے ڈی سی ریونیو‘ڈ ی جی پی ایچ اے سمیت متعدد افسران کے خلاف شکائت کو دبائے رکھا اور اس معاملے میں شکائت کنندگان کو ہی ڈرایادھمکایاجاتا رہا ۔ پورے سال میں ایک بھی کرپٹ اعلیٰ سرکاری افسر کیخلاف کارروائی نہ کی جاسکی۔ چھوٹے سرکاری ملازمین کو نشانہ بنا کر کارکردگی کی خانہ پری کی گئی۔کرپٹ افسران کی بجائے کرپشن کی شکایات کرنے والوں کیخلاف رپورٹس بنا بنا کر کرپٹ مافیا کے مددگار بنے رہے۔ڈائریکٹر انٹی کرپشن ڈاکٹر ارشاد نے اس سال کے دوران اپنے ای ڈی او فنانس چنیوٹ اور ای ڈی او فنانس فیصل آباد تعیناتی کے دوران کی بے قاعدگیوں اور کرپشن کی شکایات کو کلیئر کروا کر اپنے لئے خود ہی کلین چٹ بھی تیار کر لی۔ ان معاملات کے شکائت کنندگان کو بھی ڈرا دھمکا کر بھگا دیا گیا۔

Related posts