ڈولفن کے جوان ’’ٹورٹہکا‘‘ کمپلیکس کا شکار‘ فرض بھلا بیٹھے


فیصل آباد(عاطف چوہدری)ڈولفن فورس کے جوان اپنے اصل فرض ’’سٹریٹ کرائم کی روک تھام ‘‘کو بھلا کر ’’ٹور ٹہکا ‘‘کمپلیکس کا شکار اور دعوتیں اڑانے میں مگن ہیں۔ سی پی او فیصل آباد سمیت اعلیٰ پولیس افسران ڈولفن کی بڑھتی ہوئی شکایات پر شدید پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق ڈولفن کے فورس کو سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کیلئے تشکیل دیا گیا تھامگر ڈولفن اپنے اس فرض کو نبھانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اب تک فیصل آباد میں ڈولفن فورس عام شہریوں کو ہی تنگ کرنے میں کامیاب دکھائی دی ہے۔ سٹریٹ کرائم کی وارداتیں پہلے سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں ۔ ڈولفن فورس کا ابھی تک صرف ایک مرتبہ کریمنلز سے سامنا ہوا اور نوبت مقابلے تک پہنچی مگر اس واحد مقابلے میں ڈولفن فورس کے جوان بری طرح ناکام رہے ۔ ملزمان کی فائرنگ سے ڈولفن کے جوان زخمی ہو کر ہسپتال جا پہنچے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پولیس ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ڈولفن کے اہلکاروں کو زخمی کرنے والے ملزمان کو’’ ایک عام‘‘ شہری نے نہتے ہوتے ہوئے بھی پکڑ لیا۔ اس ’’عام شہری‘‘ کی دہشت ملزمان پر اتنی زیادہ طاری ہو گئی تھی کہ ڈولفن اہلکاروں پر بھرے بازار میں فائرنگ کرنے والے ملزم اس عام شہری پر گولی چلانے کی بھی ہمت نہ کرسکے۔ذرائع کے مطابق شہریوں کیساتھ حسن سلوک کا سبق کب کا بھلایا جا چکا ہے ۔ڈولفن فورس کے جوان معمولی باتوں پر شہریوں کیساتھ جھگڑنے لگتے ہیں۔ شہریوں کے اعتراضات اور ڈولفن کی خلاف قانون حرکات پر نکتہ چینی کو ڈولفن کے شیرجوان اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں۔سٹریٹ کریمنلز کیخلاف کارروائیوں کی بجائے جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کو تنگ کرنا‘ تلاشی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کرنا عام ہے۔باوردی ہوٹل گردی کی جاتی ہے۔ دوستوں کیساتھ دعوتیں اڑائی جاتی ہیں۔دوران ڈیوٹی مختلف پوائنٹس پر صاحب اقتدار افراد کے چہیتوں سے کھانے پینے کی دعوتیں حاصل کرنا بھی ڈولفن کے جوانوں کا معمول بن چکا ہے۔عام آدمی کی مدد کرنا تو درکنار ڈولفن کے جوان کسی کو مشکل میں دیکھ کر اپنی ہیوی بائیک کی سپیڈ دگنا کرکے فرار ہونے کی کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈولفن فورس کے جوانوں کیخلاف سی پی او سمیت اعلیٰ پولیس افسران کے پاس بڑی تعداد میں شکایات آرہی ہیں اور فورس کے خلاف قواعد اقدامات پر تمام افسران پریشان ہیں۔

Related posts