خالہ نے نومولود بھانجا قتل کرکے جنات کی کارستانی کا ڈرامہ رچا دیا

فیصل آباد (نیوز لائن) جنات کی کارروائی کانتیجہ قراردی گئی نومولود کی موت ایک سال بعد قتل کی صورت اختیارکرگئی۔مقامی شہری تحسین احسن کی شکایت پر ملت ٹاون تھانہ میں اس کے سسرالی رشتہ داروں اوران کے پیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔تحسین احسن کے مطابق اولاد نرینہ سے محروم سعودیہ پلٹ سالی صائمہ منیرکے پیر ضیارحمت نے ترغیب دی کہ کسی نومولود کے قتل کاارتکاب کرنے کے بعداس کے ہاں بیٹاپیداہوسکے گا۔29اکتوبر2018کواس کی اہلیہ ماریہ منیر نے بیٹے کوجنم دیا۔ہسپتال سے ڈسچارج کئے جانے پرزچہ بچہ کوملت ٹاون ای بلاک میں واقع سسرال بھیجوادیاگیاجہاں سے اگلے روزاسے بچے کی موت کی خبرملی ۔اچانک واقع ہونے والی موت کوسسرال والوں کی طرف سے جنات کی کاروائی قراردی گئی ۔تحسین احسن کے مطابق موت کاشکارہونے والے بیٹے کے سرپرضرب اورگلے پرلگنے والے نشان اس کی غیرطبعی موت کااشارہ دے رہے تھے ۔بچے کی موت کے پیش نظراس کی اہلیہ بھی ہوش وحواس میں نہ ہونے کے سبب صورتحال واضح نہ کرسکی۔متاثرہ شہری کے مطابق بیٹے کی پراسرارموت کاپتہ چلانے کے لئے وہ اپنے طورپر تحقیق کرتارہااسی دوران سسرال والوں کے کرایہ دارنے بتایاکہ بچے کی نعش اسے گھرسے ملحقہ خالی پلاٹ سے ملی ،ایسالگتاتھاکہ اسے چھت سے پھینک کرہلاک کیاگیا۔تحسین احسن کے مطابق یہ بات سن کراس کاشک یقین میں بدل گیاکہ اسے کے بیٹے کوکسی سازش کے تحت قتل کیاگیاہے ۔اسی بازپرس کے دوران رشتہ دارخاتون رمشاالیاس کوپولیس کاروائی سے رعایت دلوانے کی یقین دہانی کرائی گئی تووہ قتل کی سازش بے نقاب کرنے پرمجبورہوگئی۔رمشاالیاس کاکہناتھاکہ پیرضیارحمت کے کہنے پر بچے کوقتل کیاگیااس سازش میں اولادنرینہ کی خواہشمندصائمہ منیراوراس کی دوسری بہن مہوش منیر،ان کابھائی عاطف منیراوراللہ رکھی نامی عورت بھی ملوث تھی ۔ملت ٹاون پولیس نے قتل کیس کے اندراج کے بعد حقائق کاپتہ چلانے کے لئے تفتیش شروع کردی ۔

Related posts