سی پی او آفس’ سیشن کورٹ کے سامنے ڈاکٹر قتل: شہر میں خوف و ہراس

فیصل آباد (نیوز لائن) مقدمہ قتل کی ضمانت کیلئے سیشن کورٹ آئے ڈاکٹر کو سی پی او آفس کے گیٹ کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ حملہ آور ڈولفن فورس کے ساتھ مقابلے کے بعد گاڑی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، کوتوالی پولیس نے مقتول کی لاش قبضہ میں لے کر ہسپتال منتقل کردی، ضلع کچہری کے باہر سے تاریخ پیشی پر آئے سائلین میں خوف و ہراس پھیل گیا، ضلع کچہری کے ارد گرد کھڑے پولیس ملازمین کوئی بھی مزاحمت نہ کرسکے، بتایا گیا ہے کہ جھمرہ کے علاقہ چک نمبر 187کچا جھمرہ کا رہائشی چالیس سالہ سید شہزاد حسین ولد صابر حسین قتل کے مقدمہ کی تاریخ پیشی پر ضلع کچہری آیا ہوا تھا جہاں پر وہ سی پی او آفس گیٹ سے باہر نکلا تو کارنمبر ایف ڈی اے 628 کرولا میں سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی،فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس ملازمین اور ایلیٹ فورس کے جوانوں کو بھی کاروائی کا کوئی موقع نہ مل سکا، گولیاں لگنے سیسید شہزاد شدید زخمی ہوگیا جس کو پرائیویٹ گاڑی پر الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر وہ خون زیادہ بہہ جانے کے بعد دم توڑ گیا، حملہ آوروں کا ڈولفن ٹیموں نے تعاقب کیا تو ملزمان پولیس پارٹی پر فائرنگ کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی بی سی ٹاور کے قریب اپنی گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے، سنگین وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے علاقہ میں سرچ آپریشن شروع کروادیا تاہم کوئی گرفتاری نہ ہوسکی۔پولیس حکام کے مطابق مقتول شہزاد تاریخ پیشی پر سیشن کورٹ آیا تھا ۔مقتول ایک پولیس ملازم کے بیٹے کو قتل کرنے کے مقدمہ میں ملوث تھا ۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ مقتول ڈاکٹر کو مخالفین نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔ فائرنگ کے بعد مقتول بیس منٹ تک کچہری گیٹ پر زخمی حالت میں تڑپتا رہا لیکن کسی بھی پولیس اہلکار اور شہری نے اسے نہ اٹھایا بلکہ پولیس ملازمین قریب کھڑے رہے کچہری گیٹ پر فائرنگ کے واقع کے بعد درجنوں شہری اور وکلاء موقع پر پہنچ گئے، ضلع کچہری کے باہر فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا، ضلع کچہری کے ارد گرد کھڑے پولیس ملازمین کوئی بھی مزاحمت نہ کرسکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جھمرہ کے علاقہ چک نمبر 187کچا جھمرہ کا رہائشی چالیس سالہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر سید شہزاد حسین ولد صابر حسین قتل کے مقدمات میں تاریخ پیشی پر ضلع کچہری آیا ہوا اور دو ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کی عدالتوں میں پیشی کے بعد وہ سی پی او آفس گیٹ کے قریب کچہری گیٹ سے باہر نکل ریا تھا تو کارنمبر ایف ڈی اے 628 کرولا میں سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی ،فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس ملازمین اور ایلیٹ فورس کے جوانوں کوکاروائی کا کوئی موقع نہ مل سکا، پانچ گولیاں لگنے سید شہزاد حسین کافی دیر تک شدید زخمی حالت میں پڑا رہا لیکن اسے موقع پر جمع ہونے والے کسی بھی پولیس اہلکار اور شہری نے اٹھانے کی زحمت گوارہ نہ کی جس کو پرائیویٹ گاڑی میں الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا فائرنگ کے بعد مختلف عدالتوں میں پیشی پر آئے سائلین اور وکلاء میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہسپتال منتقل کیا جانے والا ڈاکٹر خون زیادہ بہہ جانے کے بعد باعث دم توڑ گیا، حملہ آور کار سواروں کاڈولفن ٹیموں نے تعاقب کیا تو ملزمان پولیس پارٹی پر فائرنگ کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی بی سی ٹاور کے قریب اپنی گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مقتول سید شہزاد حسین کا اپنے گاوں کے رہائشی رجوکہ برادری کے ساتھ قتلوں کی دشمنی چلی آرہی ہے، کوتوالی پولیس نے مقتول کی لاش پوسٹمارٹم کیلئے الائیڈ ہسپتال کے مارچری یونٹ منتقل کردی۔ سی پی اوآفس سے ملحقہ احاطہ کچہری کے داخلی گیٹ پرپولیس اورایلیٹ فورس کی موجودگی میں شہری کے قتل اورمسلح قاتل کے آسانی سے فرارہونے کے واقعہ نے ضلعی پولیس کے حفاظتی انتظامات کی قلعی کھول دی ۔خونی واقعہ کے عینی شاہد اورجائے وقوعہ پر پہنچنے والے شہری بھی غفلت لاپرواہی پرپولیس اورمتعلقہ افسران کوکوستے رہے ۔سیشن کورٹ اوراحاطہ کچہری میں متحارب پارٹیوں کی آمدورفت کے پیش نظرناخوشگوارواقعات سے بچاوکے لئے حکا م کی طرف سے آئے روز پولیس کوالرٹ رہتے ہوئے موثرحفاظتی انتظامات کاپابند کیاجاتاہے تاہم سکیورٹی ڈیوٹی پرمامورعملہ فرائض کی انجام دہی کے لئے خاطرخواہ اقدامات پرتوجہ نہیں دے پاتااسی وجہ سے ماضی میںبھی میںاس حساس ایریامیں کئی خونی اور پرتشددواقعات پیش آچکے ہیں۔گزشتہ روزتاریخ پیشی پرآئے ہوئے شہری کے مخالفین کے ہاتھوں مارے جانے کے واقعہ پرپولیس حکام کی طرف سے ماتحت عملہ پرناراضگی کااظہارکرتے ہوئے احاطہ کچہری وسیشن کورٹ کی اندرونی اوربیرونی سکیورٹی ڈیوٹی موثربنانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔

Related posts