جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کا سٹاف عید پر بھی تنخواہ سے محروم

فیصل آباد ( احمد یٰسین) وزیر تعلیم کی ناقص پلاننگ اور حقائق سے مکمل آگاہی حاصل کئے بغیر کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کا سٹاف عید پر بھی تنخواہوں سے محروم رہا جبکہ عید کے فوری بعد بھی انہیں تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنانا ممکن نظر نہیں آرہا۔نیوز لائن کے مطابق جی سی ویمن یونیورسٹی کے سٹاف کو تنخواہ کے بغیر ہی عید منانا پڑی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے واضح احکامات کے باوجود سرکاری یونیورسٹی ہونے کے باوجود جی سی ڈبلیو یو ایف کے سٹاف کو عید سے قبل تنخواہ کی ادائیگی یقینی نہ بنائی جا سکی۔ یونیورسٹی کے تمام فیکلٹی ممبران اور نان فیکلٹی سٹاف کو عید پر بھی تنخواہیں نہیں ملیں اور ان ”میٹھی عید” بھی ان کیلئے پھیکی ثابت ہوئی۔ نیوز لائن کے مطابق یونیورسٹی سٹاف کا عید پر بھی تنخواہوں سے محروم رہنا وزیر تعلیم پنجاب یاسر ہمایوں کی ناقص حکمت عملی اور حقائق سے آگاہی کے بغیر کئے گئے فیصلوں کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔ وزیر موصوف نے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی سے قبل ہی 19اپریل کو قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر صوفیہ انور کا عرصہ تعیناتی پورا ہونے پر انہیں ذمہ داریوں سے سبکدوش کروا دیا۔ویمن یونیورسٹی صوابی میں خدمات سرانجام دینے والی ڈاکٹر فاطمہ خان زادی کو جی سی ویمن فیصل آباد کی نئی وائس چانسلر تعینات کیا گیا مگر وہ صوابی میں اپنا عرصہ تعیناتی 27جولائی تک پورا کرکے ہی فیصل آباد میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی خواہا ں ہیں۔ 19اپریل سے یونیورسٹی بغیر کسی سربراہ کے چل رہی ہے۔ یونیورسٹی میں رجسٹرار اور خزانچی کے عہدے بھی طویل عرصہ سے خالی پڑے ہیں۔ ایک ڈپٹی رجسٹرار کو قائمقام رجسٹرار کا چارج دیا گیا تھا مگر وہ معاملات سنبھالنے کی بجائے بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں انتظامی اور مالی معاملات مسلسل خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خان زادی نے اپنی تعیناتی ہوتے ہی وزیر اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب کو تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا کہ وہ 27جولائی کو ہی فیصل آباد میں چارج سنبھالیں گی۔اس بابت انہیں اجازت بھی دیدی گئی مگر 27جولائی تک یونیورسٹی کے معاملات کیسے چلائے جائیں گے اس بارے وزیر نے سوچا نہ سیکرٹری نے ہی کوئی پلاننگ کی۔ وی سی ‘رجسٹرار اور خزانچی جیسے اہم انتظامی عہدے خالی ہونے کی وجہ سے یو نیورسٹی کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں ہوپارہی۔ یونیورسٹی کا تمام فیکلٹی و نان فیکلٹی سٹاف عید پر بھی تنخواہوں سے محروم رہا۔ صرف چند ایک ایسے سٹاف ممبران کو تنخواہ مل سکی جو براہ راست یونیورسٹی کی ملازمت میں نہیں ہے اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈسپوزل پر کام کررہا ہے۔ تنخواہ سے محروم رہ جانے کی وجہ سے سینکڑوں فیکلٹی و نان فیکلٹی سٹاف کی میٹھی عید بھی پھیکی بن گئی جبکہ لوگوں کیلئے اپنے گھروں کے مالی معاملات چلانا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ تنخواہ سے محروم ملازمین کا کہنا ہے کہ افسران تو پھر بھی گزارا کرسکتے ہیں مگر چھوٹے ملازمین کا تو روزمرہ کا گزر اوقات ہی تنخواہ پر ہے۔ عید جیسے اہم موقع پر بھی سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی نہ بنا سکنے پر وزیر اعلیٰ تعلیم پنجاب یاسر ہمایوں اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کو فارغ کیا جائے ۔ غلط منصوبہ بندی اور حقائق کے تناظر میں فیصلے نہ کرسکنے پر انہیں ہر طرح کی انتظامی ذمہ داری کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔ تنخواہ سے محروم ملازمین نے وزیر اعظم عمران خان ‘ چیف جسٹس آف پاکستان ‘وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار’ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور یونیورسٹی کے چانسلر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کیخلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔

Related posts