جی سی یونیورسٹی: سنڈیکیٹ نے بجٹ سمیت اہم امور کی منظوری دیدی

فیصل آباد (نیوز لائن) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ نے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کوآرڈی نیٹر سلمیٰ امبر کو ان کے عہدے سے فارغ کرنے اور ڈیپارٹمنٹ کا کنٹرول ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود کے سپرد کرنے کا فیصلہ کردیا ہے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ نے کوآرڈی نیٹر شپ سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے خلاف سلمیٰ امبر کی رٹ خارج کردی ہے۔ ماس کمیونیکیشن کی سابق کوآرڈی نیٹر سلمیٰ امبر کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے‘ طلبہ کے رزلٹ میں ٹمپرنگ کرنے‘ طلبہ کو بلیک میل کرنے‘ طالبات کو جنسی ہراساں کرنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کے پورٹل پر شکایات سامنے آنے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حوالے سے انکوائری کی تو سلمیٰ امبر پر تمام الزامات ثابت ہوگئے۔ انکوائری کمیٹی کے خلاف سلمیٰ امبر کی اپیل پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز پر مشتمل ڈینز کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی سلمیٰ امبر اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکیں تو ڈینز کمیٹی نے سلمیٰ امبر کو کوآرڈی نیٹر شپ سے ہٹانے کی سفارش کردی۔ ڈینز کمیٹی کی سفارشات پر وائس چانسلر نے سلمیٰ امبر کو کوآرڈی نیٹر شپ سے ہٹا کر ڈیپارٹمنٹ کا کنٹرول ڈینز سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود کو سنبھالنے کانوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔ وائس چانسلر کے فیصلے سلمیٰ امبر نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تو لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے سات دن میں یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلا کر اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا حکم سنا دیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کل (تین جولائی کو) ہونیوالے اجلاس میں اس معاملے کا جائزہ لیا اور سلمیٰ امبر کو عہدے سے ہٹانے اور ڈاکٹر عاصم محمود کو ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکیشن کا چارج سنبھالنے کا فیصلہ سنا دیا۔ سلمیٰ امبر نے ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلہ کیخلاف ڈبل بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ڈبل بنچ نے کل (تین جولائی کو) اس رٹ کی سماعت کی۔ اور اسے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردیا۔سنڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر امین نے کی۔ اجلاس میں ڈین لائف سائنسز ڈاکٹر فرحت جبیں‘ پرنسپل کمیونٹی کالج ڈاکٹر ندیم سہیل‘ ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود‘ پرنسپل اسلامیہ کالج ڈاکٹر صبغت اللہ طاہر‘ پرنسپل اسلامیہ کالج برائے خواتین ڈاکٹر فریحہ‘ سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان‘ میاں وارث عزیز‘ شکیل شاہد‘ فردوس رائے اور دیگر سنڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران 90کروڑ روپے سے زائد کی ترقیاتی سکیمیں اور یونیورسٹی کا ساڑھے چار ارب روپے کا بجٹ منظور کرلیا گیا۔

Related posts