کوالٹی ایجوکیشن کیلئے بک ریڈنگ کلچرکو فروغ دینا ہوگا: ڈاکٹر غلام مصطفی

سیاست جمہوری اقدار کی بنیاد اور جمہوری معاشروں کای اساس گردانی جاتی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے ہی سماج کو سمجھنے اور بہتر انداز میں آگے بڑھنے کیلئے مل جل کر چلنے کی سوچ پائی جاتی ہے۔ صدیوں پہلے سیاست کی تعلیم کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا گیا تھا۔ یونان کی جمہوری ریاستیں ہوں یا روم کی بادشاہتیں سیاست کے معاملات ہر دو جگہ پر ملتے ہیں۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ سیاست کے رموز ورنگ بھی نکھرے اور اس کی تعلیم بھی ہمہ جہتی ہوتی گئی۔ موجودہ دور میں سیاسیات کی تعلیم ایک باقاعدہ سائنس کے طور پر تسلیم کی جارہی ہے ۔ پولیٹیکل سائنس ایک ہمہ جہتی شعبہ بن چکا ہے اور اس میں سیاسیات’ پارلیمانی امور’ انٹرنیشنل امور’ ڈیمو کریٹک سٹڈیز سمیت متعدد شعبہ جات کی تعلیم شال ہے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پولیٹیکل سائنس میں سیاسیات ‘سیاست و پارلیمانی سٹڈیز’ عالمی تعلقات بارے تعلیم دی جارہی ہے۔ بی ایس کے علاوہ ایم اے’ ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری کروائی جارہی ہے۔ جی سی یونیورسٹی کے پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ڈاکٹر غلام مصطفی ہیں جو ایک معلم کے ساتھ ایک اچھے ریسرچ سکالر بھی مانے جارہے ہیں۔ اس وقت بھی وہ سوشل سائنسز کے تین ریسرچ پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں۔ اور ان کے تینوں ریسرچ پراجیکٹ ہی اچھوتے موضوعات اور ہمہ جہتی اثرات کی وجہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ پاک بنگلہ دیش تعلقات’ لاکل گورنمنٹ سسٹم میں پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی و کردار اور اقلیتوں کے فیملی قوانین کے حوالے سے ریسرچ پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جو یقینی طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر غلام مصطفی سے ”نیوز لائن” نے یونیورسٹی’ اعلیٰ تعلیم’ کوالٹی ایجوکیشن’ ریسرچ کلچر ‘ طلبہ کے رجحانات اور دیگر حوالوں سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔


انٹرویو : احمد یٰسین


جی سی یونیورسٹی فیصل آباد نے بہت مختصر عرصے میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ بطور یونیورسٹی اس ادارے کی تاریخ صرف سترہ سال کی ہے مگر اس مختصر عرصے میں ہی جی سی یو ایف نے اپنا وہ مقام بنا لیا ہے جو کئی ادارے دہائیوں میں حاصل نہیں کر پائے۔
سیاست اور سیاسی اصول کسی بھی معاشرے کا چہرہ دکھاتے ہیں۔ سیاست ضرور ہونی چاہئے مگر سیاست کے نام پر کھینچا تانی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی روش مناسب نہیں ہوتی۔ سیاست کو عوام کے مسائل کے حل اور جمہور کی آواز بنانے کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔ کھینچا تانی سے معاشروں اور اداروں کا نقصان ہوتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے۔


ہمارا معاشرہ دوہرے پن کا شکار ہے۔ لوگ اپنے لئے آسانیاں اور شارٹ کٹ کے خواہاں جبکہ دوسروں کیلئے سختی سے اصول اور قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ طبقاتی تقسیم ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہے اب تو طبقاتی تقسیم ہمارے ذہنوں میں در آئی ہے۔ طبقاتی تقسیم اور کلاس سسٹم کے خاتمے کیلئے کام کرنا سب کی ذمہ داری ہے اس کے بغیر معاشرے کو درست ڈگر پر نہیں لایا جا سکتا۔ تعلیمی اداروں اور اساتذہ پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نصاب کو بھی اس حوالے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ صرف اعلیٰ تعلیم کی سطح پر ہی نہیں بلکہ بنیادی تعلیم کی سطح پر بھی کلاس سسٹم اور طبقاتی معیارات کا خاتمہ ضروری ہے۔ ایک سسٹم اور ایک نصاب کے بغیر معاشرے سے طبقاتی تقسیم اور دوہرے پن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔یونیورسٹیوں ‘ کالجز اور دیگر تعلیمی مراکز کو طبقاتی تقسیم کا حصہ بننے سے گریز اور اساتذہ کو طبقاتی تقسیم کے خاتمے کیلئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے ۔
مباحثے اور باہمی تبادلہ خیال مسائل کے حل کی طرف بڑھنے اور ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کرنے کے رجحان کا باعث بنتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے مراکز میں مباحثے ہونے چاہئیں۔ تبادلہ خیالات کروانا چاہئے مگر اس کے ساتھ ہی طلبہ کو تبادلہ خیالات کے دوران دوسروں کی سوچ اور گفتگو کا احترام بھی سکھایا جا نا چاہئے۔ طلبہ کو” رٹے ”لگوانا کوئی تعلیم نہیں ۔ انہیں گفتگو کا فن’ اپنی بات کہنے اور دوسرے کے خیالات کا احترام کرنے کا فن سکھانا بھی استاد کی ذمہ داری ہے ۔اپنی بات کہنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کی بات سنی جائے اوران کے خیالات کا احترام کیا جائے۔ فتوے لگائے جانا اور دوسروں پر اپنے خیالات تھوپنا کوئی حل ہے نہ دلیل ۔ دلیل اور حوالوں کے ساتھ علمی انداز میں بحث سے ہی مسائل کے حل کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ طلبہ کی ذہن سازی ہوتی ہے۔ طلبہ کے ذہن میں مختلف معاملات کے حوالے سے سوال سامنے آتے ہیں۔ باہمی تبادلہ خیال سے ایک دوسرے کے خیالات سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور معاملات کی ذہنی سطح پر کھچڑی پکنے کی بجائے بہتری کے چانسز بڑھتے ہیں۔ ٹیچرز کو سوالات کا اوپن ماحول دینا چاہئے جتنے زیادہ طلبہ کو مواقع ملیں گے اتنا ہی ان میں اعتماد آئے گا اور اسی قدر وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آکر معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


کوالٹی ایجوکیشن ایک ہمہ جہتی معاملہ ہے۔ اس کیلئے اساتذہ ‘ ادارے اور سسٹم کا کردار اپنی جگہ مگر طلبہ کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارا طالب علم ڈگری کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ شارٹ کٹ کے ذریعے منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر یہ مجموعی طور پر کوالٹی ایجوکیشن کو متاثر کررہا ہے۔
طلبہ کو پڑھنے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ یہ تاثر کہ رٹے لگا کر اور نوٹس کی ”ون نائٹ سٹڈی ”پاس کروا دینے کیلئے کافی ہے’ ختم کرنا ہو گا۔ طلبہ بھی بتدریج سستی اور کاہلی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ طالب علم کتاب سے دور ہوتا جارہا ہے جو مجموعی طور پر تعلیمی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔ اس سلسلے کو روکنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ ہم نے اب اپنے ڈیپارٹمنٹ میں طلبہ کو کتاب کے مطالعے کی طرف راغب کرنا شروع کیا ہے۔ طلبہ کو نوٹس دینے کی بجائے کتب کے مطالعہ کی طرف لارہے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر طلبہ کو مشکل پیش آرہی ہے مگر مجموعی طور پر تعلیم کا معیار بلند ہوگا اور طلبہ کو بھی مستقبل میں اس کا بہت فائدہ ہوگا۔ بک ریڈنگ کے بغیر کوالٹی ایجوکیشن ممکن ہی نہیں ۔
ٹیچرز ٹریننگ بھی اپنی جگہ ایک اہم معاملہ ہے۔ ہمارے یہاں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر تو کسی نہ کسی حد تک ٹیچر ٹریننگ ہے مگر اعلیٰ تعلیم کی سطح پر ٹیچرز ٹریننگ کا تصور ہی نہیں ہے حالانکہ یونیورسٹیوں میں بھی اساتذہ کی ٹریننگ کروانے کا اہتمام ہونا چاہئے۔ٹیچرز کی ورکشاپس ہونی چاہئے۔
نصاب میں بھی برداشت اور سماج کے ساتھ چلنے کے اسباق شامل کئے جانے چاہئیں۔ پرائمری ہی نہیں سیکنڈری اور ہائیر لیول پر بھی نصاب کو بہتر بنانے کی گنجائش ہے ۔
یونیورسٹیاں تحقیق کے سنٹر ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹیوں میں ماضی میں اس معاملے کو نظر انداز رکھا گیا ہے۔ تاہم اب کسی حد تک بہتری آرہی ہے۔ ہم نے بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ریسرچ کا عمل بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ریسرچ کرنے والے طلبہ کو فری ہینڈ دینے اور سال کے آخر میں تھیسز جمع کروانے کا سلسلہ روک دیا ہے ۔ ریسرچ کرنے والے طلبہ کی ہر ماہ میٹنگ رکھی جارہی ہے اور ماہان بنیاد پر ان سے ریسرچ رپورٹ لی جارہی ہے ۔ سکالرز کو پابند بنایا ہے کہ ہر ماہ اپنے ریسرچ ڈویلپمنٹ سے آگاہ کریں۔ ریسرچ کا معیار بہتر بنانے کیلئے طلبہ کو فیلڈ میں بھجوا رہے ہیں۔ ان کو مسلسل مانیٹر کررہے ہیں۔ مواد چوری اور دیگر شارٹ کٹ راستوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ امید ہے آنیوالے وقت میں جی سی یونیورسٹی کے سکالر ز ریسرچ کے میدان میں کار ہائے نمایاں سرانجام دیں گے۔

Related posts